30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سیدنا عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے اسے سلام کیا ، اپنی سواری کا گدھا اور اپنے سر سے عمامہ اتار کراسے عطاکردیا ۔ سیدنا عبداللہ بن دینار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ہم نے ان سے کہا : اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کا بھلا فرمائے ، یہ دیہاتی لوگ تھوڑے سی چیز پربھی راضی ہوجاتے ہیں ۔ سیدنا عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا : ’’اس کا باپ میرے والدحضرت سیدناعمربن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کادوست تھااورمیں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کویہ فرماتے ہوئے سناہے کہ ’’سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے والدکے دوستوں کے ساتھ نیکی کرے ۔ ‘‘ ایک روایت میں ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا ابنِ دیناررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : جب حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا مکہ مکرمہ کی طرف جاتے توان کے ساتھ ایک گدھا ہوتا جب اونٹ کی سواری سے اکتا جاتے تواس پر سوارہوجاتے اورایک عمامہ تھا جسے سر پر باندھتے ، ایک دن آپ گدھے پرجارہے تھے کہ ایک دیہاتی شخص آپ کے پاس سے گزرا توآپ نے اس سے فرمایا : ’’کیاتم فلاں بن فلاں کے بیٹے نہیں ہو؟ ‘‘ اس نے کہا : جی ہاں ، میں وہی ہوں ۔ چنانچہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسے اپنا گدھا دیا اور فرمایا : ’’اس پرسوارہوجاؤ ۔ ‘‘ اور اپناعمامہ دے کر فرمایا : ’’اسے اپنے سرپرباندھ لو ۔ ‘‘ آپ کے بعض ساتھیوں نے کہا : اللہ عَزَّ وَجَلَّآپ کی مغفرت فرمائے ، آپ نے اس دیہاتی کو وہ گدھا دے دیا جس پر آپ خود سوار ہوتے تھے اور وہ عمامہ دے دیاجسے آپ خود اپنے سرپر باندھتے تھے ۔ ‘‘ آپ نے فرمایا : ’’میں نے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کویہ فرماتے ہوئے سناہے کہ ’’سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ باپ کے انتقال کے بعداس کے دوستوں سے نیکی کی جائے اور اس دیہاتی شخص کاباپ میرے والد حضرت سیدنا عمربن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکادوست تھا ۔ ‘‘
والدین کے دوستوں سے حسن سلوک کی وجہ :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! یہ ایک فطری بات ہے کہ بندہ اپنے جن دوستوں سے ملتا جلتا ہے ان کے بارے میں یہی ذہن رکھتا ہے کہ میری اولاد بھی ان کے ساتھ ویسے ہی ملنا جلنا رکھے جیسا کہ میں رکھتا ہوں ، ان کے ساتھ ویسے ہی اچھی طریقے سے پیش آئے جیسے میں پیش آتا ہوں اور اگر اولاد اپنے والدین کے دوستوں کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آئے تو یہ ان کی قلبی راحت اور خوشی کا باعث ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ والدین کے وصال کے بعد ان کے حقوق میں سے ایک حق یہ بھی بیان فرمایا گیا کہ والدین کے دوستوں کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آنا چاہیے کیونکہ جیسے ان کی حیات میں ان کے دوستوں کے ساتھ حُسنِ سلوک کرنے سے انہیں خوشی اور راحت ملتی تھی ویسے ہی جب ان کی وفات کے بعد ان کے دوستوں کے ساتھ حُسنِ سلوک کریں تو بھی انہیں خوشی اورراحت نصیب ہوگی ۔
حُسنِ سلوک کے اعلیٰ درجے پر فائز :
واضح رہے کہ حدیث پاک میں فقط یہ بیان فرمایا گیا کہ ’’سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ والد کے دوستوں کے ساتھ نیکی کی جائے ۔ ‘‘ یہاں والد کے دوستوں کے دوست یا دوست کی اولاد کا تذکرہ نہیں فرمایا گیا لیکن ہم نے دیکھا کہ صحابی رسول حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے والد گرامی امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دوست کی اولاد کے ساتھ نیکی کی ۔ کیونکہ دوست کی اولاد کے ساتھ نیکی کرنا دوست کی خوشی کا باعث ہے اور اور والد کے دوست کی خوشی والد کی خوشی کا باعث ہے ۔ یقیناً حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حُسنِ سلوک کے اعلیٰ درجے پر فائز تھے اور کیوں نہ ہوتے کہ آپ نے یہ مدنی تربیت اپنے والد گرامی امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ہی حاصل کی تھی ۔ سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ وہ سچے پکے عاشقِ رسول تھے جو تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بلکہ تمام مسلمانوں کے ساتھ نہایت ہی حسن سلوک کے ساتھ پیش آیا کرتے تھے ، تمام مسلمانوں کے جملہ حقوق کا خیال رکھا کرتے تھے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کبھی کسی کو کوئی تکلیف نہ دی ، کبھی کسی کا کوئی حق تلف نہ ہونے دیا ، نیز ہرشخص کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آنا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی مبارک عادات میں شامل تھا ، اور عموماً والدین کے اوصاف ان کی اولاد میں بھی پائے جاتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بیٹے اور جلیل القدر صحابی حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی حُسنِ اَخلاق کے پیکر تھے ۔
حُسنِ سلوک کے متعلق تین فرامینِ مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم : ( 1 ) ” ہر حسن سلوک صدقہ ہے غنی کے ساتھ ہو یا فقیر کے ساتھ ۔ “ ( [1] ) ( 2 ) ’’دعا ہی تقدیر کو ٹال سکتی ہے اور نیک سلوک ہی عمر میں اضافہ کرتاہے ۔ ‘‘ ( [2] ) ( 3 ) ’’جسے یہ پسند ہوکہ اس کی عمر اور رزق میں اضا فہ کردیاجائے تواسے چاہیئے کہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے اور اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کیا کرے ۔ ‘‘ ( [3] ) ( 4 ) ’’جو اپنے والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتاہے اس کے لئے خوشخبری ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی عمر میں اضافہ کردیتاہے ۔ ‘‘ ( [4] )
مدنی گلدستہ
جنت کے 8 دروازوں کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ
اور ان کی وضاحت سے ملنے والے 8مدنی پھول
(1) اپنے والد کے دوست کے ساتھ حسن سلوک کرنا بھی والد کے ساتھ ہی حسن سلوک ہے ۔
[1] مجمع الزوائد ، کتاب الزکاۃ ، باب کل معروف صدقۃ ، ۳ / ۳۳۱ ، حدیث : ۴۷۵۴ ۔
[2] ترمذی ، کتا ب القد ر ، باب ماجاء لایر د القدرالا الدعا ء ، ۴ / ۵۵ ، حدیث : ۲۱۴۶ ۔
[3] مسند امام احمد ، مسند انس بن مالک ، ۴ / ۵۳۰ ، حدیث : ۱۳۸۱۲
[4] مستدرک حاکم ، کتاب البر والصلۃ ، باب من بر والدیہ زاد اللہ فی عمرہ ، ۵ / ۲۱۳ ، حدیث : ۷۳۳۹ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع