30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂ کنزالایمان : اور باقی رہنے والی اچھی باتیں اُن کا ثواب تمہارے رب کے یہاں بہتراور وہ امید میں سب سے بھلی ۔ ( [1] )
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’اس فرمان عالی میں اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے :
اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَؕ ( پ۱۱ ، التوبۃ : ۱۱۱ )
ترجمۂ کنزالایمان : بے شک اللہنے مسلمانوں سے ان کے مال اور جان خرید لیے ہیں اس بدلے پر کہ ان کے لیے جنت ہے ۔
جنت سودا ہے ، ربّ تعالیٰ فروخت فرمانے والا ہے ، ہم خریدار ہیں ، ہمارے مال و جان اس سودے کی قیمت ہے ، اس کا عکس یہ ہے کہ اللہ تَعَالٰی خریدار ہے ، ہمارے جان و مال سودے ہیں ، جنت اس کی قیمت ہے ، اگر جان دے کر بھی یہ سودا مل جاوے تو سستا ہے مگر ہمارا حال یہ ہے :
| وہ تو نہایت سستا سودا بیچ رہے ہیں جنت کا | ……… | ہم مفلس کیا مول چکائیں ہاتھ ہی اپنا خالی ہے |
اللہتعالیٰ ہم محتاجوں کو اپنے محبوب کے نام کی خیرات دیدے فقیروں بھکاریوں سے قیمت نہیں مانگی جاتی اس پر ہر کرم کریمانہ ہوتا ہے ۔ ‘‘ ( [2] )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اس دنیا میں ہم سب مسافر ہیں ، اس لیے ہمیں ایک مسافر کی طرح زندگی گزارنی چاہیے ۔ مسافر اپنے مال و متاع کے بارے میں غفلت نہیں برتتا ، بلکہ ہر وقت ڈاکوؤں اور راہزنوں سے ہوشیار رہتا ہے ۔ بالکل اسی طرح ہم راہِ آخرت کے مسافر ہیں تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بس اپنی آنے والی منزل کی فکر کریں اس کے بارے میں سوچیں اور اس کی تیاری کریں اور اپنی سب سے قیمتی دولت یعنی ایمان کو شیطان اور اس کے چیلوں سے بچائیں کیونکہ اگر ہم نے ذرا بھی غفلت برتی تو یہ شیطان اور اس کے چیلے ہمارا ایمان لوٹ لیں گے اور پھر ہمارے پاس کچھ نہ ہوگا سوائے پچھتاوے کے ۔ کیونکہ آخرت کی منزل کو وہی پائے گا جس کے پاس ایمان ہوگا اور جنت میں بھی اسی کو داخلہ ملے گا جو صاحبِ ایمان ہوگا ۔ جسے رب تعالیٰ کی رضا حاصل ہوگی ۔ ہمارے اسلاف بھی ہمیشہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو راضی کرنے میں ہی لگے رہتے تھے ۔ چنانچہ ،
مروی ہے کہ حضرت سیدتنا رابعہ بصریہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کا معمول تھا کہ جب رات ہوتی اور سب لوگ سو جاتے تو اپنے آپ سے مخاطب ہو کر کہتیں : ’’اے رابعہ ! ہوسکتا ہے یہ تیری زندگی کی آخری رات ہو ، ہو سکتا ہے کہ تجھے کل کا سورج دیکھنا نصیب نہ ہو چنانچہ اٹھ اور اپنے رب تعالیٰ کی عبادت کر لے تاکہ کل قیامت میں تجھے ندامت کا سامنا نہ کرنا پڑے ، ہمت کر ، سونا مت ، جاگ کر اپنے رب کی عبادت کر ۔ ‘‘
یہ کہنے کے بعد آپ اٹھ کھڑی ہوتیں اور صبح تک نوافل ادا کرتی رہتیں ۔ جب فجر کی نماز ادا کر لیتیں تو اپنے آپ کو دوبارہ مخاطب کر کے فرماتیں : ’’اے میرے نفس ! تجھے مبارک ہو کہ گذشتہ رات تونے بڑی مشقت اٹھائی لیکن یاد رکھ کہ یہ دن تیری زندگی کا آخری دن ہو سکتا ہے ۔ ‘‘ یہ کہہ کر پھر عبادت میں مشغول ہو جاتیں اور جب نیند کا غلبہ ہوتا تو اُٹھ کر گھر میں ٹہلنا شروع کر دیتیں اور ساتھ ساتھ خود سے فرماتی جاتیں : ’’رابعہ ! یہ بھی کوئی نیند ہے ، اس کا کیا لطف؟ اسے چھوڑ دو اور قبر میں مزے سے لمبی مدت کے لئے سوتی رہنا ، آج تو تجھے زیادہ نیند نہیں آئی لیکن آنے والی رات میں نیند خوب آئے گی ، ہمت کرو اور اپنے رب کو راضی کر لو ۔ ‘‘ اس طرح کرتے کرتے آپ نے پچاس 50سال گزار ديے کہ آپ نہ تو کبھی بستر پر دراز ہوئیں اور نہ ہی کبھی تکیہ پر سر رکھا یہاں تک کہ آپ انتقال کر گئیں ۔ ( [3] )
اندھیری قبر کا دل سے نہیں نکلتا ڈر ……… کروں گا کیا جو تو ناراض ہوگیا یارب
گناہگار ہوں میں لائق جہنم ہوں ……… کرم سے بخش دے مجھ کو نہ دے سزا یارب
رہائی مجھ کو ملے کاش نفس وشیطاں سے ……… ترے حبیب کا دیتا ہوں واسطہ یارب
میں کرکے توبہ پلٹ کر گناہ کرتا ہوں ……… حقیقی توبہ کا کردے شرف عطا یارب
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔ آمین
مدنی گلدستہ
’’فکرآخرت ‘‘ کے 7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول
(1) جسے حقیقی خوف خدا نصیب ہوجاتا ہے وہ رب تعالیٰ کی اِطاعت میں لگ جاتا ہے ۔
(2) جو شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت میں لگ جاتا ہے وہ حقیقی طور پر کامیاب ہوجاتا ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع