30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اُن کا ہنسنا بہت ہی کم اور رونا بہت ہی زیادہ ہوجائے ۔ ‘‘ ( [1] )
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ’’جتنی خیر آج کے دن میں نے جنت میں دیکھی ہے اس سے زیادہ کبھی نہیں دیکھی اور جتنا شر آج کے دن میں نے جہنم میں دیکھا ہے اس سے زیادہ کبھی نہیں دیکھا ۔ پس اگر تم وہ سب دیکھ لیتے جو کچھ میں نے دیکھا ہے اور وہ سب جان لیتے جو کچھ میں جانتا ہوں تو تم دہل جاتے اور تمہارا ہنسنا کم اور رونا زیادہ ہوجاتا ۔ ‘‘ ( [2] )
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتْمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یعنی قیامت کے خوف و دہشت ، دوزخ کے عذاب ، اللہتعالیٰ کی پکڑ ، عالم غیب کے اسرار جتنے مجھے معلوم ہیں تم کو اُن کا لاکھواں حصہ بھی حاصل نہیں ، نیز تم کو جس قدر علم ہے وہ ہم سے سن کر ہے ، ہم کو علم ہے دیکھ کر اور دیکھے سنے علم میں فرق ہے ۔ اگر تم کو وہ چیزیں معلوم ہوجائیں یا تو تم ہنسنا بھول ہی جاؤ یا ہنسو بہت کم اور ڈرو بہت زیادہ ، تم پر خوف کا غلبہ ہوجاوے ۔ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے : ( 1 ) ایک یہ کہ ساری مخلوق کا علم حضور ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کے علم کے سامنے ایسا ہے جیسے سمندر کے آگے قطرہ کیونکہ لَوْ تَعْلَمُوْنَ میں سارے صحابہ سے خطاب ہے ۔ ( 2 ) دوسرے یہ کہ حضور ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کے قلب پاک کو اللہتعالیٰ نے بڑی برداشت کی طاقت دی ہے کہ اس قدر عذاب وغیرہ کو جانتے بلکہ دیکھتے ہوئے بھی اپنے کو سنبھالے ہوئے ہیں ، لوگوں سے تعلقات بھی رکھتے ہیں ، سب سے ہنستے بولتے بھی ہیں ۔ ہم لوگ تو تارک الدنیا ہوجاتے ہیں ، رب تعالیٰ فرماتا ہے : ” اگر ہم قرآن مجید پہاڑ پر اتارتے تو وہ بھی اللہ کی ہیبت سے پھٹ جاتا ۔ “جس سے معلوم ہوا کہ حضور انور کا دل پہاڑ سے زیادہ قوی ہے ۔ ‘‘ ( [3] )
سرکارِ دو عالَم نورِمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدناجبرائیل عَلَیْہِ السَّلَامسے دریافت فرمایا : ” کیا وجہ ہے کہ میں نے کبھی میکائیل عَلَیْہِ السَّلَام کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا؟“تو انہوں نے عرض کی : ” جب سے جہنم کو پیدا کیا گیا ، حضرت میکائیل عَلَیْہِ السَّلَام نہیں ہنسے ۔ “ ( [4] )
( 1 ) منقول ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک پرندے سے مخاطب ہوکر فرمایا : ” اے پرندے ! کاش میں تیری طر ح ہوتا اور مجھے انسا ن نہ بنایاگیا ہوتا ۔ “ ( 2 ) حضرت سَیِّدُنا ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ” میں چاہتا ہوں کہ میں ایک درخت ہوتا جسے کاٹ لیا جاتا ۔ “ ( 3 ) اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے فرمایا : ” میں پسند کرتی ہوں کہ میں بھولی بسری ہوجاؤں ۔ “ ( 4 ) امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنا عمر فارو قِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجب قرآن مجید کی کوئی آیت سنتے تو خوف کی وجہ سے بے ہوش ہوکر گر پڑتے اور کئی دن تک آپ کی عیادت کی جاتی ۔ ایک دن آپ نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور فرمایا : ’’کاش ! میں یہ تنکا ہوتا ، کاش ! میرا ذکر نہ ہوتا ، کاش ! مجھے بھلا دیا گیا ہوتا ، کاش ! مجھے میری ماں نہ جنتی ۔ “آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے چہرے پر خوف خدا کے سبب نکلنے والے آنسوؤں کی دوسیاہ لکیریں تھیں ۔ ( [5] ) ( 5 ) حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے ڈرنے والے لوگوں کے بارے میں پوچھا گیا توآپ نے فرمایا : ” ان کے دل خوف کی وجہ سے زخمی ہوتے ہیں اور آنکھیں روتی ہیں ۔ وہ کہتے ہیں : ہم کیسے خوش ہو سکتے ہیں؟ حالانکہ موت ہمارے پیچھے ہے ، قبر ہمارے سامنے ہے ، قیامت ہمارے وعدہ کی جگہ ہے ، جہنم کے اوپر ہمارا راستہ ہے اورہمیں اپنے ربِّ عظیم کے سامنے کھڑا ہونا ہے ۔ “ ( [6] )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان جنہیں حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام نے ہدایت کے ستارے فرمایا اور بہت سوں کو تو خود مہتابِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دنیا میں ہی جنت کی خوشخبری دے دی تھی لیکن پھر بھی ان کا عمل مزید بڑھتا ہی گیا ۔ خوفِ خدا میں مزید اضافہ ہی ہوا بلکہ وہ عظیم لوگ ہر آن اللہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرتے رہتے ۔ انہوں نے خوف ورجاء والا معقول راستہ اختیار کیا ، وہ نہ تو کبھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے مایوس ہوئے اور نہ اُس کے غضب سے بے خوف ہوئے ۔ مذکورہ حدیث میں بھی ہے کہ حضور نبی رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان سن کر تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے یہاں تک کہ اُن کی ہچکیاں بندھ گئیں ۔ امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی مایہ ناز تصنیف ’’نیکی کی دعوت ‘‘ صفحہ۲۷۱سے خوف خدا کے سبب رونے سے متعلق کچھ اِصلاحی موادبتصرف پیش خدمت ہے :
حضرتِ سیِّدُنا سُلَیم بِن مَنصُور عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفُوْر فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والِد مَنصُور بن عَمّار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار کو بعدِوفات خواب میں دیکھ کر پوچھا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کے ساتھ کیا مُعاملہ فرمایا ؟ ‘‘ تو اُنہوں نے بتایا کہ میرے ربّ عَزَّ وَجَلَّنے کرم کرنے کے بعد مجھ سے فرمایا : ’’اے بَدعَمَل بُڈھے ! معلوم ہے کہ میں نے تجھے کیوں بخش دیا؟ ‘‘ میں نے عرض کی :
[1] عمدۃ القاری ، کتاب الکسوف ، باب الصدقۃ فی الکسوف ، ۵ / ۳۱۰ ، تحت الحدیث : ۱۰۴۴ ۔
[2] شرح مسلم للنووی ، کتاب الفضائل ، باب توقیرہ صلی اللہ علیہ وسلم وترک اکثار سوالہ ۔ ۔ ۔ الخ ، ۸ / ۱۱۲ ، الجز الخامس عشر ۔
[3] مرآۃ المناجیح ، ۷ / ۱۴۷ ۔
[4] احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ، ۴ / ۲۲۳ ۔
[5] احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ، بیان احوال الصحابۃ والتابعین والسلف الصالحین فی شدۃ الخوف ، ۴ / ۲۲۶ ۔
[6] احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ، بیان احوال الصحابۃ والتابعین والسلف الصالحین فی شدۃ الخوف ، ۴ / ۲۲۷ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع