30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مُفَسِّرشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتْ مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’دوزخ کے مختلف طبقے ہیں ، ہر طبقے کا عذاب مختلف ہے اونچے طبقے کا عذاب نیچے سے ہلکا ہوگا ، اونچے طبقے کے دوزخیوں میں بعض لوگ ایسے ہوں گے جن کا ذکر یہاں ہے ۔ خیال رہے کہ اگر کالا دانہ پاؤ ں کی انگلی میں نکل آوے تو اس سے سر چکراتا ہے ۔ مریض کہتا ہے : میری کھوپڑی پھٹی جارہی ہے اس کا نمونہ دنیا میں ہی قائم ہے ۔ لہٰذا اس حدیث پر اعتراض نہ کرو کہ سرکا پاؤں سے کیا تعلق ہے ۔ یعنی اس کے صرف پاؤ ں میں آگ ہوگی باقی جسم میں نہیں ۔ ‘‘ ( [1] )
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 207 صفحات پر مشتمل کتاب ” جہنم کے خطرات“صفحہ نمبر ۱۶ پر ہے : ’’جہنم میں دوزخیوں کو طرح طرح کے خوفناک اور بھیانک عذا ب میں مبتلا کیا جائے گا ۔ اُن عذابوں کی قسموں اور اُن کی کیفیتوں کو خداو ند ِ علامُ الغیوب کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ جہنم میں دی جانے والی سزاؤں کو دنیا میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ۔ عذاب کی چند صورتیں ہیں جن کا حدیثوں میں تذکرہ آیا ہے اُن میں سے بعض یہ ہیں : ( 1 ) کچھ جہنمیوں کو اِس طرح کا عذاب دیا جائے گا کہ ایک فرشتہ اُن کو لٹا کر اُن کے سروں پر ایک پتھر اِس زور سے مارے گا کہ اُن کا سر کچل جائے گا اور وہ پتھر لڑھک کر کچھ دور چلا جائے گا ۔ پھر وہ فرشتہ جب تک اُس پتھر کو اُٹھا کر لائے گا ، اُس کے سر کا زخم اچھا ہو چکا ہو گا پھر وہ پتھر مارے گا تو سر کچل جائے گا اور پتھر پھر لڑھک کر دور چلا جائے گا ۔ پھر فرشتہ پتھر اُٹھا کر لائے گا اور پھروہ پتھر مار کراُس کا سر کچل دے گا ۔ اِسی طرح لگا تار یہی عذاب ہوتا رہے گا ۔ ( [2] ) ( 2 ) کچھ دوزخیوں کو خون کے دریا میں ڈال دیا جائے گاتو وہ تیرتے ہوئے کنارہ کی طرف آئیں گے تو ایک فرشتہ ایک پتھر کی چٹان اُن کے منہ پر اِس زور سے مارے گا کہ وہ پھر بیچ دریا میں پلٹ کر چلے جائیں گے ۔ بار بار یہی عذاب اُن کو دیا جاتا رہے گا ۔ یہ سود خوروں کا گروہ ہو گا ۔ ( [3] ) ( 3 ) جہنم میں آگ کا ایک پہاڑ ہے جس کی بلندی ستر برس کا راستہ ہے ، اس پہاڑ کا نام ’’صعود ‘‘ ہے ۔ دوزخیوں کو اس کے اُوپر چڑھایا جائے گا توستر برس میں وہ اُس کی بلندی پر پہنچیں گے پھراُن کو اُوپر سے گرایا جائے گا تو ستر برس میں نیچے پہنچیں گے ۔ اِسی طرح ہمیشہ عذاب دیا جاتا رہے گا ۔ ( [4] )
مدنی گلدستہ
امام’’حسن ‘‘ کے 3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 3مدنی پھول
(1) جہنمیوں کو مختلف قسم کا عذاب ہوگا ، کسی کو کم کسی کو زیادہ ۔
(2) جہنم کے تمام عذابات سے رب تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے کیونکہ جہنم کا سب سے ہلکا عذاب بھی اتنا سخت ہے کہ اس کی وجہ سے دماغ ہانڈی کی طرح ابلنے لگے گا تو پھر سخت عذاب کا کیا عالم ہوگا؟
(3) دوزخ میں جو جہنمی جتنا نیچے ہوگا اس کا عذاب اتنا ہی سخت ہوگا ، کیونکہ دوزخ کے اُونچے طبقے کا عذاب نیچے کے عذاب سے ہلکا ہوگا ، نچلے طبقے والے کا عذاب اوپر والے سے سخت ہوگا ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں جہنم کے ہر طرح کے عذاب سے محفوظ فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 399 جہنم کی آگ کی مختلف کیفیات
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مِنْهُمْ مَنْ تَاْخُذُهُ النَّارُ اِلَى كَعْبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَاْخُذُهُ اِلَى رُكْبَتَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَاْخُذُهُ اِلَى حُجْزَ تِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَاْخُذُهُ اِلَى تَرْقُوَتِهِ. ( [5] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا سمرہ بن جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ تاجدار رسالت شہنشاہ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ” جہنمیوں میں سے کچھ لوگوں کو آگ اُن کے ٹخنوں تک پکڑے گی اور بعض کو اُن کے گھٹنوں تک پکڑے گی اور بعض کو ناف تک پکڑے گی اور بعض کو گردن تک آگ نے پکڑا ہوا ہوگا ۔ ‘‘
آگ مؤمن کے چہرے کونہیں چھوئے گی :
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث میں عذاب کے مختلف ہونے کا بیان ہے ۔ یعنی بعض لوگوں کو زیادہ عذاب ہوگا ، بعض کو کم ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بعض کو عذاب ہوگا اور بعض کو نہیں ہوگا ۔ ‘‘ نیز علامہ طیبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ شرح السنہ میں سیدنا ابو سعیدخدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے : ’’جب ایمان
[1] مرآۃ المناجیح ، ۷ / ۵۳۳ ۔
[2] بخاری ، کتاب الجنائز ، باب : ۹۳ ، ۱ / ۴۶۷ ، حدیث : ۱۳۸۶ ۔
[3] بخاری ، کتاب الجنائز ، باب : ۹۳ ، ۱ / ۴۶۷ ، حدیث : ۱۳۸۶ ۔
[4] ترمذی ، کتاب صفۃ جھنم ، باب فی صفۃ قعر جھنم ، ۴ / ۲۶۰ ، حدیث : ۲۵۸۵ ۔
[5] مسلم ، کتاب صفۃ الجنۃ وصفۃ نعیمھا ، باب فی شدۃ حر نار جھنم ۔ ۔ ۔ الخ ، ص۱۵۲۴ ، حدیث : ۲۸۴۵ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع