دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

ایک روایت میں یوں بھی ہے کہ جب حضور نبی رحمت ، شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدنا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ان کے قتل کے بارے میں استفسار کیا تو سیدنا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بارگاہ رسالت میں اپنے لیے استغفار کی التجا کی ۔  آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے استغفار کی التجا کرنا دراصل قرآنِ پاک کی اِس آیت مبارکہ پر عمل ہے :

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا(۶۴) ( پ۵ ، النساء :  ۶۴ )

ترجمۂ  کنزالایمان  : اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب  تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں ۔

صَدرُ ا لا فاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں :  ’’اس سے معلوم ہوا کہ بارگاہِ الٰہی میں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وسیلہ اور آپ کی شفاعت کار برآری کا ذریعہ ہے ، سیّدِ عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وفات شریف کے بعد ایک اَعرابی روضۂ اقدس پر حاضر ہوا اور روضۂ شریفہ کی خاک پاک اپنے سر پر ڈالی اور عرض کرنے لگا : یارسولَ اللہ ! جو آپ نے فرمایا ہم نے سُنا اور جو آپ پر نازل ہوا اس میں یہ آیت بھی ہے  : وَلَوْاَنَّھُمْ اِذْ ظَّلَمُوْا میں نے بے شک اپنی جان پر ظلم کیا اور میں آپ کے حضور میں اللہ سے اپنے گناہ کی بخشش چاہنے حاضر ہوا تو میرے رب سے میرے گناہ کی بخشش کرائیے ۔  اس پر قبر شریف سے ندا آئی کہ تیری بخشش کی گئی  ۔ اس سے چند مسائل معلوم ہوئے :  مسئلہ :  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرضِ حاجت کے لئے اُس کے مقبولوں کو وسیلہ بنانا ذریعہ کامیابی ہے ۔ مسئلہ :  قبر پر حاجت کے لئے جانا بھی : ’’جَآءُوْکَ  ‘‘   میں داخل اور خیرُالقرون کا معمول ہے ۔  مسئلہ :  بعد وفات مقبُولانِ حق کو ( یَا ) کے ساتھ ندا کرنا جائز ہے  ۔ مسئلہ : مقبُولانِ حق مدد فرماتے ہیں اور ان کی دعا سے حاجت روائی ہوتی ہے ۔ ‘‘ ( [1] )

ظاہر کے مطابق فیصلے کا حکم :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میں حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمانا  : ’’اے اُسامہ !  تم نے کلمہ پڑھنے کے بعد بھی اسے قتل کردیا؟  ‘‘  اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ کسی بھی شخص کے معاملے میں اس کے ظاہر کا ہی اِعتبار کیا جائے گا ، جب اس نے بظاہر کلمہ پڑھ لیا تو وہ مسلمان ہوگیا اب اس کی جان اور مال کی حرمت لازم ہوگئی ، اسے پامال کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہ ہوگی ۔

بعض روایات میں یوں بھی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’ تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا ہوتا  کہ تمہیں معلوم ہوجاتا اس نے دل سے کہا ہے یا نہیں ؟  ‘‘   آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمان بھی اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ فیصلہ ظاہر پر کیا جائے گا کسی بھی شخص کا دل کھول کر نہیں دیکھا جاسکتا کہ اس نے فلاں معاملہ دل سے کیا ہے یا نہیں؟

عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ اس لیے فرمایا کہ ایمان حقیقی مخفی ہوتا ہے اور اس کی جگہ دل ہے جس پر فقط رب تعالیٰ ہی مطلع ہے جبکہ احکام کا دارومدار ظاہر پر ہوتا ہے دل پر نہیں ۔  تو جب تم اس کے مخفی ایمان کے مکلف ہی نہیں تھے تو تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہیں دیکھا اور کیونکہ معلوم نہ کیا کہ اس کا دل اسلام لانے میں سچا ہے یا وہ منافق ہے ؟ یعنی بظاہر مسلمان ہورہا ہے اور دل سے کافر ہے ۔ اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ احکام کا اجراء ظاہری اسباب پر ہوگا نہ کہ باطنی اور یوشیدہ اسباب پر ۔ ‘‘ ( [2] )

عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’تونے اس کا دل چیر کر کیوں نہیں دیکھا تاکہ تو دیکھ لیتا کہ اس نے جو کلمہ پڑھا ہے وہ دل سے پڑھا ہے اور اس کا دل میں اعتقاد بھی رکھتا ہے ؟ بلکہ فقط کلمہ اس کی زبان پر جاری ہوا ہے اور یہی اس کے لیے کافی ہے ۔  یعنی تم دل چیر کر اس کی باطنی کیفیت دیکھنے پر قادر نہیں ہو تو اس کا فقط ظاہری طور پر زبان سے کہنا دینا ہی اسے کافی ہے ۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں :  ’’حضور نبی کریم ، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمانِ عالیشان : ’’کیا تونے اس کا دل چیر کر نہیں دیکھا ۔ ۔ ۔ الخ  ‘‘   میں فقہ اور اُصولِ فقہ کے مشہور قاعدے کی دلیل ہے کہ احکام میں ظاہر پر عمل کیا جائے گا اور پوشیدہ معاملات کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سپرد کردیا جائے گا ۔ ‘‘ ( [3] )

سیدنا اُسامہ بن زید کے قتل کرنے کی وجہ :

جب حضور نبی کریم ، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے قتل کی وجہ پوچھی تو آپ نے وضاحتاً عرض کی :  ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس نے اپنی جان بچانے کے لیے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ پڑھا ۔ ‘‘ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سیدنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے قول کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :  ’’یعنی اس شخص نے اپنے خون کو محفوظ کرنے کے لیے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہا ،  نہ کہ حقیقتاً اسلام قبول کرنے کے لیے کہا ۔  شاید حضرت سیدنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ وہاں کھڑے ہوئے اور جب ان پر معاملہ ظاہر ہوا تو پھر وہ اس کے قتل کے درپے ہوئے تو انہوں نے اس کی اس حالت کو کفر اور بے فائدہ سمجھا کیونکہ وہاں حقیقت کو جاننا یا اس سے اس کے حقیقی قبول اسلام کے بارے میں سوال کرنا بھی ممکن نہ تھا اس لیے سیدنا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسے قتل کردیا ۔  اس اعتبار سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر کوئی گناہ نہیں ہے لیکن شریعت نے اَحکام کا اِجراء ظاہر پر کیا ہے اسی لیے حقیقتاً نفس الامر میں یہ تاویل قبول نہیں ہوگی اسی وجہ سے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بار بار استفسار فرمایاتاکہ ان کے دل میں جو شبہ ہو وہ زائل ہوجائے ۔  ‘‘ ( [4] )

 



[1]     تفسیرخزائن العرفان ، پ۵ ، النساء ، تحت الآیۃ :  ۶۴ ۔

[2]     دلیل الفالحین ، باب فی اجراء احکام الناس علی الظاھر ، ۲ /  ۲۷۵ ، تحت الحدیث :  ۳۹۳ ۔

[3]     شرح مسلم  للنووی ، کتاب الایمان ، باب تحریم قتل الکافربعد قول لا الہ الا اللہ ، ۱ / ۱۰۴ ، ۱۰۷ ، الجزء الثانی ملتقطا ۔

[4]     شرح مسلم  للنووی ، کتاب الایمان ، باب تحریم قتل الکافربعد قول لا الہ الا اللہ ، ۱ / ۱۰۴ ، ۱۰۷الجزء الثانی ملتقطا ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن