30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قصاص ، دیت اور کفارے کی فرضیت کا حکم :
اگر کوئی مسلمان کسی مسلمان کو مشرک یا کافر سمجھ کر قتل کر بیٹھے تو یہ قتل خطا ہوگا اس صورت میں احناف کے نزدیک قصاص نہیں بلکہ دیت اور کفارہ ہے ۔ بہارشریعت میں ہے : ’’مسلم نے اگر مسلم کو مشرک سمجھ کر قتل کیا : مثلاً جہاد میں ایک مسلم کو کافر سمجھا اور مار ڈالا ، اس صورت میں قصاص نہیں ہے بلکہ دیت وکفارہ ہے کہ یہ قتل عمد نہیں قتل خطا ہے اور اگر مسلم صف کفار میں تھا اور کسی مسلم نے قتل کرڈالا تو دیت وکفارہ بھی نہیں ۔ ‘‘ ( [1] ) حضرت سیدنا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا یہ قتل بھی قتل خطا تھا اس لیے آپ پر کوئی قصاص لازم نہیں فرمایا گیا ۔ البتہ دیت یا کفارہ بھی ان پر لازم کیا گیا یا نہیں؟ اس بارے میں شارحین اور فقہاء کرام کے مابین اختلاف ہے بعض کے نزدیک ان پر کچھ واجب نہ کیا گیا جبکہ بعض یہ فرماتے ہیں کہ ان پر دیت واجب کی گئی ۔ ” عمدۃ القاری“ میں ہے کہ علامہ خطابی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : ’’حضرت سیدنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان سے شبہ ہوا ، جس میں ارشاد ہوتا ہے :
فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَاؕ- ( پ۲۴ ، المؤمن : ۸۵ )
ترجمۂ کنزالایمان : تو ان کے ایمان نے انہیں کام نہ دیا جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا ۔
اسی شبہ کی وجہ سے ( انہوں نے اسے قتل کردیا اس لیے ) ان پر دیت لازم نہیں ہوئی ۔ ‘‘ ( [2] )
عَلَّامَہ شِھَابُ الدِّین احمد بِن مُحَمَّد قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی علامہ قرطبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے حوالے سے فرماتے ہیں : ’’حضرت سیدنا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو دیت کا حکم دیا گیا ۔ ‘‘ ( [3] )
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدنا سامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر ( بظاہر حدیث پاک میں ) قصاص ، دیت اور کفارہ کچھ بھی واجب نہ فرمایا ۔ اس سے تمام چیزوں کے ساقط ہونے کا استدلال کیا جائے گا لیکن کفارہ واجب ہوگا اور قصاص شبہ کی وجہ سے ساقط ہوجائے گا کیونکہ سیدنا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے انہیں کافر گمان کیا اور یہ سوچا کہ اس وقت اس کا کلمہ پڑھنا اسے مسلمان نہیں کرے گا ۔ دیت کے واجب ہونے یا نہ ہونے میں امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے دوقول ہیں ۔ کفارہ واجب ہے مگر حدیث پاک میں کفارے کا ذکر کیوں نہیں ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ کفارہ فی الفور واجب نہیں ہوتا بلکہ تاخیر کے ساتھ واجب ہوتا ہے لہٰذا اُصولیین کے نزدیک مذہب صحیح کے مطابق اس کے بیان کو مؤخر کرنا وقت حاجت تک جائز ہے ۔ اور دیت واجب ہے مگر اس کا ذکر کیوں نہیں ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے اس وقت حضرت سیدنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر مالی کشادگی نہ ہو لہٰذا اسے اس کی کشادگی تک مؤخر کردیا گیا ہو ۔ ‘‘ ( [4] )
مدنی گلدستہ
’’صالحین ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1) مسلمان ہونے کے بعد ہرمسلمان کی جان محترم اور محفوظ ہوجاتی ہے ۔
(2) بلا وجہ شرعی کسی بھی مسلمان کی جان کی حرمت کو پامال کرنا اسلام میں جائز نہیں ہے ۔
(3) اسلام میں فقط ظاہری حالت کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنے کا مکلف فرمایا گیا ہے ۔
(4) جو شخص بظاہر کلمہ پڑھ لے اگرچہ اس نے دل سے نہ پڑھا ہو اس پر مسلمان کا ہی اطلاق ہوگا ۔
(5) بلا وجہ شرعی کسی بھی مسلمان کو قتل کرنے کی اسلام میں شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہے ۔
(6) جب بھی کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو رب تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ استغفار کرنا چاہیے ، نیز حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وسیلہ بارگاہِ خداوندی میں پیش کرنا چاہیے کہ گناہوں میں معافی و مغفرت اور دعاؤں کی قبولیت کا یہ ایک بڑا سبب ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں حقوق العباد کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے ، کسی بھی مسلمان کے خون اور مال کی حرمت کو پامال کرنے سے محفوظ فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 395 ظاہری مُعاملات کے مطابق فیصلہ
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُوْلُ : اِنَّ نَاسًا كَانُوْا يُؤْخَذُوْنَ بِالْوَحْيِ فِيْ عَهْدِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ اِنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ وَاِنَّمَا نَاخُذُكُمُ الْاٰنَ بِمَا ظَهَرَ لَنَا مِنْ اَعْمَالِكُمْ فَمَنْ اَظْهَرَ لَنَا خَيْرًا اَمِنَّاهُ وَقَرَّبْنَاه ُ وَلَيْسَ لَنَا مِنْ سَرِيْرَ تِه شَيْءٌ اَللهُ يُحَاسِبُهُ فِيْ سَرِيْرَ تِهِ وَمَنْ اَظْهَرَ لَنَا سُوْ ءًا لَمْ نَامَنْهُ وَلَمْ نُصَدِّقْهُ وَاِنْ
[1] بہارشریعت ، ۳ / ۷۸۲ ، حصہ : ۱۸ ۔
[2] عمدۃ القاری ، کتاب الدیات ، باب قول اللہ تعالٰی ومن احیاھا ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱۶ / ۱۴۲ ، تحت الحدیث : ۶۸۷۲ ۔
[3] ارشاد الساری ، کتاب المغازی ، باب بعث النبی صلی اللہ علیہ وسلم اسامۃ ۔ ۔ ۔ الخ ، ۹ / ۳۰۶ ، تحت الحدیث : ۴۲۶۹ ۔
[4] شرح مسلم للنووی ، کتاب الایمان ، باب تحریم قتل الکافربعد قول لا الہ الا اللہ ، ۱ / ۱۰۶ ، الجزء الثانی ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع