30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پڑھ دی :
وَ اِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ ( پ۲۴ ، المؤمن : ۴۷ ) ترجمۂ کنزالایمان : اور جب وہ آگ میں باہم جھگڑیں گے ۔
جہنم کا نام سنتے ہی آپ بے ہوش ہو کر غسل خانے میں گر پڑے اور بہت دیرکے بعد آپ کو ہوش آیا ۔ اسی طرح ایک شاگرد نے آپ کی کتاب’’ جامع ابن وھب ‘‘ میں سے قیامت کا واقعہ پڑھ دیا تو آپ خوف کی وجہ سے بے ہوش ہو کر گر پڑے اور لوگ آپ کو اٹھا کر گھر لے آئے ۔ جب بھی آپ کو ہوش آتا تو بدن پر لرزہ طاری ہوجاتا اور پھر بے ہوش ہو جاتے ، اسی حالت میں آپ کا انتقال ہو گیا ۔ ( [1] )
مرے اشک بہتے رہیں کاش ہردم ……… ترے خوف سے یا خدا یا الٰہی
ترے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ ……… میں تھرتھر رہوں کانپتا یا الٰہی
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری مغفر ت ہو ۔ آمین
مدنی گلدستہ
’’جہنم سے بچو ‘‘ کے 9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 9مدنی پھول
(1) کل بروزِ قیامت جہنم ستر ہزار ( 70000 ) لگاموں سے باندھ کر لائی جائے گی ۔
(2) ابھی جہنم اُس جگہ نہیں ہے جس جگہ قیامت کے دن لائی جائے گی ۔
(3) دنیا کی آگ جہنم کی آگ کے ستر 70اجزاء میں سے ایک جزء ہے ۔
(4) جہنم ساتویں زمین کے نیچے ہے ۔
(5) جو جہنم سے پناہ مانگتا ہے تو جہنم کہتا ہے : یا اللہ ! اس کو مجھ سے پناہ دے دے ۔ ‘‘
(6) ہمیں جہنم سے پناہ مانگنی چاہیے کیونکہ اس کا عذاب طاقتور سے طاقتور شخص بھی سیکنڈ کے کروڑویں حصے کے لیے بھی برداشت نہیں کرسکتا ۔
(7) جہنم تین ہزار سال تک جلائی گئی ہے اب اس کی آگ بالکل سیاہ ہے اس میں روشنی نام کی چیز نہیں ۔
(8) جہنم کے سات طبقے ہیں ، جن میں مختلف لوگوں کو مختلف عذاب دیے جائیں گے ۔
(9) شیطان کی پیروی کرنے والے اپنے اپنے گناہوں کے اعتبار سے جہنم کے طبقات میں جائیں گے ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں عذابِ جہنم سے محفوظ فرمائے اور ہمیں ایک لمحے کے لیے بھی جہنم میں داخل نہ فرمائے ، ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے راضی ہوجائے اور ہماری بلا حساب مغفرت فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 398 جہنم کا سب سے ہلکا عذاب
عَنِِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ : اِنَّ اَهْوَنَ اَهْلِ النَّارِ عَذَابًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَرَجُلٌ یُوْضَعُ فِی اَخْمَصِ قَدَمَیْہِ جَمْرَتَان يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ مَا يَرَى اَنَّ اَحَدًا اَشَدُّ مِنْهُ عَذَابًا وَاِنَّهُ لَاَهْوَنُهُمْ عَذَابًا. ( [2] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک قیامت کے دن جہنمیوں میں سے جس کو سب سے ہلکا عذاب ہوگا ، وہ یہ ہوگا کہ اس کے تلووں کے نیچے آگ کے دھکتے ہوئے دو انگارے رکھ دئیے جائیں گے جس کی وجہ سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا اور وہ یہ گمان کرے گا کہ اُ س سے زیادہ سخت عذاب کسی کو نہیں ہورہا ، حالانکہ اُسے سب سے ہلکا عذاب ہوگا ۔ “
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’یعنی جہنم میں جس شخص کو سب سے ہلکا عذاب ہوگا وہ یہ سمجھے گا کہ اس سے زیادہ سخت عذاب کسی کو نہیں دیا جارہا وہ ایسا اس لیے سمجھے گا کیونکہ وہ تنہا ہوگا اور اسے دوسرے جہنمیوں کے حال کی اطلاع نہ ہوگی ۔ اس حدیث میں اس بات کی صراحت ہے کہ جہنمیوں کو الگ الگ قسم کا عذاب ہوگا ۔ ‘‘ ( [3] )
جہنم کے مختلف طبقا ت کا عذاب :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع