30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ(۴۰) ( پ۱ ، البقرۃ : ۴۰ ) ترجمۂ کنزالایمان : اور خاص میرا ہی ڈر رکھو ۔
تفسیر ابنِ کثیر میں ہے : ’’یعنی اِس بات سے ڈرو کہ میں تمہارے اوپر بھی وہی عذاب نازل کروں جو تم سے پہلے تمہارے آباء واَجداد پر نازل کیا تھا جو تمہارے بھی علم میں ہے یعنی صورتوں کو مسخ کرناوغیرہ ۔ اس آیت مبارکہ میں ترغیب سے ترہیب کی طرف انتقال ہے ، ترغیب اور ترہیب کے ساتھ رب تعالیٰ نے اپنی طرف لوگوں کو بلایا ہے تاکہ وہ حق کی طرف رجوع کریں ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اتباع کریں ، قرآنِ پاک کے احکام کو بجالائیں ، اس کی خبروں کی تصدیق کریں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی جسے چاہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دینے والا ہے ۔ ‘‘ ( [1] ) تفسیر روح البیان میں ہے : ’’اس آیت میں نعمت کا شکر کرنے اور وعدہ پورا کرنے کے واجب ہونے کا بیان ہے اوریہ بھی کہ مومن کو صرف اور صرف اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرنا چاہیے ۔ ‘‘ ( [2] )
تفسیر کبیر میں ہے : ’’جو دنیا میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا سب سے زیادہ خوف اور ڈر رکھنے والا ہوگا وہ کل بروز قیامت اتنا ہی امان میں ہوگا اور جو دنیا میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا جتنا کم خوف رکھنے والا ہوگا وہ کل بروز قیامت اتنی ہی کم امان میں ہوگا ۔ مَروی ہے کل بروز قیامت ایک منادی ندا دے گا : ’’میرے عزت وجلال کی قسم ! آج میں اپنے بندے پر دو خوف جمع نہیں کروں گا ، اور نہ ہی دو امن جمع کروں گا ۔ جو دنیا میں مجھ سے نہ ڈرا میں قیامت کے دن اس کو خوفزدہ کروں گا ، اور جو دنیا میں مجھ سے ڈرا میں قیامت کے دن اسے امن دوں گا ۔ ‘‘ عارفین فرماتے ہیں : ’’خوف کی دو قسمیں ہیں : پہلااللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عذاب کا خوف ۔ دوسرا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے جلال کا خوف ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عذاب کا خوف اہل ظاہر کو حاصل ہوتا ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے جلال کا خوف اہل قلوب کو حاصل ہوتا ہے ، عذاب کا خوف زائل ہوجاتاہے لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے جلال کا خوف زائل نہیں ہوتا ۔ ‘‘ اس آیت مبارکہ میں اس بات پر دلیل ہے کہ بندے کو چاہیے کہ فقط اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی سے ڈرے ، اسی کی طرف امیدوں اور خواہشات میں بھی نظر رکھے ، نیز اس بات پر بھی دلیل ہے کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خوف اور اس کی رحمت سے امید پر اس کی اطاعت کرے کیونکہ اطاعت خداوندی اس کے خوف اور امید کے بغیر درست نہیں ہوسکتی ۔ ‘‘ ( [3] )
( 2 ) اللہ عَزَّوَجَلَّکی پکڑ سے ڈرو
فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِیْدٌؕ(۱۲) ( پ۳۰ ، البروج : ۱۲ ) ترجمۂ کنزالایمان : بے شک تیرے رب کی گرفت بہت سخت ہے ۔
تفسیر ابن کثیر میں ہے : ’’یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پکڑ اور اس کا اپنے ان دشمنوں سے انتقام بہت سخت ، بڑا اور مضبوط ہے جنہوں نے اس کے رسولوں کو جھٹلایا ، اور اس کے حکم کی مخالفت کی کیونکہ وہ بہت قوت والا قدرت والا ہے ۔ وہ جو چاہتا ہے جیسا چاہتا ہے پلک جھپکنے بلکہ اس سے بھی بہت کم وقت میں کرتا ہے ۔ ‘‘ ( [4] ) تفسیر خازن میں ہے : ” حضرتِ سَیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہاللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب کی گرفت بہت مضبوط ہے جب وہ ظالم کی پکڑ فرماتا ہے تواس کی گرفت بہت شدید ہوتی ہے ( یعنی ظالم اس کی گرفت سے بچ نہیں سکتا ) ۔ ‘‘ ( [5] ) تفسیر طبری میں ہے : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے فرمایا کہ : اے محمد ! ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) آپ کا ربّ اپنی مخلوق میں سے جس کی گرفت کرے تو اس کی گرفت بہت مضبوط ہے ۔ ‘‘ ( [6] )
( 3 ) اللہ عَزَّوَجَلَّکی پکڑ بہت سخت ہے
فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌؕ-اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ(۱۰۲)اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِؕ-ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌۙ-لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ(۱۰۳)وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍؕ(۱۰۴)یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖۚ-فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ(۱۰۵)فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ(۱۰۶) ( پ۱۲ ، ھود : ۱۰۲تا ۱۰۶ )
ترجمۂ کنزالایمان : اور ایسی ہی پکڑ ہے تیرے رب کی جب بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے ظلم پر ، بے شک اس کی پکڑ درد ناک کرّی ( سخت ) ہے بے شک اس میں نشانی ہے اس کے لیے جو آخرت کے عذاب سے ڈرے وہ دن ہے جس میں سب لوگ اکھٹے ہوں گے اور وہ دن حاضری کا ہے اور ہم اسے پیچھے نہیں ہٹاتے مگر ایک گنی ہوئی مدت کے لیے ، جب وہ دن آئے کوئی بے حکمِ خدا بات نہ کرے گاتو اُن میں کوئی بد بخت ہے اور کوئی خوش
[1] تفسیر ابن کثیر ، پ۱ ، البقرۃ ، تحت الآیۃ : ۴۰ ، ۱ / ۲۴۲ ۔
[2] تفسیرروح البیان ، پ۱ ، البقرۃ ، تحت الآیۃ : ۴۰ ، ۱ / ۱۱۸ ۔
[3] تفسیر کبیر ، پ۱ ، البقرۃ ، تحت الآیۃ : ۴۰ ، ۱ / ۴۸۲ ۔
[4] تفسیر ابن کثیر ، پ۳۰ ، البروج ، تحت الآیۃ : ۱۲ ، ۸ / ۳۷۲ ۔
[5] تفسیر خازن ، پ۳۰ ، البروج ، تحت الآیۃ : ۱۲ ، ۴ / ۳۹۴ ۔
[6] تفسیر طبری ، پ۳۰ ، البروج ، تحت الآیۃ : ۱۲ ، ۱۰ / ۵۲۸ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع