دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

بھی قادر ہے ۔ “ ( [1] )

تقدیرِ اِلٰہی سے متعلق ایک اہم وضاحت :

مذکورہ حدیث پاک سے ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے سب کی تقدیر پہلے ہی لکھ دی ہے کہ کون خوش بخت ہے اور کون بد بخت ہے کون جنتی ہے اور کون جہنمی ہے تو پھر یہ سزا و جزاء کا معاملہ کیوں رکھاگیا؟اس کا جواب یہ ہے کہ تقدیر کا معاملہ ایسا نہیں ہے کہ جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے لکھ دیا ہے وہی ہمیں کرنا پڑتا ہے ۔  ایسا ہرگز نہیں ، بلکہ جو ہم نے اس دنیا میں آکر کرنا تھا اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے علمِ ازلی سے جان لیا اور وہی لوحِ محفوظ پر لکھ دیا ۔ چنانچہ صدرالشریعہ بدرالطریقہ ، مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ ہر بھلائی ، بُرائی اُس نے اپنے علمِ اَزلی کے موافق مقدّر فرما دی ہے ، جیسا ہونے والا تھا اورجو جیسا کرنے والا تھا ، اپنے علم سے جانا اور وہی لکھ لیا تو یہ نہیں کہ جیسا اُس نے لکھ دیا ویسا ہم کو کرنا پڑتا ہے ، بلکہ جیسا ہم کرنے والے تھے ، ویسا اُس نے لکھ دیا ۔  زید کے ذمّہ برائی لکھی اس لیے کہ زید برائی کرنے والا تھا ، اگر زید بھلائی کرنے والا ہوتا وہ اُس کے لیے بھلائی لکھتا تو اُس کے علم یا اُس کے لکھ دینے نے کسی کو مجبور نہیں کر دیا ۔ ‘‘ ( [2] )

اَسّی ہزار سال کی عبادت ضائع :

مذکورہ حدیث پاک میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر کا بہت واضح بیان ہے ۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے کوئی واقف نہیں ہے ۔  منقول ہے کہ ابلیس ( یعنی شیطان ) نے اَسّی ہزار ( 80000 ) سال عبادت میں گزارے اور ایک قدم کے برابر بھی کوئی جگہ نہ چھوڑی جس پر اس نے سجدہ نہ کیا ہو ۔ پھر جب اس نے رب تعالیٰ کی حکم عدولی کی تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے اسے اپنی بارگاہ سے مردود کر دیا ، قیامت تک کے لئے اس کے گلے میں لعنت کا طوق ڈال دیا گیا ، اس کی ساری عبادت ضائع ہو گئی اوراسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں جلنے کی سزا دے دی گئی ۔ حضورنبی رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مروی ہے کہ آپ نے حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام  کو دیکھا کہ ابلیس کے انجام سے عبرت گیر ہو کر کعبہ مشرفہ کے پردے سے لپٹ کر نہایت گریہ وزاری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ دعا کر رہے ہیں : ’’اِلٰھِی وَسَیِّدِیْ لَا تُغَیِّرْ اِسْمِیْ وَلَا تُبَدِّلْ جِسْمِیْیعنی اے میرے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  !  اے میرے مالک  !  کہیں میرا نام نیکوں کی فہرست سے نہ نکال دینا اور کہیں میرا جسم اہل عطا کے زمرہ سے نکال کر اہل عتاب کے گروہ میں شامل نہ فرما دینا  ۔ “ ( [3] )

حضرت سیدنا ابوالقاسم عبدالکریم ہوازن قشیری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :  ’’جب ابلیس اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ سے مردود ہوا تو اس کا یہ عبرت ناک انجام دیکھ کر حضرت سیدنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام اور حضرت سیدنا میکائیل عَلَیْہِ السَّلَام ایک عرصہ تک روتے رہے ۔  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ان کی طرف وحی فرمائی اور پوچھا کہ ’’تم دونوں کے رونے کا کیا سبب ہے ؟  ‘‘   انہوں نے عرض کی :  ’’اے ہمارے رب کریم !  ہم تیری خفیہ تدبیر سے بے خوف نہیں ہیں ۔  ‘‘ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا :  ’’تمہیں اسی طرح ہونا چاہیے ، تمہیں میری خفیہ تدبیر سے بے خوف نہیں ہونا چاہیے ۔ ‘‘ ( [4] )

اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہیے :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حضرتِ سَیِّدُنا جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَام سید المعصومین یعنی ملائکہ کے سردار ہیں ، ملائکہ معصوم ہیں یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے انہیں گناہوں سے اس طرح محفوظ فرمایا ہے کہ ان سے کسی بھی طرح گناہ کا صدور ممکن نہیں  مگر پھر بھی خوفِ خدا سے کیسی گریہ و زاری کر رہے ہیں ۔  اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی خفیہ تدبیر سے ڈرتے ہیں ۔ مگر آہ !  ہمارے تو شب وروز گناہوں میں بسر ہورہے ہیں ، ہمیں نہیں معلوم کہ دنیا سے ایمان بھی سلامت لے کر جائیں گے یا نہیں؟قبر وحشر میں ہمارا کیا حال ہوگا؟ ہمارا رب کریم ہم سے راضی ہے کہ نہیں؟ہم جیسے گنہگاروں کو تو ہر وقت توبہ و استغفار کرتے رہنا چاہیے ، نیکیوں پر کمربستہ ہوجانا چاہیے ، گناہوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سچی پکی توبہ کرلینی چاہیے ۔ نیز چاہے کوئی کتنی ہی عبادت کرلے اُسے اپنی عبادت پر مطمئن نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی غرور کرنا چاہیے ۔  دیکھئے شیطان نے ہزاروں سال عبادت کی ، زمین پر کوئی ایسی جگہ نہ چھوڑی جہاں اس نے سجدہ نہ کیا ہو لیکن اس کا انجام یہ ہوا کہ مردودِ بارگاہ الٰہی ہوگیا ۔

دو اَ مرد پسند مؤذنوں کی بربادی :

  حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن احمد مؤذن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں طواف ِکعبہ میں مشغول تھا کہ ایک شخص پر نظر پڑی جو غلافِ کعبہ سے لپٹ کرایک ہی دعا کی تکرا رکر رہا تھا : ’’یااللہ عَزَّ  وَجَلَّ ! مجھے دنیا سے مسلمان ہی رخصت کرنا ۔   ‘‘  میں نے اس سے پوچھا :  ’’تم اس کے علاوہ کوئی اور دعاکیوں نہیں مانگتے ؟  ‘‘   اس نے کہا :  ’’کاش !  آپ کو میرے واقعہ کا علم ہوتا ۔ ‘‘ میں نے دریافت کیا :  ’’تمہارا کیا واقعہ ہے ؟  ‘‘   تو اس نے بتایا کہ میرے دو بھائی تھے ، بڑے بھائی نے چالیس سال تک مسجد میں بلامعاوضہ اذان دی ، جب اس کی موت کاوقت آیا تو اس نے قرآنِ پاک مانگا ۔  ہم نے اسے دیا تاکہ اس سے برکتیں حاصل کرے ، مگر قرآن شریف ہاتھ میں لے کر کہنے لگا :  ’’تم سب گواہ ہوجاؤکہ میں قرآن کے تمام اعتقادات



[1]      عمدۃ القاری ، کتاب بدء الخلق ، باب ذکر الملائکۃ ، ۱۰ / ۵۷۱ ، تحت الحدیث : ۳۲۰۸ ۔

[2]      بہارِ شریعت ، ۱ / ۱۱ ، حصہ اول ۔

[3]      منھاج العابدین ، الباب الخامس ، ص۱۴۶ ۔

[4]     رسالہ قشیریۃ ، باب الخوف ، ص۱۶۶ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن