دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

نصیب ، تو وہ جو بد بخت ہیں وہ تو دوزخ میں ہیں وہ اُس میں گدھے کی طرح رینکیں ( چیخیں چلائیں ) گے ۔

تفسیر طبری میں ہے : ’’اے لوگو !  جس طرح میں نے اس بستی والوں کی پکڑ فرمائی جن کا میں نے قصہ بیان کیا کہ جب انہوں نے میرے حکم کے خلاف کیا ، میرے رسولوں کو جھٹلایا اور میری آیات کا انکار کیا تو میرے عذاب نے انہیں آلیا اور انہوں نے کفر کر کے ، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ساتھ شرک کر کے اور اس کے رسولوں کو جھٹلاکر خود اپنی جانوں پر ظلم کیا ۔ یہ آیت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے اِس اُمَّت کو تحذیر ( ڈرانے کے لیے ) ہے کہ اگر تم لوگ سابقہ اُمَّتوں کے نقشِ قدم پر چلے تو تمہیں بھی عذاب ہوگا ۔ جن بستیوں کا ہم نے تذکرہ کیا ان کی پکڑ کرنے میں اُن بندوں کے لیے عبرت و نصیحت ہے جو اُس کی پکڑ اور آخرت کے  عذاب سے ڈرتے ہیں ، نیز اُن پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے حجت اور تنبیہ ہے کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی خلاف ورزی نہ کریں ۔ ‘‘ ( [1] ) تفسیرِ روحُ البیان میں ہے  : ’’یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی گرفت بہت دردناک اور شدید تکلیف والی ہے اس کے لیے جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ پکڑے اور وہ اُس کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا جیسا کہ حضرتِ سَیِّدُناابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب اس کی پکڑ فرماتا ہے تو وہ اُس سے بچ نہیں سکتا ۔  پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہی مذکورہ بالا آیت مبارکہ تلاوت فرمائی ۔ ‘‘ ( [2] )

 ( 4 ) اللہ عَزَّوَجَلَّکے غضب سے ڈرو

فرمانِ باری تعالیٰ ہے :

وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗؕ      ( پ۳ ، آل عمران : ۲۸ )                  ترجمۂ  کنزالایمان  :  اور اللہ تمہیں اپنے غضب سے ڈراتا ہے ۔

عَلَّا مَہ عَلَاءُ الدِّیْن عَلِی بِنْ مُحَمَّد خَازِن  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :  ’’یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں اس بات سے ڈراتا ہے کہ تم اُس کی نافرمانی کرو ، اُس کی منع کردہ چیزوں کا ارتکاب کرکے ، اَحکامات کی خلاف ورزی کرکے یا کفار سے میل جول رکھ کر پس ایسا کر کے تم اس کے عذاب کے مستحق ٹھہرو گے ۔ ‘‘ ( [3] ) عَلَّامَہ اِسْمَاعِیْل حَقِّی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ’’یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ذاتِ مقدسہ تمہیں ڈراتی ہے جیسا کہ قرآن میں دیگر مقامات پر ہے : ( فَاتَّقُوْنِ )مجھ سے بچو ( وَ اخْشَوْنِ ) اورمجھ سے ڈرو ۔  یعنی میری ناراضی اور میری گرفت سے ڈرو ۔  اللہ عَزَّوَجَلَّکے دشمنوں سے دوستی کر کے اس کی ناراضگی مول نہ لو ، یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے سخت وعید ہے ۔ ‘‘ ( [4] )

 ( 5 ) قیامت کے ہولناک دِن کی فکر

فرمانِ باری تعالیٰ ہے :

یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴)وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵)وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ(۳۶)لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷) ( پ۳۰ ، عبس : ۳۴تا۳۷ )

ترجمۂ  کنزالایمان  : اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی اور ماں اور باپ اور جَورُو ( بیوی ) اور بیٹیوں سے ۔ ان میں سے ہر ایک کو اُس دن ایک فکر ہے کہ وہی اُسے بس ہے ۔

اِمَام فَخْرُ الدِّیْن رَازِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ’’یہ بھی ممکن ہے کہ بھاگنے سے مراد یہ ہو کہ وہ اُن سے دُوررہنے اور بچنے کے لیے بھاگے گا اور سبب اِس کا یہ ہو کہ وہ اپنے مطالبات کے لیے اس کے  پیچھے پڑ جائیں گے کیونکہ بھائی کہے گا :  تو نے اپنے مال سے میری مدد نہیں کی ۔  ماں باپ کہیں گے :  تو نے ہمارے ساتھ بھلائی کرنے میں کمی کی ۔  بیوی کہے گی  : تو نے مجھے حرام کھلایا ۔  تو نے یہ کیا یہ کیا ۔ بیٹے کہیں گے :  تو نے ہمیں علمِ دین نہیں سکھایا ، ہماری صحیح راہنمائی نہیں کی ۔  ایک قول کے مطابق اپنے بھائی سے بھاگنے والوں میں سب سے پہلا انسان قابیل  ہوگا کہ اپنے بھائی سے دور بھاگے گا ۔ ‘‘ ( [5] )

قیامت کے دن ہر کسی کو اپنی اپنی پڑی ہوگی ، ہر ایک دوسرے سے دور بھاگ رہا ہوگا ۔  علامہ قرطبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ایک شخص اپنے جاننے والوں سے اس لیے بھاگے گا تاکہ  وہ اِسے بُری حالت میں دیکھ نہ لیں ۔  ایک قول یہ بھی ہے کہ اس لیے بھاگے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ نہ تو اسے نفع پہنچائیں گے اور نہ ہی اسے کسی چیز سے بچائیں گے ۔ ‘‘ ( [6] )

 ( 6 ) اے لوگو !  اپنے رب سے ڈرو

فرمانِ باری تعالیٰ ہے :

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْۚ-اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ(۱)یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲)  ( پ۱۷ ، الحج : ۱ ، ۲ )

 



[1]      تفسیر طبری ، پ۱۲ ، ھود ، تحت الآیۃ : ۱۰۲ ، ۱۰۳ ، ۷ / ۱۱۱ ۔

[2]      بخاری ، کتاب التفسیر ، باب وکذلک اخذ ۔ ۔  ۔ الخ ، ۳ / ۲۴۷ ، حدیث : ۴۶۸۶ ، تفسیر روح البیان ، پ۱۲ ، ھود ، تحت الآیۃ : ۱۰۲ ، ۴ / ۱۸۵ ۔

[3]      تفسیر خازن ، پ۳ ، ال عمران ، تحت الآیۃ : ۲۸ ، ۱ / ۲۴۲ ۔

[4]      تفسیر روح البیان ، پ۳ ، ال عمران ، تحت الآیۃ : ۲۸ ، ۲ / ۲۰ ۔

[5]      تفسیر کبیر ، پ۳۰ ، عبس ، تحت الآیۃ : ۳۴تا$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن