30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قیامت تو اپنے وقت پرآوے گی ، اس سے پہلے بہت سی علامات ہوں گی : خروجِ دجال ، نزولِ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام وغیرہ ۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے آندھی بادل آنے پر سرکار ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) پر خوف کے آثار ظاہر ہوجاتے تھے ہیبت الٰہی کی وجہ سے ۔ اس لیے نہیں کہ عذاب الٰہی آنے کا اندیشہ ہے ، رب تعالیٰ وعدہ فرماچکا ہے کہ
وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْؕ- ( پ۹ ، الانفال : ۳۳ )
ترجمۂ کنزالایمان : اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب تم ان میں تشریف فرما ہو ۔ ( [1] )
” مرقاۃ “میں ہے : ” علامہ قاضی عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ میری زندگی خوشگوار کیسے ہو ؟حالانکہ عنقریب صور پھونکا جانے والا ہے ۔ یہ اس بات سے کنایہ ہے کہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کو اپنے منہ میں لے لیا ہے اور وہ اِس انتظار میں ہے کہ اُسے حکم دیا جائے اور وہ صور پھونکے ۔ ‘‘ ( [2] )
صورکب اور کس طرح پھونکا جائے گا؟
صور کب پھونکا جائے گا؟ یہ تو اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی جانتا ہے یا پھر اُس کے بتائے سے اُس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جانتے ہیں لیکن قیامت کی نشانیاں جو احادیث میں بیان کی گئی ہیں جب وہ تمام نشانیاں پوری ہوجائیں گی تو قیامت قائم ہونے سے چالیس سال پہلے تمام مسلمان فوت ہوجائیں گے ، پھر صور پھونکا جائے گا جیسا کہ بہارِ شریعت میں ہے : ” جب ( قیامت کی ) نشانیاں پوری ہو لیں گی اور مسلمانوں کی بغلوں کے نیچے سے وہ خوشبودار ہوا گزرلے گی جس سے تمام مسلمانوں کی وفات ہو جائے گی ، اس کے بعدپھر چالیس برس کا زمانہ ایسا گزرے گا کہ اس میں کسی کے اولاد نہ ہو گی ، یعنی چالیس برس سے کم عُمر کا کو ئی نہ رہے گا اور دنیا میں کافر ہی کافر ہوں گے ۔ ﷲ کہنے والا کوئی نہ ہوگا ، کوئی اپنی دیوار لیستا ( پلستر کرتا ) ہوگا ، کوئی کھانا کھاتا ہوگا ، غرض لوگ اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوں گے کہ دفعۃً ( اچانک ) حضرت اسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام کو صُور پھو نکنے کا حکم ہوگا ، شروع شروع اس کی آواز بہت باریک ہوگی اور رفتہ رفتہ بہت بلند ہو جائے گی ، لوگ کان لگا کر اس کی آواز سنیں گے اور بے ہوش ہو کر گِر پڑیں گے اور مر جائیں گے ، آسمان ، زمین ، پہاڑ ، یہاں تک کہ صُور اور اسرافیل اور تمام ملائکہ فَنا ہو جائیں گے ، اُس وقت سوا اُس واحدِ حقیقی کے کوئی نہ ہوگا ، وہ فرمائے گا : ( لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَؕ ) ( پ۲۴ ، المومن : ۱۶ ) آج کس کی بادشاہت ہے ؟ کہاں ہیں جَبّارین؟ کہاں ہیں متکبرین؟مگرہے کون جو جواب دے ، پھر خود ہی فرمائے گا : ( لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ(۱۶)) ( پ۲۴ ، المومن : ۱۶ ) صرف اللہ واحد قہار کی سلطنت ہے ۔ ‘‘ ( [3] )
مشکلات میں پڑھے جانے والے بابرکت کلمات :
حدیثِ مذکور کے آخر میں اس بات کا بیان ہے کہ سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو ایک کلمہ پڑھنے کی ترغیب دی کہ یہ کلمہ پڑھیں ، اس کلمہ کی بڑی برکتیں ہیں ، ہمیں بھی ہر مشکل و مصیبت میں اس کلمے کا وِرد کرتے رہنا چاہیے ۔ مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتْ مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’خیال رہے کہ یہ کلمات بڑے مبارک ہیں ۔ جب حضرت خلیلُ اللہ ( عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ) نمرود کی آگ میں جارہے تھے تو آپ کی زبان شریف پر یہ ہی کلمات تھے اور جب صحابہ کرام ( عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ) کو خبر پہنچی کہ کفار ہمارے مقابلے کے لیے بڑی تعداد میں جمع ہوئے ہیں تو انہوں نے بھی یہ ہی کلمات کہے ۔ یہ کلمات مصیبتوں تکلیفوں میں بہت ہی کام آتے ہیں ۔ ہر مصیبت میں یہ کلمات پڑھنے چاہییں ۔ ‘‘ ( [4] )
رسولُ اللہکی اُمَّت پر شفقت ومحبت :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میں جہاں قُربِ قیامت ، حضرت سیدنا اسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام کے صور پھونکے جانے کا ذکر ہے وہیں اس بات کا بھی بیان ہے کہ حضور نبی رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی اُمَّت پر کتنے شفیق اور مہربان ہیں ، آپ کواپنی ذات کے لیے قیامت کا کوئی خوف نہیں ہے مگر اپنی امت کے لیے فکر مند ہیں ، آپ کو تو کل بروزِقیامت کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں ہوگا مگر آپ اپنی امت کی پریشانیوں کو لے کر فکر مند ہیں ۔ کاش ! ہم امتی بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پسند پر اپنی پسند کو قربان کردیں اوریہی خواہش ہو کہ کاش ! میرا مال ، میری جان محبوبِ رحمٰن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آن پر قربان ہو جائے ، اُن سے نسبت رکھنے والی ہر چیز دلعزیز ہو ، جو خوش بخت ایسی زندگی گزارنے میں کامیاب ہو گیاتواللہ تبارک وتعالیٰ اُس کے لئے دُنیا مسخر اور مخلوق کو اُس کے تابع کر دے گا ، آسمانوں میں اُس کے چرچے ہوں گے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ خدا و مصطفے ٰ کا محبوب بن جائے گا ۔
وہ کہ اُس در کاہوا خلقِ خدا اُس کی ہوئی ……… وہ کہ اُس در سے پھرا اللہ اُس سے پِھر گیا
مدنی گلدستہ
’’ نبی کریم ‘‘ کے 7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع