دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

(1)   حضور نبی رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نہ صرف اپنی حیاتِ طیبہ کے تمام معاملات سے آگاہ ہیں بلکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عطا سے اپنی ولادتِ باسعادت سے پہلے کے واقعات سے بھی آگاہ ہیں ، جیسا کہ مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ جہنم میں پتھر ستر سال پہلے پھینکا گیا تھا یقیناًآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُس وقت دنیا میں تشریف نہیں لائے تھے ، مگر آپ کو اس واقعے کا بھی علم ہے ۔

(2)   حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عطا سے علم غیب ہے اور صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عطا سے غیب کا علم ہے ۔

(3)   صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا یہ عرض کرنا کہ ’’اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں ۔ ‘‘ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا بھی یہ عقیدہ تھا کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عطا سے غیب جانتے ہیں ۔

(4)   حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمام جسمانی اوصاف میں بھی پوری مخلوق سے ممتاز ہیں ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وہ بھی دیکھ لیتے ہیں جو عام لوگ نہیں دیکھ سکتے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عطا سے وہ بھی سن لیتے ہیں جو عام مخلوق نہیں سن سکتی ، یہی وجہ ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جہنم میں پتھر گرنے والی آواز کو سن لیا نیز آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وسیلے سے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے بھی اس آواز کو سنا ۔

(5)   یہ بھی معلوم ہوا کہ جنت ودوزخ اُخروی اور پوشیدہ معاملات سے تعلق رکھتے ہیں لیکن اللہ عَزَّ  وَجَلَّ جسے چاہتا ہے جنت ودوزخ کے اُن مختلف پوشیدہ معاملات سے بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وسیلے سے آگاہ فرمادیتاہے ۔

جو ہو چکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں               ………    تری عطا سے خدایا حضور جانتے ہیں

70سال پہلے پھینکے جانے کی وضاحت :

اس حدیث سے جہنم کی گہرائی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جہنم کس قدر گہری ہے کہ اس میں ایک پتھر پھینکا گیا تو وہ ستر سال تک اس میں گرتا ہی رہا اور یہ ستر سال کا عرصہ جو حدیث میں بتایا گیا ہے یہ ہمیں سمجھانے کے لیے ہے ۔  ہوسکتا ہے کہ اس سے بھی زیادہ عرصہ لگا ہو تاکہ ہمیں اندازہ ہو کہ جہنم کتنی گہری ہے اور ہم جہنم سے ڈریں اور جہنم میں لے جانے والے اعمال سے بچیں ۔ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ستر 70سال کو حقیقت پر محمول کیا جاسکتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ کثرت سے کنایہ  ہو یعنی یہ پتھر بہت سالوں پہلے پھینکا گیا تھا ۔ ‘‘ ( [1] )

آسمان سے زمین کی مسافت پانچ سو سال :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! جہنم کی گہرائی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آسمان سے زمین پر کوئی چیز پھینکی جائے تو وہ رات آنے سے پہلے زمین پر پہنچ جاتی ہے حالانکہ زمین وآسمان کی درمیانی راہ پانچ سو 500سال کی مسافت ہے ۔  جیسا کہ بہارِشریعت میں ہے : ’’ دوزخ کی گہرائی کو خدا ہی جانے کہ کتنی گہری ہے ۔  حدیث میں ہے کہ اگر پتھر کی چٹان جہنم کے کنارے سے اُس میں پھینکی جائے تو ستّر 70برس میں بھی تہہ تک نہ پہنچے گی اور اگر انسان کے سر برابر سیسے کا گولا آسمان سے زمین کو پھینکا جائے تو رات آنے سے پہلے زمین تک پہنچ جائے گا ، حالانکہ یہ پانسو500 برس کی راہ ہے ۔ ‘‘ ( [2] )

جنت کا دروازہ کھلتا ہے یا دوزخ کا؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  جہنم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے دردناک عذاب والی جگہ ہے ، جہنم کے عذاب کو سہنے کی کسی میں سکت نہیں ، ہمیشہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے خوف سے ڈرتے رہنا چاہیے ، جہنم کے عذاب سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی پناہ مانگنی چاہیے ۔  ہمارے بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن بھی جہنم کے خوف سے ہمیشہ ڈرتے رہتے اور خوفِ خدا کے سبب لرزتے رہتے تھے ۔  چنانچہ حضرت سَیِّدُنامسروق الاجوع تابعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  اتنی لمبی نماز ادا فرماتے کہ ان کے پاؤں سوج جایا کرتے تھے اور یہ دیکھ کر ان کے گھر والوں کو ان پر ترس آتا اور وہ رونے لگتے ۔  ایک دن ان کی والدہ نے کہا : ’’میرے بیٹے  ! تو اپنے کمزور جسم کا خیال کیوں نہیں کرتا؟ اس پر اتنی مشقت کیوں لادتا ہے ؟ تجھے اس پر ذرا رحم نہیں آتا ؟ کچھ دیر کے لئے آرام کر لیا کرو ، کیا اللہتعالیٰ نے جہنم کی آگ صرف تیرے لئے پیدا کی ہے کہ تیرے علاوہ کوئی اس میں پھینکا نہیں جائے گا ؟  ‘‘  انہوں نے جواباً عرض کی :  ’’امی جان !  انسان کو ہر حال میں مجاہدہ کرنا چاہیے کیونکہ قیامت کے دن دو ہی باتیں ہوں گی  یا تو مجھے بخش دیا جائے گا یا پھر میری پکڑ ہوجائے گی ، اگر میری مغفرت ہوگئی تو یہ محض اللہتعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہوگی اور اگر میں پکڑا گیا تو یہ اس کا عدل ہو گا ، لہذا اب میں آرام نہیں کروں گا اور اپنے نفس کو مارنے کی پوری کوشش کرتا رہوں گا  ۔ ‘‘   جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے گریہ وزاری شروع کر دی ۔  لوگوں نے پوچھا : ’’آپ نے تو ساری عمر مجاہدوں اور ریاضتوں میں گزاری ہے ، اب کیوں رو رہے ہیں؟  ‘‘   تو آپ نے فرمایا : ’’مجھ سے زیادہ کس کو رونا چاہيے کہ میں ستر ( 70 ) سال تک جس دروازے کو کھٹکھٹاتا رہا ، آج اسے کھول دیا جائے گا لیکن یہ نہیں معلوم کہ جنت کا دروازہ کھلتا ہے یا دوزخ کا ۔ ۔ ۔ ؟کاش !  میری ماں نے مجھے جنم نہ دیا ہوتا اور مجھے یہ مشقت نہ



[1]      دلیل الفالحین ، باب فی الخوف ، ۲ / ۲۹۷ ، تحت الحدیث : ۴۰۴ ۔

[2]      بہارِ شریعت ، ۱ / ۱۶۶ ، حصہ اوّل ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن