دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

اَنْ يَقْصِدَ اِلٰى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ  قَصَدَ لَهُ  فَقَتَلَهُ وَاَنَّ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ  قَصَدَ فَقَتَلَهُ وَكُنَّا نَتَحَدَّثُ اَنَّهُ اُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَلَمَّا رَفَعَ السَّيْفَ قَالَ :  لَااِلٰهَ اِلَّا اللهُ فَقَتَلَهُ فَجَاءَ الْبَشِيْرُ  اِلٰى رَسُوْلِ اللهِ  صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  فَسَاَلَهُ وَاَخْبَرَهُ حَتّٰى اَخْبَرَهُ خَبَرَ الرَّجُلِ كَيْفَ صَنَعَ فَدَعَاهُ فَسَاَلَهُ فَقَالَ :  لِمَ قَتَلْتَهُ؟ فَقَالَ :  يَا رَسُوْلَ اللهِ !  اَوْجَعَ فِي الْمُسْلِمِيْنَ  وَقَتَلَ فُلاَناً وَفُلَاناً وَسَمّٰى لَهُ نَفرًا وَ  اِنِّيْ حَمَلْتُ عَلَيْهِ فَلَمَّا رَاَى السَّيْفَ قَالَ :  لَا اِلٰهَ اِلاَّ اللهُ  قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَقَتَلْتَهُ؟ قَالَ :  نَعَمْ. قَالَ : فَكَيْفَ تَصْنَعُ بلَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ اِذَا جَاءتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ :  يَارَسُوْلَ اللهِ ، اِسْتَغْفِرْ لِيْ . قَالَ :  وكَيْفَ تَصْنَعُ بِلَااِلٰهَ اِلَّا اللهُ  اِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَجَعَلَ لَا يَزِيْدُ عَلٰى اَنْ يَقُوْلَ : كَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ اِذَا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. ( [1] )

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا جُنْدُبْ بن عبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ دو عالَم کے مالِک ومختار ، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مسلمانوں کی ایک فوج کو  مشرکین  سے جہاد کرنے کے لئے روانہ فرمایا ، مسلمانوں اور مشرکوں کا جب آمنا سامنا ہوا تو مشرکوں میں سے ایک آدمی ایسا بھی  تھا کہ جب وہ  کسی مسلمان کو قتل کرنے کا  ارادہ کرتا تو اسے موقع پاکر  فوراً ہی قتل کردیتا تو مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے اس پر حملہ کیا اور اسے قتل کردیا  اور ابھی  ہم اسی شخص کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے کہ وہ اسامہ بن زید تھے  تو جب  انہوں نے اس مشرک کو  قتل کرنے کے لئے تلوار اٹھائی تو اس نے کہا :  لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُلیکن اس کے باوجود سیدنا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس کو قتل کردیا ۔  پھر  جب حضور نبی اکرم ، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بار گا ہ میں فتح کی خوشخبری سنانے والا پہنچا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے جنگ کی صورت حال کے بارے میں اِستفسار فرمایا تو اس نے آپ کو ساری صورت حال بیان کر دی ، یہاں تک کہ اس نے اس  آدمی کا واقعہ بھی بیان   کر دیا کہ اس نے کیا کیا  تھا اور حضرت سیدنا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس کے ساتھ کیا کیا  ۔ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بلایا اور ان سے پوچھا :  ’’تم نے اسے قتل کیوں کیا؟  ‘‘  سیدنا  اُسامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  اس نے مسلمانوں کو بہت تکلیف پہنچائی  اور فلاں فلاں کو شہید کردیا ۔ ‘‘ اور چند صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے نام  بھی ذکرکیے ’’تو میں نے اس پر حملہ کردیا اور جب اس نے تلوار دیکھی تو لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ کہنے لگا ۔ ‘‘ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :  ’’کیا تم نے اسے قتل کردیا ؟  ‘‘  تو سیدنا اسامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی : ’’ جی ہاں ۔ ‘‘ فرمایا  : ’’قیامت کے دن جب لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ کا کلمہ آئے گا تو تم کیا کروگے ؟  ‘‘  حضرت سیدنا اُسامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی :  ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  آپ میرے لئے مغفرت کی دعا کیجئے ۔ ‘‘ لیکن رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بار بار یہی فرماتے رہے : ’’قیامت کے دن جبلَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ کا کلمہ آئے گا تو تم کیا کروگے ؟  ‘‘ 

بلا وجہ عمداًقتل کرنے کی ممانعت :

مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سَیِّدُنَا اسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے بار بار فرمایا کہ کیا تم نے اسے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کہنے کے بعدقتل کردیا ۔  اس سے معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے رسول  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نزدیک کسی بھی مسلمان کو بلا وجہ جان بوجھ کر قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے  ۔ قرآن وسنت میں اس کی شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہے ۔  اس کی تفصیل کے لیے حدیث نمبر392 کی شرح ملاحظہ کیجئے ۔

سیدنا اُسامہ بن زید کی خواہش کی وجوہات :

حدیث مذکور میں بیان ہوا کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بار بار فرمانے کے بعد حضرت سیدنا اُسامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دل میں یہ خواہش ہوئی کہ کاش میں آج ہی مسلمان ہوا ہوتا ۔   ‘‘  سیدنا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے اس جملے کے مختلف معانی شارحین نے بیان فرمائے ہیں ۔  ( 1 ) ایک معنی یہ بیان فرمایا ہے کہ یعنی میں اس وقت اسلام لاتا اور میری یہ غلطی اسلام لانے کے سبب معاف ہو جاتی ۔  ( 2 ) حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بار بار انکار فرمانے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حد درجہ تعظیم وتکریم کرنے  کی وجہ سے سیدنا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے آپ کو  بہت چھوٹا محسوس کیا اور پھر اس وقت مسلمان ہونے کی خواہش ظاہر کی ۔  ( 3 ) آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے فرمان کا یہ معنیٰ تھا کہ میں اس وقت مسلمان ہوا ہوتا یعنی اب مسلمان ہونے کی صورت میں میری زندگی کسی بھی گناہ سے خالی ہوتی ، یہ مراد نہ تھی کہ میں پہلے مسلمان نہ ہوتا ابھی مسلمان ہوتا ۔  ( [2] )

عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’سیدنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی مراد یہ تھی کہ میرے اسلام کی ابتدا آج سے ہوتی تاکہ میری یہ خطا اس اسلام کے سبب مٹا دی جاتی ۔  ایک معنیٰ یہ بھی ہے آپ نے اس وقت اسلام کی اس لیے خواہش کی اس وقت وہ گناہوں سے پاک صاف ہوتے ، یہ مراد نہ تھی کہ اس سے قبل وہ مسلمان ہی نہ ہوتے ۔ ‘‘ ( [3] ) عَلَّامَہ شِھَابُ الدِّین احمد بِن مُحَمَّد قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’حضرت سیدنا اُسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا یوں کہنا فقط مبالغے کے لیے تھے حقیقت کے طور پر نہیں تھا ۔ ‘‘ ( [4] )

رسولُ اللہسے استغفار کی التجاء کرنا :

 



[1]     مسلم ، کتاب  الایمان ، باب  تحریم قتل الکافر ۔ ۔ ۔ الخ ، ص۶۴   ، حدیث : ۱۶۰ ۔

[2]     عمدۃ القاری ، کتاب  الدیات ، باب قول اللہ تعالی ومن احیاھا ۔ ۔ ۔  الخ ، ۱۶ /  ۱۴۲ ، تحت الحدیث : ۶۸۷۲ ۔

[3]     دلیل الفالحین ، باب فی اجراء احکام الناس علی الظاھر ، ۲ /  ۲۷۵ ، تحت الحدیث :  ۳۹۳ ۔

[4]     ارشاد الساری ، کتاب المغازی ، باب بعث النبی صلی اللہ علیہ وسلم اسامۃ ۔ ۔ ۔ الخ ، ۹ / ۳۰۶ ، تحت الحدیث :  ۴۲۶۹ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن