30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1) آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جہاں دیگر فضائل وکمالات میں جدا ہیں وہیں کمالاتِ حسیہ میں بھی پوری مخلوق سے جدا ہیں ۔
(2) دنیا میں جو کچھ ہورہاہے اورقیامت تک جو کچھ ہوتا رہے گا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اسے ہتھیلی کی مثل ملاحظہ فرمارہے ہیں ۔
(3) آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نظر میں ایسی قوت ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے جنت ودوزخ کے معاملات کو بھی ملاحظہ فرمالیتے ہیں ۔
(4) آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہر غیبی آواز سنتے اور غیبی چیزوں کو ملاحظہ فرماتے ہیں جنہیں ہم دیکھ اور سن نہیں سکتے ۔
(5) بندے کو چاہیے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت پر بھی نظر رکھے اور نیک اعمال میں مشغول رہے اور خوفِ خدا بھی اپنے دل میں پیدا کرے تاکہ گناہوں سے بچتا رہے ۔
(6) ایمانِ کامل یہ ہے کہ اُمید اور خوف دونوں ہوں ، ہمارے اَسلاف اور بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن بھی جہاں رحمتِ اِلٰہی پر نظر رکھتے تھے وہیں خوف کے سبب گریہ وزاری بھی کرتے رہتے تھے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سچی پکی محبت نصیب فرمائے ، گناہوں سے بچنے اور نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں اپنا خوف نصیب فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 407 قیامت کے پانچ سوال
عَنْ اَبِي بَرْزَةَ نَضْلَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ الْاَسْلَمِیّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَزُوْلُ قَدَمَا عَبْدٍ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ عُمُرِهِ فِيمَا اَفْنَاهُ وَعَنْ عِلْمِهِ فِيْمَ فَعَلَ فِیْہِ وَعَنْ مَالِهِ مِنْ اَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيْمَ اَنْفَقَهُ وَعَنْ جِسْمِهِ فِيْمَ اَبْلَاهُ. ( [1] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو برزہ نَضْلَہ بن عُبَیْد اَسلمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ حضور تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’ ( بروزِ قیامت ) بندے کے دونوں قدم اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک کہ اس سے یہ نہ پوچھ لیا جائے کہ اس نے اپنی عمر کہاں صَرف کی؟ اپنے علم پر کتنا عمل کیا؟ مال کہاں سے کمایا ؟اور کہاں خرچ کیا ؟اور اپنے جسم کو کن کاموں میں لگایا؟ ‘‘
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک نصیحتوں کے مدنی پھولوں کی خوشبو سے مہک رہی ہے ۔ روایات میں آتا ہے کہ قیامت کے دن زمین تانبے کی ہوگی اور سورج ایک میل کے فاصلے پر رہ کر آگ برسارہا ہوگا اور ہر شخص اپنے عمل کے مطابق پسینے میں ڈوبا ہوا ہوگا جیسا کہ اس باب کی سابقہ حدیثوں میں گزرا اور اس تانبے کی دھکتی ہوئی زمین سے کسی کو قدم اٹھانے کی اجازت نہیں ہوگی جب تک وہ مذکورہ سوالوں کے جواب نہ دیدے ۔ ذرا سوچئے کہ اس دنیا میں سخت گرمی کے دن میں جب سورج پوری آب وتاب سے چمک رہا ہوتا ہے تو گرم فرش پر ہم سے پاؤں نہیں رکھا جاتااور ہم فوراً پاؤں اٹھا لیتے ہیں حالانکہ ابھی تو سورج کروڑوں میل دور ہے تو پھر قیامت کے دن جب سورج ایک میل کے فاصلے پر ہوگا تو ہم اس زمین پر کیسے کھڑے ہوں گے ؟
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’بندے کے قدم نہیں ہٹیں گے یعنی جس جگہ وہ حساب کے لیے کھڑا ہوگا وہاں سے قدم نہیں ہٹیں گے نہ جنت کی طرف نہ جہنم کی طرف ۔ ‘‘ ( [2] ) مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتْمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’قیامت کے دن پانچ چیزوں کا حساب دیئے بغیر اِنسان بارگاہِ الٰہی سے نہیں ہٹ سکتا ، اِن پانچوں میں اگر رہ گیا تو سزا کا مستحق ہوا اگر اِن سے نکل گیا تو جنت میں پہنچے گا ۔ ( [3] )
( 1 ) اپنی عمر کہاں صَرف کی ۔ ۔ ۔ ؟
حدیث میں ہے کہ سب سے پہلے عمر یعنی زندگی کے بارے میں سوال ہوگا کہ عمر کہاں صرف کی؟ اس سے مراد یہ ہے کہ زندگی نیک اَعمال میں صَرف کی یا گناہوں میں؟چنانچہ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’پہلا سوال یہ ہوگا کہ’’عمر کہاں صرف کی؟“ یعنی نیکیوں میں یا گناہوں میں؟ ‘‘ ( [4] )
شیخ طریقت ، امیر اہلسنت بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ ومولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہاپنے رسالے ’’انمول ہیرے ‘‘ پر ایک نصیحت آموز حکایت نقل فرماتے ہیں کہ ایک بادشاہ اپنے مصاحبوں کے ساتھ کسی باغ کے قریب سے گزررہا تھا کہ اس نے دیکھا باغ میں سے کوئی شخص سنگریزے ( یعنی چھوٹے چھوٹے پتھر ) پھینک رہا ہے ، ایک سنگریزہ خود اس کو بھی آکر لگا ۔ اس نے خدام کو دوڑایا کہ جاکر سنگریزے پھینکنے والے کو پکڑ کر میرے پاس حاضر کرو ۔ چنانچہ خدام نے ایک گنوار کو حاضر کردیا ۔ بادشاہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع