30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں آپ کو بکثرت رونے والے ملیں گے ۔ آپ بھی عاشقانِ رسول کی صحبت اختِیار کیجئے ان کے ساتھ مَدَنی قافِلوں کے مسافِر بنیے ، اگر رونا نہیں آتا تھاتو آپ کو بھی اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّرونا آجائے گا ۔
مدنی گلدستہ
’’حبیب اللہ ‘‘ کے 8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 8مدنی پھول
(1) آخرت کا عذاب اس قدر ہولناک ہے کہ اگر ہمیں حقیقتاً معلوم ہو جائے ہم ہنسنا ہی بھول جائیں اور خوفِ خدا میں ہروقت روتے رہیں ۔
(2) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عذاب سے ہروقت پناہ مانگتے رہنا چاہیے کہ اسے سہنے کی سکت کسی میں نہیں ہے ۔
(3) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خوف سے رونا سعادت مندوں کا حصہ ہے ۔ خوف خدا کے سبب رونا انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام ، صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ، تابعین عظام ، اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا طریقہ ہے ۔
(4) صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان رب تعالیٰ کا بہت زیادہ خوف رکھنے والے تھے ۔
(5) خوفِ خدا کے حصول کا ایک طریقہ اللہ کی رضا کے لیے علم دِین حاصل کرنا بھی ہے کہ جو جتنا زیادہ علم والا ہوگا اس میں اتنا ہی زیادہ خوفِ خدا بھی ہوگا ۔
(6) حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمام مخلوق میں سب سے زیادہ خوفِ خدا رکھنے والے ہیں کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سب سے زیادہ علم والے ہیں ۔
(7) ساری مخلوق کے علم کی حیثیت حضور نبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے علم کے آگے ایسی ہے جیسے سمندر کے آگے ایک قطرے کی حیثیت کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کو جمیع علوم اَوّلین وآخرین عطا فرمادیے ہیں ۔
(8) خوفِ خدا سے رونے کی احادیث میں بہت فضیلت بیان فرمائی گئی ہے ، لہٰذا قبر وحشر کی ہولناکیوں ، دشوار گزار گھاٹیوں ، قیامت کی ذلت ورسوائی ، اور جہنم کے عذابات کو پڑھ کر اپنے دل میں خوفِ خدا پیداکرنا چاہیے اور خوفِ خدا کے سبب رونا چاہیے ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قبروحشر کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، قیامت کی ہولناکیوں سے محفوظ فرمائے ، ہمیں اپنا خوف عطا فرمائے ، ہماری بلا حساب مغفرت فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 402 سورج ایک میل کے فاصلے پر
عَنِ الْمِقْدَادِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : تُدْنَى الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْخَلْقِ حَتَّى تَكُونَ مِنْهُمْ كَمِقْدَارِ مِيْلٍ قَالَ سُلَيْمُ بْنُ عَامِرِ الرَّاوِي عَنِ الْمِقْدَادِ : فَوَاللهِ مَا اَدْرِي مَا يَعْنِي بِالْمِيلِ اَمَسَافَةَ الْاَرْضِ اَمِ الْمِيْلَ الَّذِي تُكْتَحَلُ بِهِ الْعَيْنُ فَيَكُونُ النَّاسُ عَلَى قَدْرِ اَعْمَالِهِمْ فِي الْعَرَقِ فَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ اِلٰی كَعْبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَّكُوْنُ اِلٰی رُكْبَتَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَّكُوْنُ اِلٰی حَقْوَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يُّلْجِمُهُ الْعَرَقُ اِلْجَامًا وَاَشَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ اِلٰى فِيْهِ. ( [1] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا مقداد بن اَسود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی پاک ، صاحب لَولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ” قیامت کے دن سورج کو مخلوق کے قریب کردیا جائے گا یہاں تک کہ سورج اُن سے ایک میل کے فاصلے پر رہ جائے گا ۔ “حضرت سیدنا مِقداد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کر نے والے حضرت سیدنا سُلَیم بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ” میں نہیں جانتا کہ مِیل سے سرکارِ دو عالَم نورِمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی کیا مراد تھی؟ کیا زمینی مسافَت والا میل مراد تھا یا پھر وہ سَلائی جس سے آنکھوں میں سرمہ لگاتے ہیں ۔ “پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ” لوگ اپنے اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں شرابور ہوں گے ، اُن میں سے کچھ ٹخنوں تک ، کچھ گھٹنوں تک ، کچھ کمر تک پسینے میں ہوں گے اور کچھ کو پسینے نے لگام ڈالی ہوگی ۔ “ ساتھ ہی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے دستِ مبارک سے دہن مبارک کی طرف اشارہ فرمایا ۔
حدیث نمبر : 403 ستر گز زمین تک پسینہ
عَنْ اَبِى هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَعْرَقُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتّٰى يَذْهَبَ عَرَقُهُمْ فِى الاَرْضِ سَبْعِينَ ذِرَاعًا وَيُلْجِمُهُمْ حَتّٰى يَبْلُغَ آذَانَهُمْ. ( [2] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’قیامت کے دن لوگوں کو پسینہ آئے گایہاں تک کہ ان کا پسینہ زمین میں ستر 70گز تک پہنچ جائے گا اور ان کی لگام بن جائے گا حتی کہ ان کے کانوں تک پہنچ جائے گا ۔ ‘‘
مذکورہ احادیث میں قیامت کی ہولناکیوں کا بیان ہے کہ قیامت کے دن لوگوں پر ایسا خوف اور دہشت طاری ہوگی کہ لوگ اپنے ہی پسینے میں نہارہے ہوں گے ۔ ان کا پسینہ زمین میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع