دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

اپنے قریب کرلیں گے ۔ ‘‘ معلوم ہوا کہ بھلائی کا ظہور عدل کی علامت ہے لہٰذا جس شخص سے بھلائی ظاہر ہووہ عادل ہے اور اس کی شہادت قبول ہے ۔  چنانچہ عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیحدیث مذکور کے تحت فرماتے ہیں :  ’’ اس حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ  جس شخص سے بھلائی ظاہر ہو تو وہ عادل ہے اور اس کی گواہی کو  قبول  کیا جائے گانیزامیر المؤمنین حضرت  سَیِّدُنَا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے فرمان سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پہلے زمانے یعنی حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانے میں لوگ عادل نیک ہوا کرتے تھے  ۔ ‘‘ ( [1] )

مدنی گلدستہ

’’طیبہ  ‘‘  کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور  اور

اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول

(1)   حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سب سے آخری نبی ہیں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر نبوت ختم ہوچکی ہے ، آپ خاتم النبیین ہیں ۔

(2)   حضور نبی کریم ، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ وحی کے ذریعے لوگوں کے باطنی معاملات سے بھی آگاہ فرمادیتا ہے ۔

(3)   اب اُمَّت کے لیے قیامت تک یہی حکم ہے کہ فقط ظاہر کے اعتبار سے فیصلہ کیا جائے اور باطنی معاملات کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سپرد کردیا جائے ۔

(4)   اگر کسی شخص سے بھلائی کا ظہور ہو تو یہ اس کے عدل کی علامت ہے ایسے شخص کی گواہی مقبول ہے ۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں لوگوں کے مابین ان کے ظاہرکے مطابق شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے سچے فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، نیز ہمیں بھی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سیرت طیبہ پر عمل کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں نیک ، پرہیزگار اور اطاعت گزار بنائے ۔  

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !                       صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ظاہر کے مطابق فیصلہ کی مزیدوضاحت وفوائد :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ باب میں ذکر کردہ تمام احادیث مبارکہ کا باب کے اعتبار سے یہی مفہوم ہے کہ لوگوں کے مختلف معاملات میں ان کے ظاہر کے مطابق ہی فیصلہ کیا جائے گا ، باطنی معاملات کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سپرد کردیا جائے گا ۔ اس سلسلے میں چند اہم مدنی پھول پیش خدمت ہیں :

 ( 1 ) مسلمانوں کے مختلف معاملات کا فیصلہ کرنے کا ہر ایک کو اختیارنہیں ہے بلکہ حاکم وقت ، قاضی ، گورنر ، مفتیان کرام ، علمائے کرام  یا جو اہل ہو اور شریعت جسے اجازت دے وہی اس کا مجاز ہے ۔

 ( 2 ) اگر کسی شخص کو یہ ذمہ داری دی جائے اور وہ اس کا اہل نہ ہوتو اسے چاہیے کہ واضح انکار کردے کہ اب اس کے لیے یہ منصب قبول کرنا شرعاً ناجائز وحرام ہے ۔

 ( 3 ) منصب قضا کا حق ادا کرتے ہوئے شریعت کے مطابق فیصلہ کرنا بڑا ہی جان جوکھوں والا کام ہے اور بہت سے سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن اس حساس منصب سے بچنے میں ہی عافیت جانتے تھے ۔

 ( 4 ) اگر کوئی شخص منصب قضا کا اہل ہو اور اسے معلوم ہو کہ اگر وہ اس منصب کو قبول نہیں کرے گا تو ہوسکتا ہے کسی نااہل شخص کو یہ منصب دے دیا جائے گا تو اسے چاہیے کہ اب یہ منصب قبول کرلے ۔

 ( 5 ) بعض لوگ اپنے طور پر مخصوص حلقہ بنا کر لوگوں کے مختلف معاملات کے غیر شرعی فیصلہ کرنے لگ جاتے ہیں ، ایسے لوگوں کو خوف خدا سے ڈرنا چاہیے کہ کہیں کل بروز قیامت غیر شرعی فیصلہ کرنے کی وجہ سے رب تعالیٰ ناراض ہوگیا تو تباہی وبربادی مقدر ہوگی ۔

 ( 6 ) مذکورہ باب کی مختلف احادیث میں جو یہ بیان فرمایا گیا کہ ظاہر کے اعتبار سے فیصلہ کیا جائے گا اس سے مراد یہ ہے کہ فیصلہ کرنے کے جو بھی شرعی تقاضے ہیں وہ پورے کرتے ہوئے ظاہر کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا ۔

 ( 7 ) اس سے مراد یہ ہرگز نہیں کہ کسی نے واقعی کوئی جرم کیا ہو اور اب وہ قاضی کے سامنے جھوٹ بولے اور قاضی اس کے جھوٹ کی بنا کر اسے چھوڑ دے بلکہ قاضی اس کے بارے میں ہر طرح کی مکمل تفتیش کرے گا اور بالآخر جو بھی صورت حال واضح ہوگی اس کے مطابق فیصلہ کرے گا ۔

 ( 8 ) ہاں اگر کوئی شخص واقعی مجرم ہے مگر قانونی وشرعی تفتیش کے بعد بھی اس کے خلاف کسی بھی طرح کا کوئی ثبوت نہ ملا اور وہ اپنے جرم سے انکاری ہے تو اب قاضی اس کے ظاہر کے مطابق ہی فیصلہ کرے گا لیکن ایسے شخص کو خوف خدا سے ڈرنا چاہیے کہ مختلف حیلے بہانے کرکے یا مکروفریب کے ذریعے دنیا میں تو اس نے اپنے آپ کو بچا لیا لیکن کل بروزِ قیامت اس رب تعالیٰ کی بارگاہ میں پکڑ سے اپنے آپ کو کیسے بچائے گا؟ جو اس کے تمام ظاہری وباطنی معاملات سے باخبر ہے ۔  لہذا جرائم اور مختلف گناہوں کو فقط قاضی ، حاکم وقت یا کسی بھی دنیوی حکمران یا دنیوی سزا کے خوف سے چھوڑنے کی بجائے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے خوف سے ترک کردیجئے ، اس کی بارگاہ میں سچی پکی توبہ کرلیجئے ، وہ بڑا غفور رحیم ہے ، آئندہ نہ کرنے کا عہد کرلیجئے اور نیکیوں پر کمربستہ ہوجائیے ، بُرے لوگوں کی صحبت سے کنارہ کش ہو کر نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرلیجئے ۔

 



[1]     عمدۃ القاری ، کتاب الشھادات ، باب الشھداء العدول ، ۹ / ۴۸۲ ، تحت الحدیث : ۲۶۴۱ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن