30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
” تفسیر قرطبی “میں ہے : ’’عذاب یعنی دنیا میں ہلاکت اور آخرت میں جہنم میں ہمیشگی اُن کے لیے ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نبیوں کو جھٹلائے اور ایمان سے اِعراض کرے ۔ حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ یہ آیت مُوَحِّدِین کے لیے اُمید ہے کیونکہ انہوں نے نہ تو تکذیب کی اور نہ ایمان سے اِعراض کیا ۔ ‘‘ ( [1] )
( 4 ) اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے
فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍؕ- ( پ۹ ، الاعراف : ۱۵۶ ) ترجمۂ کنزالایمان : اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کایہ فرمان ہم گناہ گاروں کے لیے بہت ہی بڑا آسرا ہے ، اس نے فرمادیا ہے کہ اس کی رحمت بہت وسیع ہے اس میں بڑے بڑے گنہگاروں کی بخشش کا سامان ہے ۔ ” تفسیر روح البیان“میں ہے : ’’میری رحمت اور اس کی کیفیت یہ ہے کہ دنیا میں ہر شے یعنی مؤمن و کافر اور مکلف و غیر مکلف کو پہنچتی ہے ، دنیا میں ہر مؤمن و کافر پر رحمت الٰہی اور اس کی نعمتوں کے آثار نمایاں ہیں البتہ آخرت میں اہل ایمان کے ساتھ مخصوص ہے جیسا کہ اسی آیت میں ارشاد ہے کہ : ” تو عنقریب میں نعمتوں کو ان کے لیے لکھ دوں گا جو ڈرتے اور زکوۃ دیتے ہیں اور وہ ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں ۔ “ ( [2] )
برائیوں پہ پشیماں ہوں رحم فرمادے ……… ہے تیرے قہر پہ حاوی تری عطا یارب
نہیں ہے نامہ ٔ عطار میں کوئی نیکی ……… فقط ہے تیری ہی رحمت کا آسرا یارب
” تفسیر قرطبی“ میں ہے : ” اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے ، اس آیت میں عموم ہے ۔ یعنی رحمتِ الٰہی کی کوئی انتہاء نہیں جو بھی اس میں داخل ہوجائے وہ کم نہیں ہوسکتی ۔ ایک قول یہ ہے کہ مخلوق میں سے ہر شے کو اس کی رحمت گھیرے ہوئے ہے حتی کہ چوپائے بھی ۔ بعض مفسرین کہتے ہیں اس آیت کی وجہ سے ہر چیز نے رحمتِ الٰہی کی امید کی حتی کہ شیطان نے بھی رحمت کی امید کی ، اس نے کہا کہ میں بھی شے ہوں ، تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ( اسی آیت میں ) فرمایا : ” عنقریب میں نعمتوں کو اُن کے لیے لکھ دوں گا جو ڈرتے ہیں ۔ “ تو یہود و نصاری نے کہا : ’’ہم بھی ڈرتے ہیں ۔ ‘‘ پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ( اگلی آیت میں ) فرمایا : ” وہ جو غلامی کریں گے اس رسول بے پڑھے غیب کی خبریں دینے والے کی ۔ “پس اب یہ آیت کے عموم سے نکل گئے ۔ حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی رحمت اِس اُمت کے لیے لکھ دی ہے ۔ ‘‘ ( [3] )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 412 ایمان والا جنت میں جائے گا
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ مَنْ شَهِدَ اَنْ لَّا اِلَهَ اِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَاَنَّ عِيسَى عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ وَكَلِمَتُهُ اَلْقَاهَا اِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ اَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ مِنَ الْعَمَلِ. ( [4] ) وَ فِی رِوَایَۃٍ لِمُسْلِم : مَنْ شَهِدَ اَنْ لَّا اِلَهَ اِلَّا اللهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ النَّارَ. ( [5] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا عُبادَہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ” جس نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ ایک ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، محمد ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندے اور رسول ہیں ، حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندے ، اس کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں جو اس نے حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی طرف ڈالا اور اس کی طرف سے روح ہیں ۔ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے ، تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے جنت میں داخل فرمائے گا اس کے عمل جیسے بھی ہوں ۔ “مسلم شریف کی ایک روایت میں یوں ہے : ’’جو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول ہیں ، تواللہ عَزَّوَجَلَّ اُس پر آگ ( یعنی جہنم ) کو حرام فرما دے گا ۔ ‘‘
مذکورہ حدیث کی باب سے مناسبت :
مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ جو اللہ عَزَّوَجَلَّ ، اس کے رسول ، حشر و نشر اور جنت و دوزخ پر ایمان رکھتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُسے جنت میں داخل فرمائے گا خواہ اُس کے
[1] تفسیر قرطبی ، پ۱۶ ، طہ ، تحت الآیۃ : ۴۸ ، ۶ / ۱۰۰ ، الجزء الحادی عشر ۔
[2] تفسیر روح البیان ، پ۹ ، الاعراف ، تحت الآیۃ : ۱۵۶ ، ۳ / ۲۵۱ ۔
[3] تفسیر قرطبی ، پ۹ ، الاعراف ، تحت الآیۃ : ۱۵۶ ، ۴ / ۲۱۳ ، الجزء السابع ۔
[4] بخاری ، کتاب احادیث الانبیاء ، باب قولہ : یا اھل الکتاب لا تغلو فی دینکم ، ۲ / ۴۵۵ ، حدیث : ۳۴۳۵ ۔
[5] مسلم ، کتاب الایمان ، باب الدلیل علی ان من مات علی التوحید دخل الجنۃ قطعا ، ص۳۶ ، حدیث : ۲۹ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع