30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَنْ اَبِيْ مَعْبَدِ المِقْدَادِ بْنِ الاَسْوَدَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قُلْتُ لِرَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَرَاَيْتَ اِنْ لَقِيْتُ رَجُلاً مِّنَ الْكُفَّارِ فَاقْتَتَلْنَا فَضَرَبَ اِحْدٰى يَدَيَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا ثُمَّ لَاذَ مِنِّيْ بِشَجَرَة فَقَالَ : اَسْلَمْتُ لِلّٰہِ اَاَقْتُلُهُ يَارَسُوْلَ اللهِ ! بَعْدَ اَنْ قَالَهَا؟ فَقَالَ : لَا تَقْتُلْهُ فَقُلْتُ : يَا رَسُوْلَ اللهِ ! قَطَعَ اِحْدٰى يَدَيَّ ثُمَّ قَالَ ذٰلِكَ بَعْدَمَا قَطَعَهَا فَقَالَ : لَا تَقْتُلْهُ فَاِنْ قَتَلْتَهُ فَاِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ اَنْ تَقْتُلَهُ وَاِنَّكَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ اَنْ يَقُوْلَ كَلِمَتَهُ الَّتِيْ قَالَ. ( [1] )
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو مَعْبَد مِقداد بن اَسود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی پاک ، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پوچھا : ’’اگر کافروں میں سے کسی کافر سے میری ملاقات ہو ، پھر آپس میں ہماری جنگ ہو اور وہ تلوار سے مجھ پر حملہ کرتے ہوئے میرے ایک ہاتھ کو کاٹ ڈالے ، پھر وہ درخت کی آڑ میں چھپ جائے اور کہے کہ میں اسلام لاتا ہوں تو کیا میں اس کو قتل کردوں؟ ‘‘ تو دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ نہیں ! اسے قتل مت کرو ۔ ‘‘ میں نے عرض کی : ’’اس نے تو میرے ہاتھ کو کاٹنے کے بعد اسلام قبول کیا ہے ۔ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ نہیں ! تم اُسے قتل نہ کرنا ، اگر تم نے اسے قتل کردیا تو اسے قتل کرنے سے پہلے جو تمہارا مقام تھا اب اس کا وہ مقام ہوگا اور تمہارا مقام وہ ہوگا جو اس کا مقام اس وقت تھا جب اس نے اِسلام قبول نہیں کیا تھا ۔ ‘‘
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میں بھی اس بات کا بیان ہے کہ کسی بھی شخص کا فیصلہ اس کے ظاہر کو دیکھتے ہوئے کیا جائے گا ، اگر وہ مسلمان ہو تو اس کے ساتھ مسلمانوں والا سلوک کیا جائے گا اور اگر وہ کافر ہو تو کافروں والا سلوک ۔ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں اس بات پر دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جس سے کوئی بھی قولی یا فعلی ایسی بات صادر ہو جو اس کے دین اسلام میں داخل ہونے پر دلالت کرتی ہو تو اس پر اسلام کا ہی حکم لگے گا کیونکہ اسلام میں داخل ہونا زبان سے کلمہ شہادت پڑھنے پر منحصر نہیں ۔ حضور نبی رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قتل سے اس لیے منع فرمایا کہ اَحکامِ شرعیَّہ ظاہر پر جاری ہوتے ہیں اور بظاہر اس نے اسلام قبول کرلیا ہے ۔ ( [2] )
قتل سے قبل اور بعد مَراتِب کا فرق :
مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ اظہارِ اسلام کے بعد اورقتل کرنے سے قبل جو قاتل کا مرتبہ تھا وہ اب مقتول کا ہوجائے گا اور جو مقتول کا مرتبہ تھا وہ قاتل کا ہو جائے گا ۔ اس مرتبے سے مراد کفر کا مرتبہ نہیں ہے کہ جو قتل کردے وہ کافر ہوجائے بلکہ اس سے مراد اباحت دم یعنی خون کا مباح ہونا ہے کہ جس طرح اسلام لانے سے قبل کافر ہونے کی وجہ سے اس کا خون مباح تھا اسی طرح اسلام لانے کے بعد اسے قتل کرنے والے کا اب خون مباح ہوجائے گاکہ اس نے ناحق خون کیا اور اس کا بدلہ خون ہی ہے ۔ چنانچہ عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں بیان کیا گیا کہ اس کے اسلام لانے کے بعد اب تم اسے قتل مت کرنا ، اگر تم نے اسے قتل کیا تو تم بھی اس کے مثل ہوجاؤ گے ۔ یعنی جس طرح اسلام لانے سے پہلے اس کو قتل کرنا مباح تھا تو اسی طرح تمہیں بھی اس کو قتل کرنے کے بعد قتل کرنا مباح ہوگا ۔ ‘‘ ( [3] )
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یعنی جیسے وہ کافر کفر کی وجہ سے مباح الدم مستحق قتل تھا ، ویسے ہی اب تم اس کے قتل کی وجہ سے مستحق قتل ہوجاؤگے ۔ حکم یکساں ہے ، وجہِ حکم میں فرق ہے ۔ کیونکہ وہ مسلمان ہوکر معصوم الدم ہوگیا اور جو ایسے شخص کو قتل کردے اسے قتل کیا جاتا ہے اور جیسے تم پہلے محفوظ الدم تھے ایسے ہی اب وہ محفوظ الدم ہوگیا ۔ یا یہ مطلب ہے کہ اب اس قتل کی وجہ سے تم مستحق عذاب ہوگئے اور وہ کلمہ پڑھ لینے کی وجہ سے مستحق رحمت ہوگیا ، اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم کافر ہوگئے ۔ ‘‘ ( [4] )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میں جہاں اس با ت کا واضح بیان ہے کہ کسی بھی شخص کے متعلق اس کے ظاہر پر فیصلہ کیا جائے گا ، وہیں اس حدیث پاک سے ایک مسلمان کی عزت وحرمت کا بھی عظیم درس ملا کہ اسلام نے مسلمانوں کی عزت وناموس کا تحفظ کیا ہے ، کسی کو بھی مسلمان کا ناحق خو ن بہانے کی قطعاً اجازت نہیں ہے ۔ ایسے تمام لوگوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو مسلمانوں کا نا حق خون بہاتے ہیں ، چھوٹی چھوٹی باتوں پر بلا وجہ ناحق قتل کرنا ان کی عادت بن چکی ہے ۔ مسلمانوں کی جان سے کھیلنے کا کوئی موقع وہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔ طلب مال ، مقام ومرتبے اور عہدہ پانے کے لیے بھی کسی کی جان کی پرواہ تک نہیں کرتے ۔ قرآن وسنت دونوں میں مسلمانوں کی عزت وحُرمت کو واضح طور پر بیان فرمایا گیا ہے ، چنانچہ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد ہوتا ہے :
وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا(۹۳) ( پ۵ ، النساء : ۹۳ )
ترجمۂ کنزالایمان : : اورجو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لیے تیار رکھا بڑا عذاب ۔
کسی بھی مسلمان کا ناحق خون بہانے کی احادیث میں شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہے ۔ چنانچہ اس سلسلے میں تین فرامین مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پیش خدمت ہیں : ( 1 )
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع