30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1) باجماعت نمازیں دینا ہوں گی ۔
(2) جس چیز کا لینا ہمارے لیے جائز نہیں ہے اسے ہرگز نہ لیجئے کہ کل بروزِ قیامت اس کے متعلق پوچھ گچھ کی جائے گی اور اس کا بہت سخت وبال ہوگا ۔
(3) کسی بھی گناہ اور ناجائز تصرف کو ہلکا نہ جائیے بلکہ اس سے بچنے کا مدنی ذہن بنائیے کہ بسا اوقات تھوڑے سے تصرف پر بھی پکڑ ہوسکتی ہے جیسا کہ فقط گیہوں کا دانہ توڑنے پر نیکیاں لے لی گئیں ۔
(4) بیٹیاں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت ہوتی ہیں ، ان سے نفرت کرنے کے بجائے ان کی اچھی طرح دینی تعلیم وتربیت کیجئے کہ یہ بیٹیاں آپ کے لیے جنت میں داخلے کا سبب ہیں ۔
(5) جوشخص اپنی بیٹیوں کی اچھی تعلیم وتربیت کرے اس کے لیے جنت کی بشارت ہے نیز ایک روایت کے مطابق اسے جنت میں رفاقت مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نصیب ہوگی ۔
(6) ہرسنی سنائی بات کو آگے بڑھادینا اچھی بات نہیں ، بسااوقات ایسی باتیں لڑائی جھگڑے اور فساد کا بھی باعث بن جاتی ہیں جب تک کسی بات کی تصدیق نہ ہو اس وقت تک آگے نہیں بڑھانی چاہیے ۔
(7) فضول قسم کے ایسے سوالات سے بچنا چاہیے کہ جن کا نہ تو کوئی دنیوی فائدہ ہو اور نہ ہی کوئی اخروی فائدہ نیز علمائے کرام ومفتیانِ عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے بھی ایسے سوالات پوچھ کر ان کا قیمتی وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے ۔
(8) مال کو ضائع کرنا یا اسراف یعنی فضول خرچی کرنا شرعًا مذموم ہے ، ہرہرمعاملے میں اس سے بچنا چاہیے نیز یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں کی ناشکری بھی ہے اور رزق میں تنگی کا باعث بھی ہے ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں والدین کا ادب واحترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ان کی نافرمانی سے محفوظ فرمائے ، حقوقُ اللہ وحقوق العباد کی ادائیگی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں دنیا وآخرت کی مفلسی سے محفوظ فرمائے ، جو چیزیں ہمارے لیے جائز نہیں ہیں انہیں لینے سے بچائے ، ہر چھوٹے بڑے گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ، اپنی بیٹیوں کی دینی تعلیم وتربیت اور پرورش کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، کوئی بھی بات بغیر تصدیق کے آگے پہنچانے سے محفوظ فرمائے ، فضول اور لایعنی سوالا ت کرنے سے بچائے ، ہمیں مال کے ضیاع اور اسراف سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
با ب نمبر : 42 ماں باپ یا اَقارِب کے دوستوں سے حُسْنِ سُلُوک
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اِسلام نے ہمیں اپنے والدین ، رشتہ داروں ، زوجہ اور دیگر لوگوں کے ساتھ حُسنِ سُلوک سے پیش آنے کا درس دیا ہے ، اِن تمام لوگوں سے حُسنِ سُلوک کا یہ تقاضا بھی ہے کہ اِن کے دوستوں کے ساتھ بھی حُسنِ سُلوک سے ہی پیش آنا چاہیے کیونکہ اِن کے دوستوں کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آنا بھی دراصل اِن کے ساتھ ہی حُسنِ سُلوک سے پیش آنا ہے نیز دوستوں کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آنا اِن کی خوشی اور مسرت کا بھی باعث ہے ۔ ریاض الصالحین کا یہ باب بھی والدین ، رشتہ داروں ، زوجہ اور تمام معزز لوگوں کے دوستوں کے ساتھ نیکی کرنے کے بارے میں ہے ۔ علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اس باب میں پانچ اَحادیث مبارکہ بیان فرمائی ہیں ۔ اَحادیث کی شرح پیشِ خدمت ہے ۔
حدیث نمبر : 341 والد کے دوستوں کے ساتھ بھلائی کرنا
عَنِِ ابْنِِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّ اَبَرَّ الْبِرِّ اَنْ يَّصِلَ الرَّجُلُ وُدَّ اَبِيْهِ. ( [1] )
ترجمہ : حضرت سیدناابن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’نیکیوں میں سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے والد کے دوستوں کے ساتھ بھلائی کرے ۔ ‘‘
حدیث نمبر : 342 نیکیوں میں سب سے بڑی نیکی
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِِ دِيْنَارٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا اَنَّ رَجُلًا مِنَ الْاَعْرَابِ لَقِيَهُ بِطَرِيْقِ مَكَّةَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ وَحَمَلَهُ عَلَى حِمَارٍ كَانَ يَرْكَبُهُ وَاَعْطَاهُ عِمَامَةً كَانَتْ عَلَى رَاْسِهِ قَالَ ابْنُ دِيْنَارٍ : فَقُلْنَا لَهُ : اَصْلَحَكَ اللهُ اِنَّهُمُ الْاَعْرَابُ وَهُمْ يَرْضَوْنَ بِالْيَسِيْرِ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ : اِنَّ اَبَا هَذَا كَانَ وُدًّا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ وَاِنِّي سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ : اِنَّ اَبَـرَّ الْبِرِّ صِلَةُ الرَّجُلِ اَهْلَ وُدَّ اَبِيْهِ.وَفیِ رِوَایَۃٍ عنِِ ا بْنِِ دِيْنَارٍ عَنِِ ابْنِِ عُمَرَ اَنَّهُ كَانَ اِذَا خَرَجَ اِلَى مَكَّةَ كَانَ لَهُ حِمَارٌ يَتَرَوَّحُ عَلَيْهِ اِذَا مَلَّ رُكُوْبَ الرَّاحِلَةِ وَعِمَامَةٌ يَشُدُّ بِهَا رَاْسَهُ فَبَيْنَا هُوَ يَوْمًا عَلَى ذٰلِكَ الْحِمَارِ اِذْ مَرَّ بِهِ اَعْرَابِيٌّ فَقَالَ : اَلَسْتَ ابْنَ فُلَانِ بْنِِ فُلَانٍ؟ قَالَ : بَلٰى فَاَعْطَاهُ الْحِمَارَ فَقَالَ : ارْكَبْ هٰذَا وَاَعْطَاہُ الْعِمَامَۃَ وَقَالَ : اشْدُدْ بِهَا رَاْسَكَ فَقَالَ لَهُ : بَعْضُ اَصْحَابِهِ : غَفَرَ اللهُ لَكَ اَعْطَيْتَ هٰذَا الْاَعْرَابِيَّ حِمَارًا كُنْتَ تَرَوَّحُ عَلَيْهِ وَعِمَامَةً كُنْتَ تَشُدُّ بِهَا رَاْسَكَ؟ فَقَالَ : اِنِّي سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : اِنَّ مِنْ اَبَرِّ الْبِرِّ اَنْ یَّصِلَ الرَّجُلُ اَهْلَ وُدَّ اَبِيْهِ بَعْدَ اَنْ يُّوَلِّيَ وَاِنَّ اَبَاهُ كَانَ صَدِيْقًا لِعُمَرَرَضِیَ اللہُ عَنْہُ. ( [2] )
ترجمہ : حضرت سیدناعبداللہ بن دینار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضرت سیدنا عبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت کرتے ہیں کہ انہیں ایک دیہاتی شخص مکہ مکرمہ کے راستے میں ملا تو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع