دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

(1)   اپنے والد کے دوست کی اولاد کے ساتھ حسن سلوک کرنا بھی والد کے ساتھ ہی حسن سلوک ہے ۔

(2)   حسن سلوک کے لیے کسی وقت کی قید نہیں بلکہ جب بھی موقع ملے حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے ۔

(3)   اپنی کوئی بھی ذاتی شے بھی کسی کو پیش کردینا حسن سلوک ہی کہلاتا ہے ۔

(4)   حسن سلوک فقط یہی نہیں ہے کہ کوئی اچھی چیز پیش کی جائے بلکہ اچھی نیت کے ساتھ اگر معمولی چیز بھی پیش کردی جائے تو بھی حسن سلوک ہی کہلائے گا ۔

(5)   کسی کو اپنا عمامہ یا سواری پیش کردینا بھی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سنت مبارکہ ہے ۔

(6)   صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اپنے والدین اور ان کے دوستوں کے ساتھ نہایت ہی حسن سلوک سے پیش آیا کرتے تھے ، ہمیں بھی ان کی سیرتِ طیبہ پر عمل کرنا چاہیے ۔

(7)   حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حُسنِ سلوک کے اعلی مرتبے پر فائز تھے ۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے والدین اور ان کے دوستوں کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے ۔                         

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 343                                                                                                             بعدِ وِصال والدَین سے نیکی کرنے کے طریقے

عَنْ اَبیِ اُسَيْدٍ مَالِكِ بْنِ رَبِيعَةَ السَّاعِدِيِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ :  بَيْنَا نَحْنُ جُلُوْسٌ عِنْدَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  اِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ فَقَالَ :  يَا رَسُوْلَ اللَّهِ  هَلْ بَقِيَ مِنْ بِرِّ اَبَوَيَّ شَيْءٌ اَبَرُّهُمَا بِهِ بَعْدَ مَوْتِهِمَا؟ فَقَالَ :  نَعَمْ !  الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا وَالْاِسْتِغْفَارُ لَهُمَا وَاِنْفَاذُ عَهْدِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا تُوْصَلُ  اِلَّا بِهِمَا وَاِكْرَامُ صَدِيْقِهِمَا. ( [1] )

ترجمہ : حضرت سیدناابواُسیدمالک بن ربیعہ سَاعِدِیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہم حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ بنوسلمہ قبیلے کا ایک شخص آیا اور پوچھا :  ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیامیرے والدین  کے مرنے کے بعدان سے بھلائی کرنے کی کوئی صورت ہے ؟  ‘‘   آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’ہاں !  ان کے لیے دعا کرنا ، ان کے لیے استغفار کرنا ، ان کے کیے ہوئے وعدے کو پوراکرنا ، اُن کے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنا اور ان کے دوستوں کی عزت کرنا ۔   ‘‘ 

بدری صحابیوں میں آخری صحابی  :

حضرت سیدنا ابواُسیدمالک بن ربیعہ سَاعِدِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اَنصاری صحابی ہیں آپ تمام غزوات میں حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ شریک رہے اور کثیرمحدثین نے آپ سے روایات نقل کی ہیں ، بصرہ جانے کے بعدساٹھ ۶۰ہجری میں اٹھتر 78سال کی عمر میں وصال فرماگئے ، آپ بدری صحابیوں میں سب سے آخرمیں  وفات پانے والے صحابی ہیں ۔ خود قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں بدری صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی عزت وعظمت کوبیان فرمایا گیا ہے ۔

والدین کی بے لوث خدمت کریں :

عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : اولادکوچاہیے کہ اپنے ماں ، باپ کے مرنے کے بعدان کے لیے دعا کرتی ر ہے اورانہوں نے جووصیت کی ہے اسے پوراکرے اوراگرکسی سے کوئی وعدہ کیا ہے تو اسے بھی پورا کرے اوربندوں کو یہ حکم دیاگیاہے کہ وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی کی عبادت کریں اور والدین کی فرمابرداری سے غیر کاارادہ نہ کریں ۔ اسی طرح جوشخص والدین کاخدمت گزارہے اس کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ ان دونوں کی خدمت سے مرتبے کا خواہش مندہومگر یہ کہ اس میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی رضا اوروالدین کی رضا ہواور نہ ہی ان کی خدمت کرنے سے ریاکاری کاشکارہوجائے کیونکہ اس حال میں ان کی خدمت کرناگناہ ہے ، اور ایسے شخص کی ریاکاری کوعنقریب اللہ عَزَّ  وَجَلَّظاہرفرمادے گااوریوں اس کا مرتبہ والدین کے دل سے گرجائے گا ۔ ‘‘ ( [2] )

بعد وِصال والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کاطریقہ :

مُفَسِّرشہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث پاک تحت فرماتے ہیں :  ’’ماں باپ کے انتقال کے بعدان سے بھلائی کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اولاد ہر نماز کے بعد اپنے والدین کے لیے دعا کرتی رہے ، ان کے نام پر صدقات و خیرات کرے ، ان کی طرف سے حج بدل کرے یا کسی اورسے کروائے ، ان کا تیجہ ، دسواں ، چالیسواں ، برسی کرے ۔ بعض لوگ اپنے والدین کی اچھی رسمیں باقی رکھتے ہیں ، اگر ماں باپ کسی تاریخ میں خیرات کرتے تھے یا میلاد شریف گیارھویں کرتے تھے تو وہ ہمیشہ  کرتے ہیں ، جس مسجد میں نماز پڑھتے تھے اس مسجد کو آبادکرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔   ‘‘  صلہ رحمی سے متعلق فرماتے ہیں :  ’’جن عزیزوں سے رشتہ صرف ماں یا باپ کی وجہ سے ہو دوسری وجہ سے نہ ہو ان سے اچھاسلوک کرنا کہ یہ میرے والدین کی خوشنودی کا ذریعہ ہے اس میں بھائی بہن ، چچا ماموں ، پھوپھی خالہ سب ہی داخل ہیں ۔ دوسرے یہ کہ ان کے ساتھ اس وجہ سے بھلائی کرے تاکہ والدین کی رضاحاصل ہو ، اپنا نام یاشہرت مقصودنہ ہوغرضیکہ ان عزیزوں کی اس وجہ سے خدمت کرے تاکہ والدین راضی ہوں جائیں اور والدین کی رضا میں اللہ ورسول کی رضا 



[1]     ابو داود ، کتاب الادب ، باب برالوالدین ، ۴ / ۴۳۴ ، حدیث : ۵۱۴۲ ۔

[2]     مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الآداب ، باب البروالصلۃ ، ۸ / ۶۶۹ ، تحت الحدیث : ۴۹۳۶ملخصًا ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن