دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

کرنے والے بہت سے لوگوں کے لئے قیامت کے دن جہنم ہوگی ۔ ‘‘ ( [1] )

اپنے مال کو اچھی جگہوں میں خرچ کیجئے :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! یقیناً کسی بھی شے کا صحیح استعمال اس کی اہمیت وافادیت کو مزید روشن کرتا ہے ،  لہٰذا اپنی حق حلال کی کمائی کو اچھی جگہوں پر خرچ کرنا چاہیے ، تاکہ اس سے دنیا وآخرت میں فائدہ ہو ۔ جس مال کو دنیا میں اچھی جگہوں پر خرچ کیا ہوگا کل بروز قیامت وہ مال اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نجات کا باعث ہوگا ۔  ……٭ اپنے حلال مال کو خرچ کرنے کی بہت سی اچھی جگہوں کی نشاندہی قرآن واحادیث وکتب فقہ میں علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے بیان فرمائی گئی ہے ۔  چند مقامات کی وضاحت پیش خدمت ہے :  

 ( 1 ) اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی اطاعت وفرمانبردای ، عبادت پر قوت پانے اور مزید رزق حلال کمانے کی اِستطاعت پانے کے لیے اپنی ذات پر خرچ کیجئے ۔  ( 2 ) اپنے گھروالوں ، بیوی ، بچوں پر خرچ کیجئے ۔  ( 3 ) اپنے والدین کے حقوق کی ادائیگی اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ان پر خرچ کیجئے ۔  ( 4 ) اپنے والدین کے قریبی رشتہ داروں پر خرچ کیجئے ۔  ( 5 ) مزید وُسعت ہو تو دُور کے رشتہ داروں پر بھی خرچ کیجئے ۔  ( 6 ) اپنے قریبی عزیزواقرباء ودوست اَحباب پر رضائے الٰہی کے لیے اِسراف سے بچتے ہوئے خرچ کیجئے ۔  ( 7 ) راہِ خدا میں خرچ کیجئے ۔  ( 8 ) غریبوں ، مسکینوں اور یتیموں کی کفالت پر خرچ کیجئے ۔  ( 9 ) نیک لوگوں پر خرچ کیجئے ۔  ( 10 ) مسجدکی تعمیرات پر خرچ کیجئے ۔  ( 11 ) مدارس ، جامعات ودِینی طلبہ پر خرچ کیجئے ۔  ( 12 ) نیک لوگوں خصوصاً اولیائے کرام ، علمائے کرام ، مفتیان عظام کی خیر خواہی پر خرچ کیجئے ۔  ( 13 ) حصول علم دین کے لیے دینی کتب پر خرچ کیجئے ۔  ( 14 ) راہ خدا میں سفر کرکے مال خرچ کیجئے ، یاکسی کو مدنی قافلے میں سفر کروانے میں مالی معاونت کیجئے ۔  ( 15 ) اِسلامی تہوار جیسے جشن عید میلاد النبی ، گیارہویں شریف ، اَعراس ، فاتحہ ، تیجہ ، چالیسواں ، اِجتماع ذِکرونعت وغیرہ پر خرچ کیجئے ۔  ( 16 ) اپنے مرحومین وغیرہ کے اِیصال ثواب کے لیے راہِ خدا میں خرچ کیجئے ۔   ( 17 ) ہرنیک اور جائز کام میں خرچ کیجئے ۔

……٭ مذکورہ بالا جگہوں کے علاوہ بعض مقامات پر شریعت میں خرچ کرنے کی ممانعت بھی ہے ، ایسی جگہوں پر خرچ گناہ ہے ، لہٰذا اِن تمام مقامات پر خرچ کرنے سے بچنا چاہیے کہیں ایسا نہ ہو کہ ثواب کی بجائے کل بروزِ قیامت اس کی وجہ سے پکڑ ہوجائے ۔  جہاں خرچ کرنا ممنوع ہے ان میں سے چند مقامات یہ ہیں :  ( 1 ) کسی بھی ناجائز وحرام اور گناہ والی جگہوں پر خرچ نہ کیجئے ۔  ( 2 ) ہر وہ جگہ جہاں مال خرچ کرنے سے دینی نقصان ہووہاں بھی خرچ نہ کیجئے ۔  ( 3 ) بدمذہبوں ، کافروں ، مشرکوں وغیرہ پر خرچ نہ کیجئے ۔  ( 4 )  چور ، زانی یا زانیہ اور غنی کو صدقے کا مال وغیرہ دینا منع ہے ۔  ( 5 ) پیشہ ور بھکاریوں کو بھی نہ دیجئے کہ انہیں دینا منع ہے ۔  ( 6 ) جس شخص کے بارے میں معلوم کہ یہ اس مال کو کسی گناہ والی جگہ پر خرچ کرے گا اسے بھی مال نہ دیجئے ۔  ( 7 ) حرام یا فاسد تجارت میں بھی اپنا مال خرچ نہ کیجئے ۔  ( 8 ) سودی لین دَین میں بھی اپنا مال خرچ نہ کیجئے ۔  ( 9 ) حرام چیزوں کی خریدوفروخت میں بھی اپنا مال خرچ نہ کیجئے ۔  ( 10 ) بلا وجہ شرعی کسی بھی مسلمان کے مال یا عزت وآبرو کو پامال کرنے یا ان کے دیگر حقوق کو پامال کرنے کے لیے بھی اپنا مال وغیرہ خرچ کرنا ناجائز وحرام ہے ۔  ( 11 ) کسی بھی جگہ رشوت کے لین دَین میں اپنا مال ہرگز خرچ نہ کیجئے ۔  ( 12 ) کسی غیر قانونی کام میں اپنا مال خرچ نہ کیجئے ۔  ( 13 ) ظالم کی مدد کرنے اورکسی مسلمان پر ظلم کی معاونت میں بھی خرچ نہ کیجئے ۔

اپنے مال کو اچھی جگہوں پر خرچ کرنے اور بُری جگہوں پر خرچ نہ کرنے کی مزید تفصیلات کے لیے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۱۳۹۹صفحات پر مشتمل کتاب ’’احیاء العلوم  ‘‘   جلد دوم اور ۴۱۶صفحات پر مشتمل کتاب ’’ضیائے صدقات  ‘‘   کا مطالعہ کیجئے ۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی رضا کے لیے خرچ کیجئے :

واضح رہے کہ مذکورہ بالا تمام صورتوں میں خرچ کرنے سے مراد اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رضا کے لیے خرچ کرنا ہے ، اگر کوئی شخص اپنی واہ واہ کے لیے یا اس لیے خرچ کرتا ہے تاکہ لوگ اسے سخی کہیں تو ایسا خرچ کرنا شرعاً محمود یعنی قابل تعریف نہیں بلکہ مذموم یعنی قابل مذمت ہے ، بلکہ جو شخص اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رضا کے لیے نہیں بلکہ اپنی آپ کو سخی کہلوانے کے لیے خرچ کرتا ہے کل بروزِقیامت اسے گھسیٹ کر جہنم میں داخل کردیا جائے گا ۔  چنانچہ حدیث پاک میں ہے : ” کل بروز قیامت ایک مالدار شخص کو لایا جائے گا جسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے کثرت سے مال عطا فرمایا تھا ، اسے لا کر نعمتیں یاد دلائی جائیں گی ، وہ بھی ان نعمتوں کا اقرار کرے گا تو اللہ عَزَّوَجَلَّارشاد فرمائے گا  : ’’تو نے ان نعمتوں کے بدلے کیا کیا؟  ‘‘   وہ عرض کرے گا :  ’’میں نے تیری راہ میں جہاں ضرورت پڑی وہاں خرچ کیا ۔ ‘‘ تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّارشاد فرمائے گا :  ’’تو جھوٹا ہے ، تو نے ایسا اس لئے کیا تھا تا کہ تجھے سخی کہا جائے اور وہ کہہ لیا گیا ۔ ‘‘ پھر اس کے بارے میں جہنم کا حکم ہو گا اور اسے بھی منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔  ( [2] )

 ( 5 ) اپنے جسم کو کن کاموں میں لگایا ۔ ۔ ۔ ؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  کل بروزِ قیامت پانچواں سوال جسم کے بارے میں ہوگا کہ اسے کن کاموں میں صرف کیا؟اچھے اعمال کرنے اور بُرے اعمال سے بچنے یا بُرے اعمال کرنے اور اچھے اعمال ترک کرنے میں جسم کے ظاہری وباطنی دونوں اعضاء کا تعلق ہے ، اگر بندے نے اپنے اعضاء کو نیک کاموں میں استعمال کیا ہوگا تو کل بروزِ قیامت یہ اس کے حق میں گواہی دیں گے اور اگر بُرے وگناہ والے کاموں میں استعمال کیا ہوگا تو یہ اَعضاء اُس کے خلاف گواہی دیں گے ۔ چنانچہ قرآنِ مجید میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :

اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا (۳۶) ( پ۱۵ ، بنی اسرائیل :  ۳۶ )

 



[1]     شعب الا یمان ، باب فی قبض الید علی  الاموال المحرمۃ ، ۴ / ۳۹۶ ، حدیث : ۵۵۲۷  ۔

[2]     مسلم ، کتاب الامارۃ ، باب من قاتل للریاءوالسمعۃ استحق النار ، ص۱۰۵۶ ، حدیث : ۱۹۰۵ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن