30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ) ( پ۱۶ ، مریم : ۶۰ ) ترجمۂ کنزالایمان : ’’ مگر جو تائب ہوئے اور ایمان لائے اور اچھے کام کئے ۔ ‘‘ پھر وحشی نے کہا : ’’یہ بہت سخت شرط ہے شاید میں اس شرط کو پورا نہ کرسکوں اس کے علاوہ کوئی صورت ہے ؟ ‘‘ تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے یہ آیت نازل فرمائی : ( اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ-) ( پ۵ ، النساء : ۴۸ ) ترجمۂ کنزالایمان : ’’بے شکاللہاسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیاجائے اور کفرسے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے ۔ ‘‘ تو وحشی نے کہا : ’’ میں نہیں جانتا کہ وہ مجھے بخشے گا یا نہیں ۔ ‘‘ پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مذکورہ آیت نازل فرمائی جس میں رحمتِ الٰہی سے مایوسی کی ممانعت کا بیان ہے ۔ تو وحشی نے کہا : ” ہاں اب ٹھیک ہے ۔ “ پھر وہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور ایمان لے آئے ۔ “ ( [1] )
حضرت سَیِّدُنَا وحشی کون تھے ؟
حضرت سَیِّدُنَا وحشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ وہی صحابی ہیں جنہوں نے اسلام لانے سے قبل جنگ بدر میں حضور نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چچا حضرت سَیِّدُنَاحمزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو شہید کیا تھا ، بعد میں جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اسلام لے آئے اور بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تو حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں اپنے سامنے آنے سے منع فرمادیا تھا ، کیونکہ انہیں دیکھ کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنے چچا یاد آجایا کرتے تھے ۔ یقیناً حضرت سیدنا وحشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے لیے یہ ایک نہایت ہی دشوار اور تکلیف دہ امر تھا ۔ امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے عہد خلافت میں کفار ومرتدین کے خلاف لڑی جانے والی جنگوں میں سے ایک اہم جنگ ’’جنگ یمامہ ‘‘ بھی ہے جو نبوت کے جھوٹے دعویدار ’’مسیلمہ کذاب ‘‘ اور اس کے متبعین کے خلاف لڑی گئی ، اس جنگ میں مسلمانوں کو بھی کثیر حفاظ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی شہادت کے سبب بڑا نقصان اٹھانا پڑا ۔ اس جنگ میں حضرت سَیِّدُنَا وحشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبھی شریک ہوئے اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو یہ سعادت حاصل ہوئی کہ نبوت کا جھوٹا دعویدار ’’مسیلمہ کذاب ‘‘ آپ ہی کے ہاتھوں واصل جہنم ہوا ۔ مسیلمہ کذاب کو قتل کرنے کے بعد سَیِّدُنَاوحشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرمایا کرتے تھے : ’’اگر میں نے ( اسلام لانے سے قبل ) خَیْرُ النَّاس ( یعنی حضرت سَیِّدُنَا حمزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) کو شہید کیا ہے تو ( اسلام لانے کے بعد ) شَرُّالنَّاس ( یعنی مسیلمہ کذاب ) کو بھی قتل کیا ہے ۔ ‘‘ ( [2] )
فرمانِ باری تعالی ہے :
وَ هَلْ نُجٰزِیْۤ اِلَّا الْكَفُوْرَ(۱۷) ( پ۲۲ ، سبا : ۱۷ ) ترجمۂ کنزالایمان : اور ہم کسے سزا دیتے ہیں اسی کو جو نا شکرا ہے ۔
مذکورہ آیت میں اس بات کا بیان ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ناشکروں کو ہی سزا دیتا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ جو مسلمان اس کا شکر ادا کریں انہیں سزا نہ ملنے کی امید ہے ۔ چنانچہ ” روح البیان“میں ہے : ’’ یعنی ہم ایسی سزا صرف اُسی کو دیتے ہیں جو ناشکری میں حد سے گزر جاتا ہے ۔ اس آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ شکر گزار مؤمن اپنے شکر کی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ظاہری اور باطنی نعمتوں کو پالیتا ہے جیسے یقین ، تقویٰ ، صدق ، اخلاص ، توکل ، اچھے اخلاق وغیرہ اور ناشکرا انسان اپنی ناشکری کی وجہ سے اِن نعمتوں کو کھو دیتا ہے ۔ ‘‘ ( [3] ) ” دلیل الفالحین“ میں ہے : ’’اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مؤمنوں کو اُن کے شرفِ ایمان کی وجہ سے اس طرح سزا نہیں دی جائے گی ( یعنی اس میں ایک طرح سے مسلمانوں کے لیے بخشش کی امید ہے ) ۔ ‘‘ ( [4] )
فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى(۴۸) ( پ۱۶ ، طہ : ۴۸ )
ترجمۂ کنزالایمان : بے شک ہماری طرف وحی ہوئی ہے کہ عذاب اس پر ہے جو جھٹلائے اور منہ پھیرے ۔
اس آیت میں بھی مسلمانوں کے لیے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب سے بچنے کی امید ہے کہ جو شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دِین کی تصدیق کرے اور اس سے اِعراض نہ کرے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا عذاب اس کے لیے نہیں ہے بلکہ عذابِ الٰہی کا وہی مستحق ہے جو دین کو جھٹلائے اور اُس سے اِعراض کرے ۔ چنانچہاِمَام فَخْرُ الدِّیْن رَازِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ’’جان لو بے شک یہ آیت اس بات کی مضبوط ترین دلیلوں میں سے ایک دلیل ہے کہ مؤمن کو ہمیشہ عذاب نہیں ہوگا کیونکہ آیت میں عذاب پر الف لام داخل ہے جو کہ یا تو استغراق کا ہے یا پھر ماہیت کا اور دونوں صورتوں میں اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ عذاب اسی کو ہوگا جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دین کوجھٹلائے اور اَعراض کرے تو ضروری ہوا کہ جو تکذیب و اِعراض نہ کرے اُسے عذاب نہ ہواور اِس آیت کا ظاہر اِس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ بعض اوقات اللہ عَزَّ وَجَلَّ کسی مسلمان کو ترکِ عمل پر عذاب نہیں دے گا ۔ ‘‘ ( [5] )
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع