دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

قَالَ : اِ نَّ سَرِيْرَتَهُ حَسَنَةٌ . ( [1] )

ترجمہ : حضرت سیدنا عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ میں نے امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ’’رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے عہد میں وحی کے ذریعے لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کیا جا تا تھا لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد  وحی کا سلسلہ منقطع ہوچکا ہے ، اب ہم تمہارے ظاہری اعمال کو دیکھ کر تمہارا مؤاخذہ کریں گے لہٰذا  جو ہمارے لئے خیر اور اچھائی کا پہلو ظاہر کرے گا ، ہم اسے امن دیں گے اور اسے اپنے قریب کرلیں گے اور ہمیں اس کے باطن سے کوئی غرض نہیں کیونکہ دلوں کا حساب لینے والا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہے اور جو ہمارے لیے  بُرائی ظاہر کرے گا ، ہم اُسے امن نہیں دیں گے اور نہ ہی اس کی تصدیق کریں گے اگر چہ وہ کہے کہ اس کا باطن اچھا ہے  ۔   ‘‘ 

ختم نبوت کا بیان :

وحی نبوت صرف انبیاء کے لیے  خاص ہے ، جو اسے کسی غیر نبی کے لیے مانے وہ کافر ہے ، نبی کو خواب میں جو چیز بتائی جائے وہ بھی وحی ہے اس کے جھوٹے ہونے کا احتمال نہیں ۔  ولی کے دل میں بعض اوقات سوتے یا جاگتے میں کوئی بات القا ہوتی ہے اس کو الہام کہتے ہیں اور وحی شیطانی کہ القا من جانب شیطان ہو ، یہ کاہن ، ساحر اور دیگر کفار وفساق کے لیے ہوتی ہے ۔  ( [2] ) وحی نبوت کا سلسلہ اب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے منقطع ہوچکا ہے کیونکہ ہمارے پیارے نبی حضور نبی کریم ، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سب سے آخری نبی اور خاتم النبیین ہیں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر نبوت ختم ہوچکی ہے ۔ البتہ اولیاء اللہ کو رب تعالیٰ کی طرف سے جو الہام ہوتا ہے وہ منقطع نہیں ہوا بلکہ یہ الہام قیامت تک جاری وساری رہے گا ۔  مذکورہ حدیث پاک میں بھی سیدنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا یہ فرمان کہ وحی منقطع ہوچکی ہے ۔  دراصل سرکار دوعالم نور مجسم شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے عظیم الشان ختم نبوت کا واضح بیان ہے ۔  عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’سیدنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے فرمان کا معنیٰ یہ ہے کہ رب تعالیٰ کی طرف سے فرشتے ( یعنی حضرت سیدنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام ) کا بعض افراد ( یعنی انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ) کے لیے جاگتے میں خبریں لانا منقطع ہوگیا ہے ۔ ‘‘ ( [3] )

عَلَّامَہ شِھَابُ الدِّین احمد بِن مُحَمَّد قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’حضور نبی کریم ، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال ظاہری کے ساتھ ہی وحی منقطع ہوگئی تو اب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے کسی بھی بشر کے لیے فرشتہ ( یعنی سیدنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام ) نہیں آئے گاکیونکہ نبوت ختم ہوچکی ہے ۔ ‘‘ ( [4] )

رسولُ اللہ کے مختلف فیصلے :

مذکورہ حدیث پاک میں سیدنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے یہ بیان فرمایا کہ ’’عہد رسالت میں وحی کے ذریعے لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کیا جاتا تھا ۔   ‘‘  اس سے معلوم ہوا کہ حضور نبی رحمت شفیع امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ وحی کے ذریعے لوگوں کے باطنی معاملات پر بھی مطلع فرمادیتا تھا ، یہی وجہ ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ظاہر اور باطن دونوں کے مطابق فیصلہ کرنے کا وسیع اختیار عطا فرمایا تھا ۔  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی حیات طیبہ میں لوگوں کے مابین ظاہرکے اعتبار سے بھی فیصلے فرمائے ، باطن کے اعتبار سے بھی  فیصلے فرمائے ، اور بسا اوقات ظاہر وباطن دونوں کے اعتبار سے بھی فیصلے فرمائے ۔  ان فیصلوں کی مکمل تفصیل کے لیے حدیث نمبر 390کی شرح ملاحظہ کیجئے ، نیز دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۱۰۸صفحات پرمشتمل امام جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی کی مایہ ناز تصنیف ’’اَلْبَاھِرْفِیْ حُکْمِ النَّبِیِّ بِالْبَاطِنِ وَالظَّاھِرِ  ‘‘    کا ترجمہ بنام ’’مدنی آقا کے روشن فیصلے ‘‘  کا مطالعہ کیجئے ۔

ظاہر کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم :

امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے مذکورہ حدیث میں فرمان سے بالکل ظاہر ہے کہ اب اس امت کو فقط ظاہر کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم ہے ، کسی بھی شخص کا باطنی معاملہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سپرد کردیا جائے گا ۔ اب جو شخص اچھائی والا عمل کرے گا ، یعنی اس کا ظاہر اچھائی پر ہوگا تو اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جائے گا اگرچہ حقیقت میں اس کا برعکس ہو ، اسی طرح اگر کوئی شخص بُرا معاملہ کرے گا یا اس سے بُرا معاملہ ظاہر ہوگا اس کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کیا جائے گا اگرچہ وہ کہتا ہو کہ میں باطنی طور پر بہت اچھا ہو ں یا میں نے حقیقتاً کوئی بُرائی نہیں کی ۔  قاضی ، حاکم ، جج  یا فیصلہ کرنے والا فقط ظاہر کے مطابق ہی فیصلہ کرے گا ۔  عَلَّامَہ شِھَابُ الدِّین اَحمَد بِن مُحَمَّد قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’امیر المؤمنین حضرت سیدنا  عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ جو شخص ہمارے لیے خیر کو ظاہر کرے گا ہم اسے امن دیں گے یعنی شراور برائی سے امن دیں گے یا یہ مراد ہے کہ وہ شخص ہمارے نزدیک امین اور عادل ہوگا اور ہم اسے اپنا قرب دیں گے یعنی ہم اسے عزت وتکریم اور عظمت وبڑائی دیں گے کیونکہ ہم ظاہر کے مطابق فیصلہ کریں گے ۔ ‘‘ ( [5] )

بھلائی کا ظہور عدل کی علامت ہے :

مذکورہ حدیث پاک میں سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس بات کی صراحت فرمائی کہ’’جو ہمارے لئے خیر اور اچھائی کا پہلو ظاہر کرے گا ، ہم اس پر اعتماد کریں گے اور اسے



[1]     بخاری ، کتاب الشھادات ، باب الشھداء العدول ، ۲ / ۱۹۰ ، حدیث :  ۲۶۴۱ ۔

[2]     بہارشریعت ، ۱ / ۳۵ ، ۳۶ ، حصہ اول ۔

[3]     فتح الباری ، کتاب الشھادات ،  باب الشھداء العدول ۔ ۔ ۔ الخ ، ۶ / ۲۱۳ ، تحت الحدیث :  ۲۶۴۱ ۔

[4]     ارشاد الساری ، کتاب الشھادات ، باب الشھداء العدول ۔ ۔ ۔ الخ ، ۴ / ۳۷۷ ، تحت الحدیث :  ۲۶۴۱ ۔

[5]     ارشاد الساری ، کتاب الشھادات ، باب الشھداء العدول ، ۶ /  ۸۹ ، تحت الحدیث :  ۲۶۴۱ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن