30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
روز پکڑے گئے تو کیا بنے گا؟ چنانچہ حضرتِ علامہ عبدالوہّاب شَعرانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی تَنْبِیْہُ الْمُغْتَرّینمیں نقل کرتے ہیں : مشہور تابِعی بزرگ حضرتِ سیِّدُنا وَہب بن مُنَبِّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ایک اسرائیلی نوجوان نے اپنے پچھلے تمام گناہوں سے توبہ کی پھر ستَّر سال تک اس طرح عبادت کرتا رہا کہ دن کو روزہ رکھتا ، رات کو جاگ کر عبادت کرتا ، نہ کسی سائے کے نیچے آرام کرتا اور نہ کوئی عمدہ غذا کھاتا ، اس کے انتِقال کے بعدکسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا : ’’ماذَا فَعَلَ اللہُ بِکَ؟ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا مُعامَلہ فرمایا؟ ‘‘ جواب دیا : ” اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے میرا حساب لیا پھر سارے گناہ بخش دیئے مگر ایک لکڑی جس سے میں نے اس کے مالک کی اجازت کے بغیر دانتوں میں خِلال کرلیا تھا ( یہ معاملہ حقوق العباد کا تھا اور یہ مُعاف کروانا رہ گیا تھا ) بس اس کی وجہ سے میں اب تک جنت سے روک دیا گیا ہوں ۔ ‘‘ ( [1] )
گیہوں کادانہ توڑنے کا اُخروی نقصان :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ذرا غور تو کیجئے ! ایک تنکا جنت میں داخل ہونے میں رکاوٹ بن گیا ! اور اب معمولی لکڑی کے خِلال کی تو بات ہی کہاں ہے ، بعض لوگ دوسروں کے لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے ہڑپ کر جاتے ہیں اور ڈکار تک نہیں لیتے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ ایسے لوگوں کو ہدایت عطا فرمائے ، آمین ۔ ایک اور عبرتناک حکایت ملاحظہ فرمایئے جس میں صرف ایک گیہوں کے دانے کے بِلا اجازت کھانے کے نہیں صرف توڑ ڈالنے کے اُخروی نقصان کا تذکِرہ ہے ۔ چنانچہ منقول ہے کہ ایک شخص کو بعدِوفات کسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ ‘‘ کہا : ” اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے بخش دیا اور میرے ساتھ اچھا معاملہ فرمایا مگر یہ کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھ سے حساب لیا یہاں تک کہ مجھ سے اس دن کے بارے میں بھی پوچھ گچھ ہوئی جس دن میں روزے سے تھا اور اپنے ایک دوست کی دُکان پر بیٹھا ہوا تھا جب افطار کا وقت ہوا تو میں نے گیہوں کا ایک دانہ اُٹھایا اور اس کو توڑ کر کھانا ہی چاہتا تھا کہ ایک دم مجھے احساس ہوا کہ یہ دانہ میرا نہیں ، میں نے اُسے جہاں سے اٹھایا تھا وہیں رکھ دیا پس میری نیکیوں میں سے اس گیہوں کے توڑے جانے کے نقصان کے برابر نیکیاں لے لی گئیں ۔ ‘‘ ( [2] ) اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں حقوق العباد تلف کرنے سے محفوظ فرمائے ۔ آمین
( 4 ) بچیوں کو زندہ دفن کرنا :
حدیث پاک میں ہے ” وَاْدَ الْبَنَاتِ“اس کا مطلب ہے بچیوں کو زندہ دفن کرنا ۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ بیٹیوں سے نفرت کرنے کی وجہ سے ایسا کیا کرتے تھے ، کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے جس شخص نے اپنی لڑکی کو زندہ دفن کیا وہ قیس بن عاصم تمیمی تھا ۔ کفار میں پائی جانے والی اس وبا کے کچھ نہ کچھ گندے اثرات ہمارے معاشرے میں بھی پائے جاتے ہیں ، بعض لوگ بیٹیوں کی پیدائش کونحوست تصور کرتے ہیں ، بیٹے کی پیدائش پر تو گھر میں خوشیوں کے شادیانے بجتے ہیں لیکن اگر اسی گھر میں بیٹی کی پیدائش ہوتو صف ماتم بچھ جاتی ہے حالانکہ بیٹی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت ہے ، اسلام نے بیٹیوں کو وہ عزت وعظمت عطا فرمائی کہ کسی اور دین میں اس کا تصور بھی نہیں ، بیٹیوں والے ماں باپ بہت خوش نصیب ہوتے ہیں ، بیٹیوں کی اچھی پرورش پر جنت کی بشارت ہے ۔ چنانچہ بیٹیوں کی عزت وعظمت پر تین فرامین مصطفے ٰ ملاحظہ کیجئے : ( 1 ) ’’جس شخص کی دو بیٹیاں ہوں اور وہ جب تک اس کے پاس رہیں ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا رہے تو یہ بیٹیاں اسے جنت میں داخل کروادیں گی ۔ ‘‘ ( [3] ) ( 2 ) ’’جس نے دو بچیوں کے بالغ ہونے تک ان کی پرورش کی تو میں اور وہ شخص قیامت کے دن اس طر ح آئيں گے ۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی دونوں انگلیاں ملاکر دکھائیں ۔ ( [4] ) ( 3 ) ’’جس کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں یا دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہوں پھر وہ ان کی اچھی طرح پرورش کرے اور ان کے معاملے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرتارہے تو اس کیلئے جنت ہے ۔ ‘‘ ( [5] )
( 5 ) ہرسنی سنائی بات کردینا :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ہرسنی سنائی بات کو آگے پھیلادینے کا مرض بھی ہمارے ہاں بہت عام ہوچکا ہے ، اسی مرض کی وجہ سے بسااوقات آپس میں لڑائی جھگڑے بھی ہوتے ہیں بلکہ مار پیٹ تک نوبت آجاتی ہے ، ظاہری بات ہے کہ جب کسی کو کوئی بات پہنچی اور اس نے بغیر تحقیق کے اسے آگے بیان کردیا تو وہ بات جس سے متعلقہ ہوگی یقیناً اسے بُری لگے گی اور لڑائی جھگڑے اور فساد کا باعث بھی بنے گی ۔ لہذا ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ جب بھی ہمارے پاس کسی شخص یا کسی واقعے کے متعلق کوئی بات پہنچے تو جب تک ہم اس کی تحقیق نہ کرلیں کہ آیا یہ بات جیسی مجھ تک پہنچی ہے ویسی ہے بھی یا نہیں؟ تب تک اس بات کو آگے نہ پھیلائیں بلکہ ہربات کا آگے پھیلانا ضروری بھی نہیں ہوتا اگرچہ وہ بالکل صحیح ہو ، ۔ بعض لوگ فتنہ وفساد پھیلانے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں ، اِدھر کی اُدھر اور اُدھر کی اِدھر لگاتے بجھاتے رہتے ہیں اگر آپ نے بات کی تحقیق کرنے کی عادت بنالی تو ایسے لوگ بھی اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے مذموم مقاصد میں ناکام ہو جائیں گے ۔ آج کل یہ وبا بھی عام ہوگئی ہے کہ موبائل فون کے ذریعے بغیر تحقیق کے دینی ودنیاوی پیغامات کو بھرپور طریقے سے پھیلایا جاتا ہے بلکہ بسااوقات تو پیغام میں یہ بھی لکھا ہوتا ہے کہ اگر آپ نے اس پیغام کو اتنے افراد کو نہ بھیجا تو آپ کو اِس اِس طرح کا نقصان پہنچے گا ۔ واضح رہے کہ کسی بھی دینی یا دنیوی پیغام کو بغیر تحقیق کے آگے بھیج دینا بسااوقات ایمان کے ضائع ہونے کا سبب بھی بن جاتا ہے ، بعض دفعہ ان پیغامات میں کفریہ کلمات یا اَشعار ہوتے ہیں ، توہین آمیز جملے لکھے ہوتے ہیں ، ایسے پیغامات کو بغیر تصدیق کے
[1] تنبیہ المغترین ، ص۵۱ ۔
[2] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الادب ، باب الرفق والحیاء وحسن الخلق ، ۸ / ۸۱۱ ، تحت الحدیث : ۵۰۸۳ ۔
[3] ابن ماجہ ، کتا ب الادب ، باب برالوالد والاحسان الی البنات ، ۴ / ۱۸۹ ، حدیث : ۳۶۷۰ ۔
[4] مسلم ، کتاب البر والصلۃ والآداب ، باب فضل الا حسان الی البنات ، ص۱۴۱۵ ، حدیث : ۲۶۳۱ ۔
[5] ترمذی ، کتاب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی النفقۃ علی البنات والاخوات ، ۳ / ۳۶۷ ، حدیث : ۱۹۲۳ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع