30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوسرا نسخہ اس حدیث پاک میں ہی بیان فرمایا گیا ہے کہ جب کسی جگہ تنہائی میں گناہ کرنے کا وسوسہ نفس وشیطان کی طرف سے ذہن میں آئے تو بندہ فوراً یہ مدنی ذہن بنائے کہ اگرچہ اس جگہ کوئی موجود نہیں ہے اور کوئی مجھے نہیں دیکھ رہا لیکن جس جگہ میں گناہ کرنے کا ارادہ کررہا ہوں کل بروزِ قیامت یہ جگہ تو میرے حق میں یا میرے خلاف رب تعالیٰ کی بارگاہ میں گواہی دے سکتی ہے اور اگر خدانخواستہ اس جگہ نے میرے خلاف ربّ تعالیٰ کی بارگاہ میں گواہی دی کہ ’’اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! اس شخص نے مجھ پر فلاں وقت میں فلاں گناہ کیا تھا ۔ ‘‘ تو میرا کیا بنے گا؟یقیناً جب سب کے سامنے میرے گناہ کی گواہی دی جائے گی تو شدید ذِلت ورسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
مدنی گلدستہ
’’کریم ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1) کل بروزِ قیامت زمین بھی ہمارے مختلف اعمال کی گواہی دے گی ۔
(2) اللہ عَزَّوَجَلَّ کل بروز قیامت زمین کو قوتِ گویائی عطا فرمائے گا اور پھر وہ گواہی دے گی ۔
(3) سمندر یا فضا میں کیے جانے والے اعمال کی بھی زمین گواہی دے گی کیونکہ یہ سب زمین کی پیٹھ پر ہیں ۔
(4) زمین کو بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حواس عطا فرمائے ہیں کہ وہ ہر عمل کرنے والے اور اس کے مختلف اعمال کو بھی پہچانتی ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیکیاں کرنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر 409 صور پھونکنے والا فرشتہ تیار ہے
عَنْ اَبِي سَعِيْدِ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ اَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدْ اِلْتَقَمَ الْقَرْنَ وَاسْتَمَعَ الْاِذْنَ مَتٰى يُؤْمَرُ بِالنَّفْخِ فَيَنْفُخُ فَكَاَنَّ ذٰلِكَ ثَقُلَ عَلَى اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمْ : قُوْلُوْا : (حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الوَكِيْلُ). ( [1] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروی ہے کہ سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’میں کس طرح خوش ہوں حالانکہ صور پھونکنے والا فرشتہ صور منہ میں لیے کان لگائے بیٹھا ہے کہ کب اسے صور پھونکنے کا حکم ہو اور وہ صور پھونکے ۔ ‘‘ یہ بات صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان پر گراں گزری تو اللہ1کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُن سے ارشاد فرمایا : ’’ تم کہو ! ہمیں اللہ ہی کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کارساز ہے ۔ ‘‘
حدیثِ مذکور میں سرکارِ مدینہ راحتِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہم لوگوں کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنے کی ترغیب دلارہے ہیں کہ صور پھونکنے والا فرشتہ یعنی حضرت اسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام بالکل مستعد ہیں اور حکمِ خدا وندی کے منتظر ہیں بس اشارہ ملنے کی دیر ہے ۔ جیسے ہی حکم ملا فوراً تکمیل کریں گے اور صور پھونک دیں گے اور قیامت برپا ہوجائے گی ۔ لہٰذا تم لوگ ایک لمحے کے لیے بھی غافل نہ ہونا اور نیکیوں میں لگے رہنا اور گناہوں سے دور رہنا ۔
حضور کی نظریں سب کچھ دیکھتی ہیں :
مذکورہ حدیث پاک میں ہے کہ حضور نبی کریم ، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صور پھونکنے والے فرشتے کی حالت کو بیان فرمایا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضور نبی رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نگاہیں سب کچھ ملاحظہ فرمارہی ہیں ۔ چنانچہمُفَسِّر شہِیر ، حَکِیْمُ الْاُمَّتْ مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’میں دیکھ رہا ہوں کہ حضرت اسرافیل منہ میں صور لیے عرش اعظم کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ کب پھونکنے کا حکم ملے اور میں بلا تاخیر صور پھونک دوں ، جب میری آنکھیں یہ نظارہ کر رہی ہیں تو میرے دل کو چین و خوشی کیسے ہو ، ادھر خوف لگا ہوا ہے ۔ معلوم ہوا کہ حضور کی نظریں سب کچھ دیکھتی ہیں ۔ ‘‘ ( [2] )
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا ……… جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! دیکھا آپ نے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیسا خوفِ خدا رکھنے والے ہیں ۔ حالانکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سید المعصومین ہیں ۔ یہ جنت اور جنت کی تمام نعمتیں بلکہ پوری کائنات آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی کے لیے بنائی گئی ہے ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مالک جنت ہیں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تو جنت کے سب سے اعلی ترین مقام میں ہوں گے لیکن خوفِ خدا کا یہ عالم ہے کہ فرمارہے ہیں : ” میں کس طرح خوش ہوں ۔ “ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمان خوفِ خدا کے اظہار کے لیے تھا نہ کہ قیامت کے آنے کے اندیشے کی وجہ سے کیونکہ قیامت سے پہلے بہت سی علامات ظاہر ہوں گی پھر قیامت آئے گی ۔ چنانچہمُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتْ مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’خیال رہے کہ یہ فرمان عالی اظہار ِ خوف و خشیت کے لیے ہے ، اس لیے نہیں کہ ابھی صور پھونک جانے ، قیامت آجانے کا اندیشہ ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع