گناہ کو چھوٹا سمجھ کر نہ کریں
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

سب کی زبان عربی ہوجائے گی :

مُفَسِّرشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتْمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں :  ” عنقریب تم میں سے ہرایک سے اُس کا ربّ بلا ترجمان  کلام  فرمائے گا ۔ “یعنی تم لوگ قیامت میں براہِ راست بلاواسطہ اپنے رب سے کلام کروگے یہ کلام عربی زبان میں ہوگا ۔ قیامت کا سارا کاروبار بلکہ آج نامہ اعمال کی تحریر ، قبر میں منکر نکیر کے سوالات ، سب عربی زبان میں ہیں ، مرتے ہی انسان کی زبان عربی ہوجاتی ہے ۔  رب تعالیٰ کے ہاں سرکاری زبان عربی ہے ، اس لیے فرمایا کہ لوگ اپنی دنیاوی بولیاں نہ بولیں گے تاکہ ربّ کا عربی کلام انہیں سمجھانے کے لیے کوئی ترجمہ کرنے والا درمیان میں  ہو ۔ ‘‘ ( [1] )

بھاگنے کے راستے ڈھونڈے گا :

عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’حدیث پاک میں جو فرمایا آدمی دائیں بائیں دیکھے گا ۔ یہ مثال کے طور پر ہے اس لیے کہ انسان کی یہ عادت ہے کہ جب اچانک اس پر کوئی مصیبت آ پڑے تو وہ مدد طلب کرنے کے لیے اِدھر اُدھر دیکھتا ہے ۔  ایک احتمال یہ بھی ہے کہ وہ وہاں سے بھاگنے کے لیے راستے ڈھونڈے گا تاکہ اس نارِ جہنم سے نجات پاسکے ۔ ‘‘ ( [2] )

چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی نہ چھوڑو :

مذکورہ حدیث پاک میں ہمیں اِس بات کا درس دیا گیا ہے کہ ہم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ڈریں ، اس کے ناقابلِ برداشت عذاب سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کریں ، عذاب سے بچنے کے لیے نیکیاں کریں ، چھوٹی چھوٹی نیکیاں بھی نہ چھوڑیں  ۔ اگر آدھی کھجور ہو تو اسے بھی صدقہ کردیں کہ اگر چہ یہ معمولی نیکی ہے پر معمولی سمجھ کر اسے مت چھوڑیں  بلکہ اسے صدقہ کردیں ۔ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں  : ’’یعنی اس سے کھجور کا نصف حصہ یا بعض حصّہ مراد ہے ۔ ‘‘ ( [3] ) کسی بھی نیکی کو چھوٹا نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اسے کرگزرنا چاہیے ہوسکتا ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّاسی کے سبب ہماری مغفرت فرمادے ۔  نیکیوں کو حقیر نہ سمجھنے سے متعلق چارفرامین مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پیش خدمت ہیں :  ( 1 ) ’’ تُوہرگز کسی نیکی کو معمولی نہ سمجھ یہاں تک کہ تو اپنے بھائی سے مسکرا کر ملے ۔ ‘‘ ( [4] ) ( 2 ) ’’اے مسلمان عورتو !  کوئی عورت بھی اپنی پڑوسن کے ہدیے کو حقیر نہ سمجھے اگرچہ بکری کا پایا ہی کیوں نہ ہو ۔ ‘‘ ( [5] ) ( 3 ) ’’کسی نیکی کو ہرگز حقیر نہ سمجھو اگرچہ وہ تمہارا اپنے بھائی کے برتن میں اپنے ڈول سے پانی ڈالنا یا اپنے بھائی سے گفتگو کرتے ہوئے مسکراناہی کیوں نہ ہو ۔ ‘‘ ( [6] ) ( 4 ) ’’کسی نیک کام کو حقیر جانتے ہوئے ہرگزنہ چھوڑو ، چاہے وہ تمہارا کسی کو رسی کا ٹکڑا تحفے میں دینا ہو اور چاہے وہ تمہارا اپنے ڈول سے پانی پینے والے کے برتن میں پانی ڈالنا ہو اور چاہے وہ تمہارا اپنے بھائی سے گرم جوشی سے ملاقات کرنا ہو اور چاہے وہ تمہارا جانوروں کو مانوس کرنا ہو اور چاہے وہ تمہارا کسی کو جوتے کا تسمہ تحفے میں دینا ہو ۔ ‘‘ ( [7] )

گناہ کو چھوٹا سمجھ کر نہ کریں :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  جس طرح کسی بھی نیکی کو چھوٹا سمجھ کر چھوڑنا نہیں چاہیے ویسے ہی کسی گناہ کو حقیر سمجھ کر کرنا نہیں چاہیے کیونکہ چھوٹا گناہ اس چنگاری کی طرح ہے جو بڑھتے بڑھتے پورے مکان کو جلا کر راکھ کردیتی ہے اورچھوٹی نیکی اس چھوٹے سے گھونٹ کی طرح ہے جسے پی کر کسی کی جان بچ جاتی ہے ۔  شیطانِ لعین پہلے چھوٹے گناہ کرواتا رہتا ہے ، پھر جب بندہ اس کا عادی ہوجاتا ہے تو اسے بڑے گناہوں کی طرف کھینچ کر لے جاتا ہے ، پھر بندہ صغیرہ گناہوں سے کبیرہ گناہوں میں مبتلا ہوجاتا ہے اور بسا اوقات بندہ کفروشرک کے گندے گڑھے میں جاگرتا ہے ۔  وہ اپنے آپ کو مؤمن سمجھ رہا ہوتا ہے لیکن اس کے ایمان کی دولت شیطان لوٹ کر فرار ہوچکا ہوتا ہے ۔  واضح رہے کہ صغیرہ گناہ بھی اِصرار کے ساتھ کبیرہ بن جاتا ہے ، نیز ہرگناہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ناراضی کا باعث ہے ۔ لہٰذا کسی بھی گناہ کو حقیر سمجھ کر مت کریں ہوسکتا ہے اسی حقیر گناہ کے سبب آخرت میں ہماری پکڑ ہوجائے ۔ عبرت کے لیے ایک حکایت پیش خدمت ہیں :

ایک تنکے نے جنّت سے روک دیا :

دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کا مطبوعہ رسالہ’’ظلم کا انجام  ‘‘  صفحہ11تا13پر حضرتِ علامہ عبدالوہّاب شَعرانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیکی کتاب’’تَنْبِیْہُ الْمُغْتَرِّین  ‘‘  کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے کہ مشہور تابِعی بزرگ حضرتِ سیِّدُنا وَہب بن مُنَبِّہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ایک اسرائیلی شخص نے اپنے پچھلے تمام گناہوں سے توبہ کی ، ستَّر 70سال تک لگاتار اس طرح بندگی کرتا رہا کہ دن کو روزہ رکھتا اور رات کو جاگ کر عبادت کرتا ، نہ کوئی عمدہ غذا کھاتا ، نہ کسی سائے کے نیچے آرام کرتا ۔  اُس کے انتِقال کے بعدکسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا : ’’اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے آپ کے ساتھ کیا مُعامَلہ فرمایا؟  ‘‘   جواب دیا  : ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّنے میرا حساب لیا ، پھر سارے گناہ بخش دیئے مگر ایک لکڑی جس سے میں نے اس کے مالک کی



[1]      مرآۃ المناجیح ، ۸ / ۱۱۹ ۔

[2]      عمدۃ القاری ، کتاب الرقاق ، باب من نوقش الحساب ، ۱۵ / ۶۱۲ ، تحت الحدیث : ۶۵۳۹ ۔

[3]      مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الفضائل ، باب علامۃ النبوۃ ، ۱۰ / ۱۳۴ ، تحت الحدیث : ۵۷۵۸ ۔

[4]     مسلم ، کتاب البروالصلۃ والآداب ، باب استحباب طلاقۃ الوجہ عند اللقاء ، ص۱۴۱۳ ، حدیث : ۲۶۲۶ ۔

[5]     بخاری ، کتاب الھبۃ وفضلھا والتحریض علیھا ، باب الھبۃ وفضلھا ۔ ۔ ۔ الخ ، ۲ / ۱۶۵ ، حدیث :  ۲۵۶۶ ۔

[6]     صحیح ابن حبان ، کتاب البر والاحسان ، ۱ / ۳۷۰ ، حدیث : ۵۲۳ ۔

[7]     سنن کبری للنسائی ، کتاب الزینۃ ، باب الحلی ، ۵ / ۴۸۶ ، حدیث : ۹۶۹۴ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن