دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

جہنم ابھی  کہاں ہے ؟

مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتْ مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’اس فرمان عالی سے معلوم ہوتا ہے کہ دوزخ پیدا ہوچکی ہے ، نیز وہ اِس وقت اُس جگہ نہیں جہاں قیامت کے بعد ہوگی یعنی محشر اور جنت کے درمیان راستے میں ، ابھی یہ کسی اور جگہ ہے ۔ اُس دن ملائکہ اُسے کھینچ کر وہاں پہنچائیں گے جہاں اس نے رہنا ہے ۔ اس کی تائید قرآنِ کریم کی اس آیت سے ہے :

وَ جِایْٓءَ یَوْمَىٕذٍۭ بِجَهَنَّمَ ﳔ  ( پ۳۰ ، الفجر : ۲۳ )                             ترجمۂ  کنزالایمان  : اور اس دن جہنم لائی جائے ۔

حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے معراج میں دوزخ کی سیر فرمائی اس جگہ جہاں وہ تھی ۔ آج اتنابڑا سورج کس قدر تیزی سے حرکت کر ہا ہے ، یوں ہی دوزخ اپنی جگہ سے ہٹا کر لائی جائے گی ۔ ‘‘ ( [1] ) ایک قول یہ بھی ہے کہ جہنم ساتویں زمین کے نیچے ہے ۔  ( [2] )

جہنم کی کیفیت کا بیان :

بہارشریعت میں ہے :  ’’  یہ ایک مکان ہے کہ اُس قہار و جبار کے جلال و قہر کا مظہر ہے ۔  جس طرح اُس کی رحمت و نعمت کی انتہا نہیں کہ انسانی خیالات و تصورات جہاں تک پہنچیں وہ ایک شَمّہ ( قلیل مقدار ) ہے اُس کی بے شمار نعمتوں سے ، اسی طرح اس کے غضب و قہر کی کوئی حد نہیں کہ ہر وہ تکلیف و اذیت کہ اِدراک کی  جائے ، ایک ادنیٰ حصہ ہے اس کے بے انتہا عذاب کا ۔  قرآنِ مجید و احادیث میں جو اُس کی سختیاں مذکور ہیں ، ان میں سے کچھ اِجمالاً بیان کرتا ہوں کہ مسلمان دیکھیں اور اس سے پناہ مانگیں اور اُن اعمال سے بچیں جن کی جزا جہنم ہے ۔  حدیث میں ہے کہ جو بندہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے ، جہنم کہتا ہے :  اے رب !  یہ مجھ سے پناہ مانگتا ہے ، تُو اس کو پناہ دے ۔   قرآنِ مجید میں بکثرت ارشاد ہوا کہ جہنم سے بچو !  دوزخ سے ڈرو !  ہمارے آقا و مولیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ہم کو سکھانے کے لیے کثرت کے ساتھ اُس سے پناہ مانگتے ۔  جہنم کے شرارے ( چنگاریاں ) اُونچے اُونچے محلوں کی برابر اُڑیں گے ، گویا زَرد اُونٹوں کی قطار کہ پیہم آتے رہیں گے ۔ آدمی اور پتھر اُس کا ایندھن ہے ، یہ جو دنیا کی آگ ہے اُس آگ کے ستّر جُزوں میں سے ایک جُز ہے ۔  جہنم کی آگ ہزار برس تک دھونکائی گئی ، یہاں تک کہ سُرخ ہوگئی ، پھر ہزار برس اور ، یہاں تک کہ سفید ہو گئی ، پھر ہزار برس اور ، یہاں تک کہ سیاہ ہو گئی ، تو اب وہ نِری سیاہ ہے جس میں روشنی کا نام نہیں ۔  یہ دنیا کی آگ ( جس کی گرمی اور تیزی سے کون واقف نہیں کہ بعض موسم میں تو اس کے قریب جانا شاق ہوتا ہے ، پھر بھی یہ آگ ) خدا سے دعا کرتی ہے کہ اسے جہنم میں پھر نہ لے جائے ، مگر تعجب ہے انسان سے کہ جہنم میں جانے کا کام کرتا ہے اور اُس آگ سے نہیں ڈرتا جس سے آگ بھی ڈرتی اور پناہ مانگتی ہے ۔ دوزخ کی گہرائی کو خدا ہی جانے کہ کتنی گہری ہے ، حدیث میں ہے کہ اگر پتھر کی چٹان جہنم کے کنارے سے اُس میں پھینکی جائے تو ستّر برس میں بھی تہہ تک نہ پہنچے گی ۔ “ ( [3] )

جہنم کے طبقات :

دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب  ” جہنم کے خطرات“ کے صفحہ نمبر ۱۵ پر ہے : ’’قرآنِ مجید کی آیت مبارکہ ہے : (  لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍؕ-لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ۠(۴۴))  ( پ۱۴ ، الحجر : ۴۴ ) ترجمۂ  کنزالایمان  : ’’اِس کے سات دروازے ہیں ہر دورازے کیلئے ان میں سے ایک حصہ بٹا ہوا ہے ۔   ‘‘  اِس آیت کی تفسیر میں مفسرین کا قول ہے کہ جہنم کے سات طبقات ہیں جن کے نام یہ ہیں :  ( 1 ) جَہَنَّم ( 2 ) لَظَی ( 3 ) حُطَمَہ ( 4 ) سَعِیْر ( 5 ) سَقَر ( 6 ) جَحِیْم ( 7 ) ھَاوِیَہ ۔ پوری آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’شیطان کی پیروی کرنے والے بھی سات حصوں میں منقسم ہیں ، اُن میں سے ہر ایک کیلئے جہنم کا ایک طبقہ معین ہے ۔   ‘‘ 

جہنم کے خوف سے جگر ٹکڑے ہوگیا :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب بندے ہیں ، جن کے بارے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے قرآنِ مجید میں اپنی رضا کا پروانہ جاری فرمادیا ہے ۔  چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :

رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ ( پ۳٠ ، البینۃ : ۸ )         ترجمۂ  کنزالایمان  : اللہ ان سے راضی ۔

اس کے باوجود صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمیں ایسا خوفِ خدا پایا جاتا تھا کہ ہر وقت اُن پر لرزہ طاری رہتا تھا اور وہ جہنم کا نام سن کر ہی کانپ اٹھتے تھے ۔ بعض اوقات تو خوف سے انتقال بھی کرجاتے تھے ۔  چنانچہ مروی ہے کہ ایک نوجوان انصاری صحابی پر دوزخ کا ایسا خوف طاری ہوا کہ وہ مسلسل رونے لگے اور اپنے آپ کو گھر میں قید کر لیا ۔ حضورنبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لائے اور اُن کو اپنے سینے سے لگایا اوروہ انتقال کر گئے ۔  رسولِ اَکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ” اپنے ساتھی کے کفن ودفن کا انتظام کرو ، جہنم کے خوف نے اِس کے جگر کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے  ۔ “ ( [4] )

 جہنم کا نام سن کر بے ہوش ہو گئے :

    حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن وہب فہریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ایک لاکھ اَحادیث زبانی یاد تھیں ۔ آپ پر خوفِ الٰہی کا بڑا غلبہ تھا  ۔ ایک دن حمام میں تشریف لے گئے تو کسی نے یہ آیت



[1]      مرآۃ المناجیح ، ۷ / ۵۳۲ ۔

[2]       جمع الفرائد علی شرح العقائد النسفیۃ ، والجنۃ حق والنار حق ، ص۲۴۹ ۔

[3]      بہارِ شریعت ، ۱ /  ۱۶۳ ، ۱۶۶ ، حصہ اول ۔

[4]      شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ تعالیٰ ، ۱ / ۵۳۰ ، حدیث :  ۹۳۶ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن