دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

( 9 ) شریعت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اگر حاکم فقط ظاہر کے مطابق فیصلہ کردے تو اس کے فیصلے کو قبول کرلینا چاہیے اور باطنی گناہوں یعنی غیبت ، تہمت ، بہتان ، حسد وتکبر  وغیرہ سے بچتے ہوئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ظاہر کے مطابق فیصلہ کرنے میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ بسا اوقات قدرتی طور پر فریقین کے حق میں وہ فیصلہ مفید ہوتا ہے ، اگر اس معاملے کے باطن کی طرف بامشقت کوشش کی جائے تو فریقین میں سے کسی کو کوئی ظاہری یا باطنی طور پر نقصان بھی ہوسکتا ہے ۔ اس سلسلے میں شیخ طریقت امیر اہلسنت ، بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ ومولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی مایہ ناز تصنیف ’’نیکی کی دعوت  ‘‘   صفحہ ۲۲۷سے اعلی حضرت ، عظیم البرکت ، عظیم المرتبت ، مجدد دِین وملت ، پروانہ شمع رسالت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن کا ایک وضاحتی فرمان اوراس کے تحت بیان ہونے والی حکایت پیش خدمت ہے : ’’شریعتِ مُطَہَّرہ کے دو حکم ہیں : ظاہر وباطِن ۔ قاضی وعامّۂ ناس ( یعنی عام لوگ ) اُن کی رَسائی ظاہِر اَحوال ہی تک ہے ( کہ وہ فقط ظاہری احوال مطابق ہی لوگوں کے مابین فیصلے کرتے ہیں ) اُن پر اُس کی پابندی لازِم ۔  اگرچِہ واقِفِ حقیقتِ حال ( یعنی وہ جسے باطنی اور حقیقی حال کا علم ہو اس ) کے نزدیک حکم بِالعکس ( یعنی اُلٹ ) ہو ۔   ‘‘ 

قتل کا حیرت انگیزمقدمہ :

 ( مزید فرمایا ) اس کی نَظیر ( یعنی مثال ) زمانۂ سیِّدُنا داود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممیں واقِع ہو چکی ۔ ایک فقیر مُفلِس ، بے نوا ، نانِ شَبِینہ ( یعنی رات کی روٹی ) کو محتاج ، شب کو دُعا کیا کرتا کہ ’’الٰہی ( عَزَّ  وَجَلَّ ) رزقِ حلال عطا فرما ۔ ‘‘ اِتِّفاقًا کسی شب ایک گائے اُس کے گھر میں گھس آئی ، یہ سمجھا کہ میری دعا قَبول ہوئی ، یہ رزقِ حلال غیب سے مجھے عطا ہوا ہے ، گائے پچھا ڑ کر ذَبح کی ، اُس کا گو شت پکایا اور کھایا ۔ صُبح کو مالِک کو خبر ہوئی ۔ وہ سرکارِنُبَوَّت ( عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ) میں نالِشی ( نا ۔ لِ ۔ شی یعنی فریادی ) ہوا ۔ سیِّدُنا داود عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا : ’’جانے دے  !  تُومال دار ہے اُس محتاج نے ایک گائے ذبح کرلی تو کیا ہوا ؟   ‘‘  وہ بگڑا اور کہا :  ’’یا نبیَّ اللہ !  میں حق چاہتا ہوں ۔   ‘‘  فرمایا : ’’اگر حق چاہتا ہے تو گائے اُسی کی تھی ۔ ‘‘ وہ اوربَرہَم ( یعنی غصّے ) ہوا ۔ فرمایا : ’’نہ صرف گائے ( بلکہ ) جِتنا مال تیرے پاس ہے ، سب اُسی کا ہے ۔   ‘‘  وہ اور زیادہ فریادی ہوا تو فرمایا : ’’تُو بھی اُسی کی مِلک ہے اور اُسی کا غلام ہے ۔   ‘‘  اب تو اُس کی بے تابی کی حد نہ تھی ۔ فرمایا : ’’اگر تصدیق چاہتا ہے ابھی ہمارے ساتھ چل ۔   ‘‘  اُس فقیر اور اُس گائے والے کو ہمراہ رِکاب ( یعنی ساتھ ) لے کر جنگل کو تشریف لے گئے ۔ واقِعہ عجیب تھا ، خَلق کا ہُجُوم ساتھ ہولیا ۔ ایک دَرَخت کے نیچے حکم دیا کہ یہاں کھودو ۔  کھودنے سے انسان کا سر اور ایک خنجر جس پر مقتول کا نام کَنْدَہْ ( یعنی لکھا ) تھا ، برآمد ہوا ۔ نبیُّ اللہ ( عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ) نے اُس دَرَخت سے اِرشاد فر مایا : ’’شہادت ( یعنی گواہی ) ادا کرتُو نے کیا دیکھا ؟  ‘‘   پیڑ نے عَرض کی :  ’’یانَبِیَّ اللہ !  ( عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ) یہ اِس فقیر کے باپ کاسَر ہے ، یہ گائے والا اُس کا غلام تھا ۔  اِس ( یعنی گائے والے ) نے موقع پاکر میرے نیچے اپنے آقا ( یعنی فقیر کے والِد ) کو اُسی کے خنجر سے ذَبح کیا اور ز مین میں مَع خنجر ( یعنی خنجر کے ساتھ ) دبادیا اور اس کے تمام اَموال پرقابِض ہوگیا ۔ اُس کا یہ بیٹا بَہُت صغیر سِن ( یعنی کم عمر ) تھا ، اس نے ہوش سنبھالا تو اپنے آپ کو بے کس وبے زَر ( یعنی مفلس و تنگدست ) ہی پایا اور یہ بھی نہ جانا کہ اس کا باپ کون تھا اور اُس کا کچھ مال بھی تھا یا نہیں؟  ‘‘   حکمِ باطِن ثابِت ہوا ، غلام ( یعنی گائے والا چونکہ فقیر کے باپ کا قاتل تھا اس لئے ) گردن مارا گیا ( یعنی قتل کیا گیا ) اور وہ تمام اَموال ( جو گائے والے کے تھے ) وِراثَۃً فقیر کو ملے ۔  ( [1] )

فیصلہ کرنے کے مدنی پھول :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اس باب میں مسلمانوں کے معاملات کے ظاہر کے مطابق فیصلے کرنے کا بیان ہوا ، واضح رہے کہ فریقین کے درمیان فیصلہ کرنا ایک بہت ہی نازک اور اہم معاملہ ہے ، تھوڑی سی بے احتیاطی سے کسی کا بھی حق ضایع ہونے اور آخرت میں اس پر پکڑ ہونے کا سخت اندیشہ ہے ، لہذا ہر وہ شخص جسے یہ ذمہ داری دی جائے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس سے متعلق ضروری اَحکامِ شرعیّہ کو سیکھے اور پھر اُن کے مطابق فیصلہ کرے ۔  فیصلہ کرنے کے مختلف اَحکام اور آداب کی معلومات کے لیے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ ۵۶ صفحات پر مشتمل رسالے ’’فیصلہ کرنے کے مدنی پھول  ‘‘    کا مطالعہ بے حد مفید ہے ۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !                       صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

باب نمبر :  50                                                                                                                                                                                                                                                                                                                  خوفِ خُدا کا بیان

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہمیں اِس دنیا میں اپنی عبادت کرنے کے لیے پیدا فرمایا ہے ، اس نے زندگی اور موت کو بھی پیدا کیا تاکہ یہ جانچ ہو کہ کون نیک  اور اچھے اعمال کرتا ہے اور کون گناہ اور بُرے اعمال؟ جو نیک اَعمال کرے گا ، وہ اسے دائمی نعمت یعنی جنت عطا فرمائے گا اور جو بُرے اَعمال کرے گا ، وہ اُسے چاہے گا تو عذاب میں گرفتار کرے گا لہٰذا سمجھدار وہی ہے جو نیکیوں بھری زندگی گزارے اور اپنے آپ کو گناہوں سے بچائے لیکن کسی بھی اچھی چیز کا حُصُول اُمید کے سبب اور بُری چیز سے بچاؤ خوف کے سبب ہوتا ہے ۔  بندے کو چاہیے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا ، اس کی رحمت کا نزول اور اِنعاماتِ اِلٰہیہ کے حصول کی اُمید رکھے ۔  اسی طرح قبر کی ہولناکیوں ، اس کی دشوار گزار گھاٹیوں ، روزِقیامت کے حساب وکتاب ، جہنم کے ہولناک عذاب اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی کا خوف اپنے دل میں پیدا کرے ۔ جس طرح رب تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی منع ہے ویسے ہی خوفِ خداوندی ضروری ہے کیونکہ خوفِ خدا کے بغیر گناہوں سے بچنا اور نیکیوں بھری زندگی گزارنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ۔ ریاض الصالحین کایہ باب بھی  ” خوفِ خدا“ کے بارے میں ہے ۔ امام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیِّ نے اِس باب میں 8آیات اور  16اَحادیث مبارکہ بیان فرمائی ہیں ۔  پہلے آیات اور اُن کی تفسیر ملاحظہ کیجئے ۔

 ( 1 ) اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی سے ڈرو

 



[1]     نیکی کی دعوت ، ص۲۲۷بحوالہ مثنوی شریف ، دفتر سوم ، ص۲۲۴ تا۲۴۲ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن