اپنے مال کو اچھی جگہوں میں خرچ کیجئے
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

، خود بھی سنیں اور اپنے گھروالوں اور دوستوں کو بھی سنائیں اور دنیا وآخرت کی ڈھیروں بھلائیاں پائیں ۔

نفع بخش علم کون سا ہے ؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! واضح رہے کہ مذکورہ بالا علم دِین حاصل کرنے کے فوائد جبھی حاصل ہوں گے جبکہ اس پر عمل کیا جائے ۔  اپنے علم پر عمل کرنے کی فضیلت سے متعلق تین فرامینِ مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپیش خدمت ہیں :  ( 1 ) ’’خوشخبر ی ہے اُس شخص کے لئے جس نے اپنے علم پر عمل کیا اور اپنا فاضل مال اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی راہ میں خیرات کردیا اور فُضول کلام ترک کردیا  ۔ ‘‘ ( [1] ) ( 2 ) ’’جس نے اپنے علم پر عمل کیا تعالیٰ اسے ایسا علم عطا فرمائے گا جو وہ پہلے نہ جانتا تھا ۔ ‘‘ ( [2] ) ( 3 ) ’’سب سے زیادہ حسرت قِیامت كے دن اُس كو ہوگی جسے دُنیا میں علم حاصل كرنے كا موقع ملا مگر اُس نے حاصِل نہ كیا اور اس شَخص كو ہوگی جس نے علم حاصِل كیا اور دوسروں نے تو اس سے سُن كر نفع اُٹھایا لیكن اس نے نفع نہ اُٹھا یا ( یعنی اپنے علم پر عمل نہ كیا )  ۔ ‘‘ ( [3] )

 ( 3 ، 4 ) مال کہاں سے کمایااور کہاں خرچ کیا؟

مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’مال کے متعلق دو سوال ہوں گے :  ایک یہ کہ کہاں سے حاصل کیا ؟حلال ذریعے سے یا حرام سے ۔ دوسرا کس مقام پر خرچ کیا؟ طاعت میں یا معصیت میں ۔ مبارک ہے وہ مال جو اچھی راہ سے آوے اور اچھی راہ پر خرچ ہو جاوے ۔ اگر بارش کا پانی پرنالے سے نہ نکالا جاوے تو چھت توڑ دیتا ہے ۔ ‘‘ ( [4] )

رزق حلال کھائیے ، رزق حرام سے بچیے :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! آج اگر ہم اپنے معاشرے پر غور کریں تو واضح ہوگا کہ ہم پر مال کمانے کی دُھن سوار ہے ، ہرشخص اس کوشش میں لگا ہوا ہے کہ بس زیادہ سے زیادہ مال کماؤں ۔  میں بہت زیادہ مال دار ہوجاؤں ۔  مگر افسوس !  ایسے لوگ بہت کم ہیں جو یہ سوچتے ہوں کہ میں مال تو کماؤں مگر حلال ذریعے سے کماؤں ، مال کمانے کے حرام ذرائع سے پرہیز کروں ۔  حلال ذریعے سے مال کمانا باعث اجروثواب ہے جبکہ حرام ذریعے سے مال کمانا سخت ناجائز وحرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔  ……٭قرآن وسنت میں حلال ذرائع سے مال کمانے والوں کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے ۔ چنانچہ کسب حلال کی فضیلت پر چار فرامین مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پیش خدمت ہیں :  ( 1 ) ’’جس کی روزی پاکيزہ ہو ، باطن اچھا ہو ، ظاہر عزت والا ہو اور جو لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے اس کے لئے خوشخبری ہے ۔ ‘‘ ( [5] ) ( 2 ) ’’بندے نے اپنے ہاتھ کی کمائی سے پاکیزہ کبھی کوئی کمائی نہیں کھائی اور آدمی اپنی جان ، گھر والوں ، بچوں اور اپنے خادم پر جو کچھ خرچ کرتا ہے وہ صدقہ ہے ۔ ‘‘ ( [6] ) ( 3 ) ’’جس نے حلال مال کمایا ، پھر اسے خود کھایا یا اس کمائی سے لباس پہنا اوراللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی دیگر مخلوق کو کھلا یا اور پہنا یا تو اس کا یہ عمل اس کی زکوٰۃ ( یعنی اس کی پاکیزگی ) ہے ۔ ‘‘ ( [7] ) ( 4 ) ’’دنیا میٹھی اور سرسبز ہے ، جس نے اس میں سے حلال طریقہ سے کمایا اور اسے اس کے حق میں خرچ کیا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے ثواب عطا فرمائے گا اور اپنی جنت میں داخل فرمائے گا ۔ ‘‘ ( [8] )

……٭جبکہ حرام ذرائع سے مال کمانے والوں کی مذمت بیان فرمائی گئی ہے ۔  چنانچہ کسب حرام کے وبال پر مشتمل چار فرامین مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے :  ( 1 ) ’’اس ذات پاک کی قسم جس کے قبضۂ قدرت ميں محمد ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کی جان ہے  !  بندہ حرام کا لقمہ اپنے پيٹ ميں ڈالتا ہے تو اس کے 40دن کے عمل قبول نہيں ہوتے اور جس بندے کا گوشت حرام سے پلا بڑھا ہواس کے لئے آگ زيادہ بہترہے ۔ “ ( [9] ) ( 2 ) ’’جس نے حرام مال سے قميص بنا کر پہنی جب تک وہ قميص اتار نہ دے اس کی نماز قبول نہ ہو گی ، بے شک يہ بات اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے شايانِ شان نہيں کہ وہ ايسے شخص کا عمل يانمازقبول فرمائے جس نے حرام کی قمیص پہن رکھی ہو ۔ ‘‘ ( [10] ) ( 3 ) ’’جس نے 10درہم کا کپڑا خريدا اور اس ميں ايک درہم حرام کا تھا تو جب تک وہ لباس اس کے بدن پر رہے گا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کی کوئی نماز قبول نہيں فرمائے گا ۔ ‘‘ ( [11] ) ( 4 ) ’’دنیا میٹھی اور سرسبز ہے ، جس نے اس میں حرام طریقے سے کمایا اور اسے ناحق خرچ کیا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے ذلت و حقارت کے گھر کو حلال کردے گا اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مال میں خیانت



[1]     معجم کبیر ، مسند رکب المصری ، ۵ / ۷۱ ، حدیث : ۴۶۱۶ ۔

[2]     حلیۃ الاولیاء ، احمد بن ابی الحواری ، ۱۰ / ۱۳ ، رقم : ۱۴۳۲۰ ۔

[3]     تاریخ ابن عساکر ، ۵۱ / ۱۳۸ ، رقم : ۵۹۷۸ : ابن ملۃ محمد بن احمد ۔

[4]      مرآۃ المناجیح ، ۷ / ۳۲ ۔

[5]     معجم کبیر ، باب الراء ، رکب المصری ، ۵ / ۷۲ ، حدیث :  ۴۶۱۶ ۔

[6]     ابن ماجہ ، کتاب التجارات ، باب الحث علی المکاسب ، ۳ / ۶ ، حدیث : ۲۱۳۸ ۔

[7]     صحیح ابن حبان ، کتاب الرضاع ، باب النفقۃ ، ۶ / ۲۱۸ ، حدیث : ۴۲۲۲ ۔

[8]     شعب الا یمان ، باب فی قبض الید عن الاموال المحرمۃ ، ۴ / ۳۹۶ ، حدیث : ۵۵۲۷  ۔

[9]     معجم اوسط ، من اسمہ محمد ، ۵ / ۳۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن