30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا خوف بھی رکھے کہ اس خوف کے سبب بُرے اعمال سے اجتناب کرتا رہے تو کبھی وہ مَظْہَرِ جمال ہوگا ( کہ رحمت الٰہی سے امید کے سبب نیک اعمال میں مشغول ہے ) اور کبھی مَظْہَرِ جلال ہوگا ( کہ خوف خدا کے سبب بُرائیوں سے مجتنب ہے ) ۔ ‘‘ ( [1] )
جنت اور جہنم میں جانے والا ایک شخص :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! کامل مؤمن وہی ہے جس کی ذات رحمت خداوندی اور خوف خداوندی دونوں کا مجموعہ ہو ، ہمارے اَسلاف اور بزرگان دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن بھی جہاں رحمت اِلٰہی پرنظر رکھتے تھے وہیں خوفِ خدا میں گریہ وزاری کرنا بھی ان کے معمولات میں شامل تھا ، نہ تو وہ امید کے سبب خوف کو ختم کرتے اور نہ ہی خوف کے سبب نااُمیدی کو اپنے دل میں جگہ دیتے ۔ چنانچہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’اگر آسمان سے ندا کی جائے کہ’’تمام روئے زمین کے آدمی بخش دیئے گئے ہیں سوائے ایک شخص کے ۔ ‘‘ تو میں خوفِ خدا کے سبب یہی سمجھوں گا کہ وہ شخص میں ہی ہوں اور اگر یہ ندا کی جائے کہ’’روئے زمین کے تمام آدمی دوزخی ہیں سوائے ایک شخص کے ۔ ‘‘ تو میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے امید کے سبب یہی سمجھوں گا کہ وہ ایک شخص بھی میں ہی ہوں ۔ ‘‘ ( [2] )
مددمانگتے ہوئے راستوں پر نکل جانا :
مذکورہ حدیث پاک میں فرمایا : ” تَجْاَرُوْنَ“اس لفظ کی شارحین نے مختلف شرح کی ہے ۔ چنانچہ علامہ ابنِ عربی مالکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یعنی تم چیختے ہوئے راستوں کی طرف نکل جاتے ۔ مطلب یہ ہے کہ جس پر کوئی مصیبت آتی ہے وہ مدد ڈھونڈنے کے لیے کسی راستے کی طرف بھاگتا ہے ۔ ‘‘ ( [3] ) علامہ طیبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’تم اللہتعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اپنے گھروں سے صحراؤں کی طرف نکل کر بھاگو گے کیونکہ ایک خوفزدہ انسان کی یہی حالت ہوتی ہے کہ اُس پر اس کا گھر تنگ ہوجاتا ہے اور وہ گھر سے نکل کر کھلی فضا میں بھاگتا ہے ۔ ‘‘ ( [4] ) مُفَسِّرشہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’تم خوف و ڈر کی وجہ سے آبادیوں میں رہنا ، آرام کرنا بھول جاتے ، جنگلوں میں چیختے روتے پھرتے ، منزلیں بہت بھاری ہیں ۔ ‘‘ ( [5] )
ہمارے اَسلاف اور بزرگانِ دِین پر ہر وقت خوفِ خدا غالب رہتا تھا کتابوں میں کثیر واقعات ملتے ہیں کہ وہ نفوسِ قدسیہ ہر وقت خوفِ خدا سے کانپتے لرزتے رہتے تھے ۔ چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 160 صفحات پر مشتمل کتاب ” خوفِ خدا “کے صفحہ نمبر 77 پر ہے : ” حضرت زُرَارہ بن اوفیٰرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنہایت ہی عابد و زاہد اور خوفِ الٰہی میں ڈوبے ہوئے عالم باعمل تھے ۔ تلاوتِ قرآن کے وقت وعید وعذاب کی آیات پڑھ کر لَرزہ براَندام بلکہ کبھی کبھی خوفِ خدا سے بے ہوش ہوجاتے تھے ۔ ایک دن فجر کی نماز میں جیسے ہی آپ نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت کی :
فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ(۸)فَذٰلِكَ یَوْمَىٕذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ(۹) ( پ : ۲۹ ، مدثر : ۸ ، ۹ ) ترجمۂ کنزالایمان : پھر جب صور پھنکا جائے گا تو وہ دن کرّا دن ہے ۔
تو نماز کی حالت میں ہی آپ پر خوفِ الٰہی کا اس قدر غلبہ ہوا کہ لرزتے کانپتے ہوئے زمین پر گر پڑے اور آپ کی رُوح پرواز کر گئی ۔ ‘‘
مرے اشک بہتے رہیں کاش ہردم ……… ترے خوف سے یا خدا یاالٰہی
ترے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ ……… میں تھر تھر رہوں کانپتا یاالٰہی
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔ آمین
مدنی گلدستہ
’’مدینہ منورہ ‘‘ کے 10حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 10مدنی پھول
(1) فرشتے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نورانی مخلوق اورمعصوم ہیں ، نیز فرشتے ہروقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت میں مصروف ہیں ۔
(2) آسمان پر سجدہ کرنے والے فرشتوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ان کے بوجھ سے آسمان چرچراتا ہے ۔
(3) معصوم فرشتے بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب سے ڈرتے ہیں اور خوف کی وجہ سے سر بسجود ہیں تو ہم جیسے گناہ گار اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرنے کے زیادہ حقدار ہیں ۔
(4) حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بے مثل وبے مثال ہیں ۔
[1] دلیل الفالحین ، باب فی الخوف ، ۲ / ۲۹۹ ، تحت الحدیث : ۴۰۶ ۔
[2] احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ، بیان ان الافضل ھو غلبۃ الخوف ۔ ۔ ۔ الخ ، ۴ / ۲۰۲ ۔
[3] عارضۃ الاحوذی ، کتاب الزھد ، باب فی قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم : لوتعلمون ۔ ۔ ۔ الخ ، ۵ / ۱۳۸ ، تحت الحدیث : ۲۳۱۲ ، الجزء التاسع ۔
[4] شرح الطیبی ، کتاب الرقاق ، باب البکاء والخوف ، ۱۰ / ۲۳ ، تحت الحدیث : ۵۳۴۷ ۔
[5] مرآۃ المناجیح ، ۷ / ۱۵۴ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع