دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

سنا :  ’’جس نے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کہا اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے علاوہ جن  باطل خداؤں کی پوجا کی جاتی ہے ان کا انکار کیا تو اس کا مال اور جان محفوظ ہوگئے اور اس کا حساب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سپرد ہے ۔   ‘‘  عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ اَحکامِ شرعیَّہ کا تعلق ظاہر کے ساتھ ہے ، باطنی اور پوشیدہ معالات کے ساتھ نہیں ہے جیسے کوئی فاسد عقیدہ رکھتا ہو یا چُھپ کر بُرے اعمال کرتا ہو تو ایسے شخص کے معاملے کو اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کے سپرد کردیا جائے گا ۔ ‘‘ ( [1] )

حدیث میں پوراکلمہ مراد ہے :

یہاں اس حدیث پاک میں ایک بات قابل توجہ ہے کہ اس سے پچھلی حدیث پاک میں پورے کلمے یعنی توحید ورسالت کا بیان تھا کہ لیکن اس حدیث پاک میں فقط توحید کا بیان ہے رسالت کا بیان نہیں ہے ۔  اس کی چند وجوہات ہیں :  ( 1 ) کلمہ طیبہ کے دو جزء ہیں ، پہلا جزء :  لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ، اور دوسرا جزء :  مُحَمَّدٌ رَّسُوْلٌ اللہِ ہے ۔ یہاں حدیث پاک میں ایک جزء ہی بیان کرکے پورا کلمہ مراد لیا گیا ہے یعنی جزء بول کر کل مراد لیا گیا ہے ۔  ( 2 ) لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ پورے کلمے کا علم یعنی مخصوص نام ہے اورجب علم بولا جاتا ہے تو اس سے مراد پوری ذات شخصیت یا چیز مراد ہوتی ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ الحمد شریف پڑھوتو وہاں مراد پوری سورۂ فاتحہ ہوتی ہے ، لہٰذا یہاں بھی پورا کلمہ مراد ہے ۔  ( 3 ) یہاں پورا کلمہ مراد ہے اس کی دلیل وہ تمام احادیث ہیں جن میں پورے کلمہ کا ذکر ہے ۔  عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یہاں حدیث پاک میں لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اپنے قرینے یعنی مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ کے ساتھ مراد ہے ، یہاں فقط لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُپر اکتفاء کیا گیا ہے ۔ ‘‘ ( [2] )

پورا کلمہ پڑھنے والا ہی مسلمان ہے :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! واضح رہے کہ وہ تمام احادیث جن میں اس طرح کا مضمون ہے کہ جس نے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کہا تو وہ جنت میں داخل ہوگیا ۔  وغیرہ وغیرہ ان تمام احادیث میں بھی یہاں پورا کلمہ طیبہ مرا ہے ، اگر کوئی شخص فقط لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ اور اگلے جزء کا دل سے اقرار نہ کرے تو وہ مسلمان نہیں ہے ۔ چنانچہ عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’محدثین ، فقہاء اور متکلمین تمام علمائے اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کسی بھی مؤمن پر اہل قبلہ ہونے  اور جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ کے داخل نہ ہونے کا حکم اسی صورت میں لگایا جائے گا جبکہ وہ شکوک شبہات سے خالی سچے دل سے دین اسلام کے صحیح ہونے کا پختہ اعتقاد رکھے اور اپنی زبان سے دونوں شہادتیں دے یعنی اس بات کی شہادت کی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس بات کی شہادت کہ محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے رسول ہیں ۔  ان دونوں کے ساتھ یہ شرط نہیں لگائی جائے گی کہ وہ یہ بھی کہے کہ میں خلاف اسلام ہردین سے بیزار ہوں ۔  ( کیونکہ اس کی یہ دونوں شہادتیں ہی خلاف اسلام دین سے بیزاری کا اظہار ہیں ) ، البتہ اگر وہ پہلے ایسے کفار میں سے تھا جو یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو فقط عرب کی طرف ہی رسول بنا کر بھیجا گیا تو اب اس پر اس وقت تک اسلام کا حکم نہیں لگایا جائے گا جب تک وہ اس فاسد عقیدے سے اپنی براءت کا اظہار نہ کرے ۔ بہرحال جو شخص فقط لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کہے اور مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ نہ کہے تو وہ مسلمان نہیں ہے اور حدیث پاک میں جو فقط لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کہا گیا ہے تو وہ بھی اسی وجہ سے کہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ اس کے ساتھ یقینی طور پر ملا ہوا ہی ہے ۔ ‘‘ ( [3] )

اس حدیث پاک کی  تفصیلی شرح کے لیے پچھلی حدیث پاک کی شرح ملاحظہ کیجئے ۔  

مدنی گلدستہ

’’مسلمان  ‘‘  کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور  اور

اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول

(1)   اسلام میں مسلمان کی عزت وحرمت اور اس کے مال کی حرمت کو بیان فرمایا گیاہے ۔

(2)   کسی بھی مسلمان کی جان اور مال کی عزت اور حرمت کو پامال کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔

(3)   شرع میں فقط ظاہر کے اعتبار سے فیصلہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔

(4)   اگر کوئی شخص بظاہر مسلمان ہے تو اسے مسلمان ہی تصور کیا جائے گا ، اس کے باطنی معاملات کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سپرد کردیا جائے گا ۔

(5)   جن احادیث میں فقط لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کی فضیلت بیان ہوئی ہے وہاں پورا کلمہ طیبہ مراد ہے ۔

(6)   جو شخص پورا کلمہ طیبہ پڑھتا ہے وہی مسلمان ہے ، فقط ایک جزء پر ایمان لانے والا مسلمان نہیں ہے ۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اِیمان کی سلامتی عطا فرمائے ، اَحکامِ شرعیہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہماری حتمی مغفرت فرمائے ، کل بروز ِقیامت بلا حساب جنت میں داخلہ عطا فرمائے ۔  

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !                       صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر  : 392                                                                                                                             کیا میں اس کو قتل کردوں ؟

 



[1]      دلیل الفالحین ، باب فی اجراء احکام الناس ۔ ۔  ۔ الخ ، ۲ / ۲۷۱ ، تحت الحدیث : ۳۹۱ ۔

[2]      دلیل الفالحین ، باب فی اجراء احکام الناس ۔ ۔  ۔ الخ ، ۲ / ۲۷۰ ، ۲۷۱ ، تحت الحدیث : ۳۹۱ ۔

[3]     شرح مسلم للنووی ، کتاب الایمان ، باب بیان الایمان والاسلام ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱ / ۱۴۹ ، الجزء الاول ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن