30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ستر گز تک پہنچ جائے گا ۔ حضرتِ سَیِّدُنا مقداد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی حدیث کے تحت ” صحیح مسلم“ کی شرح ” اِکمال المعلم“ میں ہے : ’’ممکن ہے کہ قیامت کے ہولناک احوال کا مشاہدہ کر کے خوف اور ڈر کی وجہ سے اپنے ہی پسینے میں شرابور ہو ، یہ بھی احتمال ہے کہ یہ اس کا اور دوسرے لوگوں کا پسینہ ہو اور یہ پسینہ لوگوں کے ہجوم اور ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہونے کی وجہ سے آئے گا حتی کہ پسینہ ان کے درمیان سطحِ زمین پر بہہ رہا ہوگااور وہ ستر سال تک اس پسینے میں غوطے لگائیں گے ۔ ‘‘ ( [1] )
کافر سب سے زیادہ پسینے میں ہوں گے :
حدیثِ مذکورہ میں اور جو روایات اس باب میں گزری ہیں اُن میں اس بات کا بھی بیان ہے کہ قیامت کے دن لوگ اپنے اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے تو کیا سب لوگ پسینے میں نہارہے ہونگے یا کچھ لوگ اس سے مستثنی بھی ہیں؟ چنانچہعَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’ظاہرِ حدیث سے تو یہی پتہ چلتا ہے کہ سب لوگ پسینے میں ہوں گے لیکن دوسری اَحادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ سب نہیں بلکہ اکثر لوگ پسینے میں ہوں گے ، انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام ، شہداء اور جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے وہ اس سے مستثنیٰ ہیں ۔ سب سے زیادہ پسینے میں کافر ہوں گے ، اُن سے کم پسینے میں کبیرہ گناہ کرنے والے ، ان سے کم پسینے میں کم گناہ والے ۔ اس گرمی و پسینے کی مصیبت میں کافروں کے مقابلے میں مسلمان بہت ہی کم ہوں گے ۔ حالتِ مذکورہ پر غور کرنے سے قیامت کی ہولناکیوں کا پتہ چلتا ہے اور یہ کہ جہنم نے زمین کو چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہوگا ۔ سورج لوگوں کے سروں سے ایک میل دُور ہوگا ۔ پس اُس وقت زمین کی گرمی کس بلا کی ہوگی ۔ پھرجو حدیث میں بیان کیا گیا کہ لوگوں کا پسینہ زمین میں ستر گز تک چلا جائے گا ( لوگوں کا اتنا ہجوم ہوگا کہ ) ہر شخص کو صرف پاؤں رکھنے کی جگہ ملے گی ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اتنی بھیڑ ہوگی اور صرف پاؤں رکھنے کی جگہ ہوگی اور لوگ ایک دوسرے کے اتنے قریب قریب ہوں گے تو پھر لوگ الگ الگ پسینے میں کیسے ہوں گے ؟ یعنی کوئی ٹخنوں تک ، کوئی گھٹنوں تک اور کوئی گردن تک ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سب ان چیزوں میں سے ہے جس پر عقل دَنگ رہ جاتی ہے اور یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عظیم قدرت پر دلالت کرتی ہے اور ایمان اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اُمورِ آخرت میں عقل کو کوئی دخل نہیں ۔ پس قیامت کے دن جو کچھ ہوگا وہ خلافِ عقل ہوگا ، یہ اُن ضروریاتِ دین میں سے ہے جس پر ایمان بالغیب یعنی بِن دیکھے ایمان لانا ضروری ہے پس ہمارا اس پر ایمان ہے ۔ ‘‘ ( [2] )
یہ پسینہ سورج اور دوزخ کی گرمی ، انتہائی پریشانی وفکر اور ندامت کی وجہ سے ہوگا ۔ اور اپنے اَعمال کے مطابق ہوگا ۔ زیادہ گناہ کیے تو پسینہ زیادہ ، کم کیے تو پسینہ کم ۔ بعض شارحین نے فرمایا کہ ہر ایک کا پسینہ الگ ہوگا دوسروں کے پسینہ سے مل کر دریا نہ بنے گا ۔ جیسے حضرت سیدنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی مچھلی سے پانی میں طاق بن گیا ۔ بعض نے فرمایا کہ تمام پسینوں کا دریا بن جائے گا مگر یہ دریا کسی کے ٹخنوں تک ، کسی کے منہ تک ۔ جیسے ایک ہی قبر میں مؤمن مُردہ جنت میں ہے ، کافر مُردہ دوزخ میں ۔ ایک چار پائی پر دو آدمی سورہے ہیں ایک اچھی خواب سے خوش ہے دوسرا بری خواب سے پریشان ۔ ظاہر یہ ہے کہ مِیل سے مراد راستہ کا مِیل ہے کوس کا تہائی حصہ ، آج کل ہمارے ہاں آٹھ فرلانگ کا میل ہوتا ہے ، عرب میں پانچ فرلانگ کا جسے کیلو کہتے ہیں ۔ بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاں میل سے مراد سرمہ کی سلائی ہے ۔ بہرحال ہوگا نہایت ہی قریب ۔ اَعمال سے مراد گناہ ہیں یعنی بداَعمال خواہ کفر ہو یا دوسرے گناہ ۔ ‘‘ ( [3] )
چالیس سال تک آسمان کی طرف نہ دیکھا :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! جب انسان دنیا میں کوئی غلطی کرتا ہے اور وہ کسی کو معلوم ہوجائے تو اسے کیسی ندامت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، مخلوق کے سامنے ندامت کے خوف سے بسا اوقات وہ کئی کئی دن تک گھر سے باہر نہیں نکلتا ۔ ذرا سوچیے کل بروز قیامت جب محشر میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ ، اس کے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ، اولیائے عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام اور تمام نیک لوگوں ودیگر خلق خدا کے سامنے اپنے اعمال کو پڑھ کر سنانے کا حکم ہوگا تو بندے کو کیسی ندامت وشرمندگی ہوگی؟ ہمارے بزرگان دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن بھی قیامت کے ہولناک دن سے بہت خوفزدہ رہتے تھے ، ہمیشہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خوف سے ان پر لرزہ طاری رہتا تھا ۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا عطاء سلمیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جنہوں نے خوفِ خدا کی وجہ سے چالیس سال تک آسمان کی طرف نہیں دیکھااور نہ ہی کسی نے انہیں مسکراتے ہوئے دیکھا ، اِن کے بارے میں منقول ہے کہ جب آپ رونا شروع کرتے تو تین دن اور تین رات مسلسل روتے رہتے ۔ اسی طرح جب کبھی آسمان پر بادل ظاہر ہوتے اور بجلی کڑکتی تو آپ کے دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ، بدن کانپنا شروع ہو جاتا ، آپ بے تاب ہوکر کبھی بیٹھ جایا کرتے اور کبھی کھڑے ہوجاتے اور ساتھ ہی روتے ہوئے کہتے : ’’شاید میری لغزشوں اور گناہوں کی وجہ سے اہلِ زمین کو کسی مصیبت میں مبتلا کیا جانے والا ہے ، جب میں مر جاؤں گا تو لوگوں کو بھی سکون حاصل ہو جائے گا ۔ ‘‘ اس کے علاوہ آپ روزانہ اپنے نفس کو مخاطب کر کے فرماتے : ’’اے نفس ! تو اپنی حد میں رہ اور یاد رکھ تجھے قبر میں بھی جانا ہے ، پلِ صراط سے بھی گزرنا ہے ، دشمن ( یعنی آنکڑے ) تیرے ارد گرد موجود ہوں گے جو تجھے دائیں بائیں کھینچیں گے ، اس وقت قاضی ، رب تعالیٰ کی ذات ہو گی اور جیل ، جہنم ہو گی جبکہ اس کا داروغہ سَیِّدُنا مالک عَلَیْہِ السَّلَام ہوں گے ۔ اس دن کا قاضی ناانصافی کی طرف مائل نہیں ہوگا اور نہ ہی مَعَاذَ اللہداروغہ کوئی رشوت قبول کرے گا اور نہ ہی جیل توڑنا ممکن ہوگا کہ تو وہاں سے فرار ہو سکے ، قیامت کے دن تیرے لئے ہلاکت ہی ہلاکت ہے ۔ اس کا بھی علم نہیں کہ فرشتے مجھے کہاں لے جائیں گے ؟ عزت وآرام کے مقام جنت میں یا حسرت اور تنگی کی جگہ جہنم میں؟ ‘‘ اس دوران آپ کی چشمانِ مبارک سے آنسو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع