30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
واحکامات سے بے زاری اور نصرانی ( عیسائی ) مذہب اختیار کرتا ہوں ۔ ‘‘ معاذاللہ پھر وہ مر گیا ۔ اس کے بعد دوسرے بھائی نے تیس برس تک مسجد میں فِیْ سَبِیْلِ اللہ اذان دی مگر اس نے بھی آخری وقت نصرانی ہونے کا اعتراف کیا اور مر گیا ۔ لہٰذا میں اپنے خاتمہ کے بارے میں بے حد فکر مند ہوں اور ہر وقت خاتمہ بالخیر کی دعا مانگتا رہتا ہوں ۔ توحضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن احمد مؤذن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس سے استفسار فرمایا : ’’تمہارے دونوں بھائی ایسا کون سا گناہ کرتے تھے ؟ ‘‘ اس نے بتایا : ’’وہ غیر عورتوں میں دلچسپی لیتے تھے اور اَمردوں ( بے ریش لڑکوں ) کو ( شہوت سے ) دیکھا کرتے تھے ۔ ‘‘ ( [1] )
نفس بے لگام تو گُناہوں پہ اُکساتا ہے
توبہ توبہ کرنے کی بھی عادت ہونی چاہے
مدنی گلدستہ
’’خوف اِلٰہِی ‘‘ کے 7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول
(1) اپنے سابقہ گناہوں کی وجہ سے رحمتِ الٰہی سے مایوس نہیں ہونا چاہیے بلکہ گناہوں سے سچی پکی توبہ کرکے نیک اعمال کرنے چاہیے رب تعالیٰ کو راضی کرنا چاہیے ۔
(2) ہر وقت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہنا چاہیے اور خاتمہ بالخیر کی دعا کرنی چاہیے ۔
(3) جو نیک اعمال کرے اسے فخر نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی اپنی نیکیوں پر مطمئن ہونا چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ نیک اعمال چھوڑ کر گناہوں میں لگ جائے اور جہنم میں داخلہ مقدر ہوجائے ۔
(4) اللہ عَزَّوَجَلَّ قادر مطلق ہے ، وہ ایک آن میں بھی انسان کو بغیر مراحل کے پیدا کرسکتا تھا مگر اس نے انسان کی تخلیق میں مختلف مراحل رکھے اس میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہیں ۔
(5) جس طرح اللہ عَزَّوَجَلَّ انسان کو پانی کے ایک قطرے سے پیدا کرنے پر قادر ہے اسی طرح مرنے کے بعد دوبارہ اس میں جان ڈال کر اٹھا نے پر بھی قادر ہے ۔
(6) تقدیر میں جو لکھا ہے وہی ہوگا اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو لکھ دیا گیا ہے وہ ہمیں کرنا پڑتا ہے بلکہ جو ہم کرنے والے تھے اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے علم سے جانتا تھااس نے وہی لکھ دیا ۔
(7) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ہمیشہ ڈرتے رہنا چاہیے کہ اس سے تو فرشتے بھی ڈرتے ہیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی خفیہ تدبیر سے ڈرنے کی توفیق عطا فرمائے ، اپنی رحمت اور اپنا خوف نصیب فرمائے ، نیکیاں کرنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 397 جہنم کی ستر ہزار لگامیں
عَنْ عَبْدِ اللہِ ابْن مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم : یُؤْتَی بِجَہَنَّمَ یَوْمَئِذٍلَھَا سَبْعُوْنَ اَلْفَ زِمَامٍ مَعْ کُلِّ زِمَامٍ سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلَکٍ یَجُرُّوْنَھَا. ( [2] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہی سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’قیامت کے دن جہنم کو ستر ہزار ( 70000 ) لگاموں سے کھینچ کر لایا جائے گا ، ہر لگام کو ستر ہزار ( 70000 ) فرشتے پکڑ کر کھینچ رہے ہوں گے ۔ ‘‘
مذکورہ حدیث میں جہنم کی ہولناک جسامت اور کیفیت کا بیان ہے جسے پڑھ کر یا سن کر بندہ خوف سے کانپ اٹھتا ہے ، قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں مختلف مقامات پر جہنم سے پناہ مانگنے ، اس سے بچنے ، اس کی ہیئت وکیفیت کا بیان اور اسے برا ٹھکانہ قرار دیا گیا ہے ۔ جہنم اللہ عَزَّ وَجَلَّکے قہر وجلال اور غضب کا مظہر ہے ، جہنم کا خوف دراصل اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کا خوف ہے ، اور یہ باب بھی خوف خدا کا ہے ، اسی لیے علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے یہ حدیث پاک اس باب میں بیان فرمائی ہے ۔
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’جہنم عربی زبان کا لفظ ہے یا عجمی زبان کا اس بارے میں اختلاف ہے پس ایک قول یہ ہے کہ جہنم عربی لفظ ہے اور ” جُہُوْمَۃٌ“ سے بنا ہے اور جُہُوْمَۃٌ کا معنی ہے وہ منظر جس کو دیکھنا ناگوار گزرے ۔ ایک قول یہ ہے کہ جہنم اہلِ عرب کے قول ” بئر جھنام“ سے ماخوذ ہے اس کا مطلب ہے گہرا کنواں ۔ اکثر لوگوں نے کہا کہ جہنم عربی نہیں بلکہ عجمی لفظ ہے ۔ ‘‘ ( [3] )
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع