30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دیکھنا پڑتی ۔ ‘‘ ( [1] )
کلیجہ منہ کو آتا ہے میرا دل تھرتھراتا ہے ……… کرم یارب اندھیرا قبر کا جب یاد آتا ہے
الٰہی واسطہ پیارے کا میری مغفرت فرما ……… عذاب نار سے مجھ کو خدایا خوف آتا ہے
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔ آمین
مدنی گلدستہ
’’یاالٰہی بخش دے ‘‘ کے 11حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 11مدنی پھول
(1) جہنم اور اس کے مختلف عذابات سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگنی چاہیے ۔
(2) جہنم اتنی گہری ہے کہ اگرپتھر کی چٹان جہنم کے کنارے سے اس میں پھینکی جائے تو ستر سال میں بھی تہہ تک نہ پہنچے گی ۔
(3) آسمان سے زمین تک کی مسافت پانچ سو سال ہے لیکن آسمان سے کوئی چیز صبح پھینکی جائے تو رات سے پہلے زمین پر پہنچ جاتی ہے تو پھر جہنم کی گہرائی کا عالم کیا ہوگاکہ جس میں ستر سال میں کوئی چیز اس کی تہہ تک نہیں پہنچتی ۔
(4) جہنم جتنی گہری ہے اس کے عذابات بھی اتنے ہی سخت ہیں ، سمجھدار وہی ہے جو جہنم کے عذابات سے پناہ مانگتا رہے ، اپنے دل میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا خوف پیدا کرے اور جہنم میں لے جانے والے اعمال ترک کرکے جنت میں لے جانے والے اعمال بجا لائے ۔
(5) حضور نبی کریم ، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا سے غیب کا علم رکھتے ہیں ۔
(6) آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عطا سے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بھی غیب کا علم رکھتے ہیں ۔
(7) حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی ولادت سے پہلے کے واقعات سے بھی باخبر ہیں جیسا کہ مذکور حدیث پاک میں آپ نے ستر سال پہلے جہنم میں پھینکے جانے والے پتھرکی خبردی ۔
(8) صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا بھی یہ عقیدہ تھا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو غیب کا علم عطا فرمایا ہے ۔
(9) حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جنت ودوزخ کے معاملات سے تفصیلاً آگاہ ہیں ۔
(10) جنت ودوزخ غیب سے ہیں اور ان کے تمام معاملات انسانوں سے پوشیدہ ہیں لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ جسے چاہے دنیا میں بھی ان کے پوشیدہ معاملات بطور عبرت دکھا دیتا ہے ۔
(11) حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ایسی قوی قوت سماعت عطا فرمائی ہے کہ آپ دنیا میں رہتے ہوئے جنت وجہنم وغیرہ کی آوازیں بھی سن سکتے ہیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں جہنم اور اس کے تمام عذابات سے محفوظ فرمائے ، بلا حساب جنت میں داخلہ نصیب فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر 405 جہنم سے بچو ۔ ۔ ۔ !
عَنْ عَدِىِّ بْنِِ حَاتِـمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم : مَا مِنْكُمْ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَ بَيْنَهُ تَرْجُمَانٌ فَيَنْظُرُ اَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى اِلَّا مَا قَدَّمَ وَ يَنْظُرُ اَشْاَمَ مِنْهُ فَلَا يَرَي اِلَّا مَا قَدَّمَ وَيَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَا يَرَي اِلَّا النَّارَ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ. ( [2] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا عدی بن حاتم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ محبوب ربِّ اکبر ، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” عنقریب تم میں سے ہرایک سے اُس کا رب بلا ترجمان کلام فرمائے گا ۔ آدمی اپنی دائیں جانب دیکھے گا تو اسے آگے بھیجے ہوئے اَعمال نظر آئیں گے ۔ بائیں طرف دیکھے گا تو بھی اَعمال نظر آئیں گے ۔ اپنے سامنے دیکھے گا تو دوزخ نظر آئے گی ، لہٰذا جہنم سے بچو ! اگر چہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہی ہو ۔ ‘‘
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میں جہنم سے بچنے کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ کسی بھی طرح جہنم سے بچو ، چاہے ایک کھجور کا ٹکڑا صدقہ کر کے ۔ یعنی چھوٹی سے چھوٹی نیکی نہ چھوڑو کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ چھوٹی نیکی ہی ہماری نجات کا ذریعہ بن جائے ۔ اس لیے ہمیں جہنم کے عذاب سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کیونکہ جہنم کا عذاب بے حد دردناک اور ناقابلِ برداشت ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع