30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مطابق ہی فیصلہ بھی کیا جائے گا ۔ ( 2 ) حدیث مذکور میں جو فرمایا کہ جس نے وحدانیت ورسالت کی گواہی دی ، نماز قائم کی اور زکوٰۃ اَدا کی تو اس سے صرف یہی اَعمال مراد نہیں بلکہ تمام اَحکام اِسلامیہ کو ماننا مراد ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جو اَحکام اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے لائے ان تمام پر ایمان لایا جائے ۔ ( 3 ) جو شخص وحدانیت ورسالت کی گواہی دے ، نماز قائم کرے ، زکوٰۃ ادا کرے تو اس کا مال اور جان محفوظ ہوجائیں گے لیکن اسلام کے دیگرحقوق تو اس پر لازم ہوں گے جیسے قصاص ، حد اورتلافی مال وغیرہ ۔ ( 4 ) مسلمان جب کفار سے جنگ کرنے کی طاقت رکھتے ہوں تو ان سے جنگ کرنا واجب ہے یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں یا پھر جزیہ دیں ۔ ‘‘ ( [1] )
تفہیم البخاری میں اس حدیث پاک کے تحت بیان کیا گیا کہ ’’جو شخص ایمان لے آئے اس کا خون محفوظ ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا منجملہ ایمان ہے ۔ نماز اور زکوٰۃ کو منع کرنے والوں سے جنگ کرنی چاہیے ۔ اس حدیث پاک میں جن لوگوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہ مشرک ہیں جبکہ اُن سے عہد نہ ہوا ہو اور نہ ہی ان سے صلح ہوئی ہو ۔ اس سے اہل کتاب مراد نہیں کیونکہ وہ جزیہ ادا کرنے کے باعث حکم قتال سے خارج ہیں یا عام لوگ مراد ہیں ، مشرک ہوں یا یہود و نصاریٰ ہوں ، ان سے جنگ کی جائے ۔ حتی کہ وہ اسلام قبول کریں یا جزیہ قبول کریں ۔ گویا کہ اللہتعالیٰ نے فرمایا : حَتّٰی یُسْلِمُوْا اَوْ یُعْطُوا الْجِزْیَۃَاور حدیث میں اصل مقصد کو ذکرکیا ہے اور وہ اسلام ہے ۔ الحاصل جب لوگ اسلام قبول کرلیں تو حق اسلام کے سوا کسی اور وجہ سے انہیں قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی ان کے اموال پر قبضہ کیا جائے گا اور ان کے دلوں کی باتیں اللہ کے سپرد ہیں ہم صرف ظاہر حال پر فیصلہ کر سکتے ہیں ۔ ‘‘ ( [2] )
مدنی گلدستہ
’’اولیاء اللہ ‘‘ کے 10حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 10مدنی پھول
(1) جو شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وحدانیت اور حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رِسالت کا اِقرار کرلے تو اب اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی جبکہ کسی ضروریاتِ دینی کا منکر نہ ہو ۔
(2) جو بھی مسلمان ہوجاتا ہے اس کا خون اور مال محفوظ ہوجاتا ہے ۔
(3) قتال کا حکم فقط کفار ومشرکین کے ساتھ ہے مسلمانوں کے ساتھ نہیں ہے ۔
(4) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وحدانیت اور رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رسالت کی گواہی دینا اسلام کا اعتقادی رکن ہے ۔
(5) نماز بدنی رکن ہے ، روزہ بھی بدنی رکن ہے ، زکوٰۃ مالی رکن اور حج مالی وبدنی رکن ہے ۔
(6) توحیدورسالت کے بعد نماز وزکوٰۃ کی بہت اہمیت بیان فرمائی گئی ہے ۔
(7) نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج وغیرہ کی فرضیت کا انکار کرنے والا کافر ہے ، جبکہ تارِکِ نماز یا تارِکِ زکوٰۃ فاسق ومرتکب کبیرہ گناہ ہے ، ایسے شخص کو تعزیراً سزا دی جائے گی ۔
(8) لوگوں کے ظاہر حال کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیاگیا ہے کہ اس میں بے شمار حکمتیں پوشیدہ ہیں ۔
(9) خفیہ اور پوشیدہ معاملات کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سپرد کرنے کا حکم ہے اور وہی ان کا فیصلہ فرمائے گا ۔
(10) جو شخص توحیدورسالت کا اِقرار کرلے گا اس کا خون اور مال محفوظ ہوجائے گا لیکن اسلام کے دیگر حقوق اس سے معاف نہ ہوں گے ، ان کی ادائیگی بہرحال ضروری ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اَحکامِ شرعیہ پر صحیح طریقے سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 391 وحدانیّت کے سبب جان ومال کی حفاظت
عَنْ اَبِيْ عَبْدِ اللهِ طَارِقِ بْنِ اَشْیَمْ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ : مَنْ قَالَ : لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَكَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مِنْ دُ وْنِ اللهِ حَرُمَ مَا لُہُ وَ دَمُہُ وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ تَعَالٰى . ( [3] )
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو عبداللہ طارق بن اشیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے ، فرماتے ہیں کہ میں نے دو عالم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع