30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لیے دو جنتیں ہیں ۔ دو جنتوں سے مراد جنتِ عدن اور جنتِ نعیم ہے ۔ دوسرے قول کے مطابق ایک جنت خوفِ خدا کے عوض اور دوسری جنت خواہشات اور گناہ کو چھوڑنے کی وجہ سے ملے گی ۔ ‘‘ ( [1] )
مُفَسِّرشہِیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’یعنی جو مؤمن انسان قیامت کے حساب سے خوف کرکے گناہ چھوڑ دے ، کیونکہ جنات اور جانوروں کے لیے جنت نہیں اگرچہ ان کا حساب ہوگا ۔ فرشتوں کے لیے نہ حساب ہے نہ جنت ۔ معلوم ہوا کہ خوفِ الٰہی اعلی نعمت ہے کہ اس کی دو جنتیں ہیں ۔ ایک جنت اَعمال کی جزا ، دوسری ربّ کا اِنعام یا ایک جنت رب کے خوف کی دوسری اس کی اطاعت کی یا ایک جنت جسمانی راحتوں کی ، دوسری روحانی آرام کی ۔ اُن کی وُسعت رب ہی جانتا ہے ۔ ‘‘ ( [2] )
فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ(۲۵)قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِیْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِیْنَ(۲۶)فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ(۲۷)اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ۠(۲۸) ( پ۲۷ ، الطور : ۲۵تا۲۸ )
ترجمۂ کنزالایمان : اور اُن میں ایک نے دوسرے کی طرف منہ کیا پوچھتے ہوئے ، بولے بے شک ہم اس سے پہلے اپنے گھروں میں سہمے ہوئے تھے تو اللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں لُو کے عذاب سے بچا لیا بے شک ہم نے اپنی پہلی زندگی میں اس کی عبادت کی تھی بے شک وہی احسان فرمانے والا مہربان ہے ۔
تفسیر خازن میں ہے : ’’یعنی جنتی جنت میں ایک دوسرے سے پوچھیں گے ۔ حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : ’’ یعنی دنیا میں جس خوف اور مشقت میں تھے اس کے بارے میں بات کریں گے ۔ تو کہیں گے کہ : ہم دنیا میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب سے ڈرتے ڈرتے رہتے تھے ۔ پس اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہماری مغفرت فرماکر ہم پر احسان فرمایا اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچایا ۔ بے شک دنیا میں ہم اخلاص کے ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کیا کرتے تھے ۔ ‘‘ ( [3] )
تفسیر خزائن العرفان میں ہے : ’’یعنی جنتی جنت میں ایک دوسرے سے دریافت کریں گے کہ دنیا میں کس حال میں تھے اور کیا عمل کرتے تھے اور یہ دریافت کرنا نعمت الٰہی کے اعتراف کے لیے ہوگا ۔ ( ہم اس سے پہلے اپنے گھروں میں سہمے ہوئے تھے ۔ ) اللہتعالیٰ کے خوف سے اور اس اندیشہ سے کہ نفس وشیطان خلل ایمان کا باعث نہ ہوں اور نیکیوں کے روکے جانے اور بدیوں پر گرفت کیے جانے کا بھی اندیشہ تھا ۔ ‘‘ ( [4] )
باب سے متعلق دیگر آیات کی وضاحت :
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ خوف کے متعلق بہت ساری آیات ہیں ( [5] ) جن میں بہترین معلومات ہیں ، لیکن ہمارا مقصد فقط چندآیات کی طرف اشارہ کرنا تھا جو کہ حاصل ہوگیا اور اِس باب کے متعلق احادیث بھی کثیر ہیں ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی توفیق سے ہم ان احادیث میں سے بھی کچھ بیان کریں گے ۔ ‘‘
خوف خدا سے متعلق ضروری اُمور کا بیان
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! خوف خدا سے متعلق احادیث مبارکہ سے پہلے خوف کے بارے میں کچھ ضروری اور مفید معلومات پیش خدمت ہیں ۔
مطلق خوف اور خوف خدا کی تعریف :
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 160 صفحات پر مشتمل کتاب ” خوفِ خدا“ کے صفحہ نمبر 14 پر ہے : ’’ یاد رکھئے کہ مطلقاًخوف سے مراد وہ قلبی کیفیت ہے جو کسی ناپسندیدہ امر کے پیش آنے کی توقع کے سبب پیدا ہومثلاً پھل کاٹتے ہوئے چھری سے ہاتھ کے زخمی ہوجانے کا ڈر ۔ خوفِ خدا کامطلب یہ ہے کہ اللہتعالیٰ کی بے نیازی ، اس کی ناراضی ، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلا ہوجائے ۔ ‘‘
علامہ ابوالقاسم عبد الکریم ہوازن قشیری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’مطلق خوف ایک ایسی کیفیت ہوتی ہے جس کا تعلق مستقبل کے ساتھ ہوتا ہے کیونکہ خوف میں آدمی کو اس بات کا ڈر ہوتا ہے کہ کوئی ناپسندیدہ بات نہ ہوجائے یا کوئی محبوب شے نہ چلی جائے اور یہ بات اسی چیز کی وجہ سے ہوتی ہے جو مستقبل میں حاصل ہوگی جبکہ موجودہ چیزوں کے ساتھ خوف کا تعلق نہیں ہوتا ۔ بندے کے دل میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا خوف یہ ہے کہ اس کے دل میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے دنیا یا آخرت میں عذاب کا ڈر ہو اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے یہ ڈر خود اپنے بندوں پر لازم فرمایا ہے ۔ ‘‘ ( [6] )
خوف خدا سے متعلق مختلف اقوال :
[1] تفسیر خازن ، پ۲۷ ، الرحمن ، تحت الآیۃ : ۴۶ ، ۴ / ۲۱۳ ۔
[2] تفسیرنورالعرفان ، پ۲۷ ، الرحمن ، تحت الآیۃ : ۴۶ ۔
[3] تفسیر خازن ، پ۲۷ ، الطور ، تحت الآیۃ : ۲۵ تا۲۸ ، ۴ / ۱۸۸ ۔
[4] تفسیرخزائن العرفان ، پ۲۷ ، الطور ، تحت الآیۃ : ۲۷ ۔
[5] خوفِ خدا سے متعلق مزید آیات ومعلومات کیلئے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتب’’خوفِ خدا ‘‘ اور’’احیاء العلوم ‘‘ جلدچہارم کا مطالعہ کیجئے ۔
[6] رسالہ قشیریۃ ، باب الخوف ، ص۱۶۱ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع