30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طرف سے لائے ہیں ۔ ‘‘ ( [1] )
تارِک نمازوزکوٰۃ کا شرعی حکم :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ جو شخص وحدانیت ورسالت کی گواہی کے ساتھ نماز وزکوٰۃکی ادائیگی کرے گا اس کا خون اور مال محفوظ ہے ۔ ترک نماز کے متعلق صدرُالشریعہ ، بدرُالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ہر مکلّف یعنی عاقِل بالغ پر نما ز فرض عین ہے اس کی فرضیت کا منکر کافر ہے اور جو قصداً چھوڑ ے اگرچہ ایک ہی وقت کی وہ فاسِق ہے اور جو نماز نہ پڑھتا ہو قید کیا جائے یہاں تک کہ توبہ کرے اور نماز پڑھنے لگے بلکہ ائمہ ثلاثہ مالک و شافعی و احمدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے نزدیک سلطانِ اسلام کو اس کے قتل کا حکم ہے ۔ ‘‘ ( [2] ) زکوٰۃ ادا نہ کرنے کے متعلق فرماتے ہیں : ’’زکاۃ فرض ہے ، اُس کا منکر کافر اور نہ دینے والا فاسق اور قتل کا مستحق اور ادا میں تاخیر کرنے والا گنہگار و مَردُودُ الشہادۃ ہے ۔ ‘‘ ( [3] )
ظاہر کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم :
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’حدیث پاک میں اس بات پر دلیل موجود ہے کہ لوگوں پر ان کے ظاہری حالت کے مطابق فیصلہ کیا جائے ، ان کے باطنی معاملات کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سپرد کردیا جائے ۔ حضور نبی کریم ، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور آپ کے بعد کے ائمہ نے بھی اسی طرح لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا ہے ۔ ‘‘ ( [4] ) اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’جن باتوں کو لو گ اپنے دل میں چھپائے بیٹھے ہیں جیسے کفر گناہ وغیرہ ، اس کا حساب اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی لے گا ، مخلص کو ثواب دے گا اور منافق کو عذاب یا چھپ کر فسق کرنے والے کو جزا دے گا یا معاف کرے گا ۔ جو شخص اپنے اسلام کو ظاہر کرے اور کفر کو چھپائے تو اس کے ظاہر کے اعتبار سے اسلام کو قبول کیا جائے گا یہی اکثر علماء کا قول ہے ۔ ( [5] )
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں شارع عَلَیْہِ السَّلَام یعنی حضور نبی اکرم نورِمجسم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ظاہری احوال پر احکام کا اجراء فرمایا ہے اور باطنی احوال کا معاملہ باطنی امور کو جاننے والے ربّ تعالیٰ کے سپرد کردیا ہے کہ وہ خود ہی باطنی احوال پر ان کا محاسبہ فرمائے ۔ ‘‘ ( [6] )
رسولُ اللہ کے فیصلوں سے متعلق اہم وضاحت :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! واضح رہے کہ مذکورہ حدیث پاک میں جو ظاہر پر فیصلہ کرنے کا حکم دیاگیا ہے وہ فقط اُمَّت کے لیے ہے ، حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یہ خصوصی اختیار عطا فرمایا ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کسی بھی شخص کے ظاہر پر بھی فیصلہ فرماسکتے ہیں اور باطن پر بھی ، بہرصورت آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فیصلہ نافذہوگا کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اُمَّت کے تمام ظاہری وباطنی اَحوال منکشف ہیں ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کو ظاہر کا علم بھی عطا فرمایا ہے اور باطن کا بھی علم عطا فرمایا ہے ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فریقین میں فیصلہ کے لیے نہ تو کسی گواہی کی ضرورت ہے اور نہ ہی یمین یعنی قسم کی ضرورت ہے ۔ چنانچہ اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّدطِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوخَصمَیْن یعنی وہ دونوں فریق جن کے مابین فیصلہ کرنا ہے ان کے باطن پر بھی مطلع فرمادے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بذاتِ خود یقین کے ساتھ بغیر کسی شہادت اور قسم کے ان کے مابین فیصلہ صادر فرمادیں لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے امت کو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اتباع کا حکم دیا ہے ۔ ( کیونکہ اتباع صرف فعل کی ہوتی ہے ) اور اقتدا اقوال افعال اور احکام تینوں کی ہوتی ہے ۔ اتباع میں باطنی حالت کو جانے بغیر فقط ظاہری حالت کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا جاسکتا ہے تو فقط اتباع کا حکم اس لیے دیا گیا تاکہ لوگ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اسوۂ حسنہ پر بہتر طریقے سے عمل کرسکیں اور باطن پر نظر کیے بغیر فقط ظاہر کو دیکھتے ہوئے لوگوں کے درمیان بہتر طریقے سے فیصلہ کرسکیں ۔ ‘‘ ( [7] )
ظاہر وباطن پر فیصلے کی چندامثلہ :
واضح رہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی حیات طیبہ میں ظاہری وباطنی دونوں ، فقط ظاہری اور فقط باطنی ہرطرح کے فیصلے فرمائے ، چندامثلہ پیش خدمت ہیں :
( 1 ) ام المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبد بن زمعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا ایک نوجوان لڑکے کے بارے میں جھگڑا ہوگیا ۔ حضرت سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہنے لگے : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے ، اس نے مجھے وصیت کی تھی کہ یہ اس کا بیٹا ہے ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کی صورت تو دیکھیے ۔ ‘‘ حضرت عبد بن زمعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہنے لگے : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! یہ میرا بھائی ہے جو میرے باپ
[1] عمدۃ القاری ، کتاب الایمان ، باب فان تابوا ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱ / ۲۷۶ ، تحت الحدیث : ۲۵ ۔
[2] بہارشریعت ، ۱ / ۴۴۳ ، ، حصہ سوم ۔
[3] بہارشریعت ، ۱ / ۸۷۴ ، حصہ پنجم ۔
[4] عمدۃ القاری ، کتاب الایمان ، باب فان تابوا ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱ / ۲۷۵ ، تحت الحدیث : ۲۵ ۔
[5] شرح الطیبی ، کتاب الایمان ، ۱ / ۱۲۹ ، تحت الحدیث : ۱۰ ۔
[6] دلیل الفالحین ، کتاب الفضائل ، باب فی الامر بالمحافظۃ علی الصلوات المکتوبات ۔ ۔ ۔ الخ ، ۳ / ۵۶۱ ، تحت الحدیث : ۱۰۷۴ ۔
[7] شرح الطیبی ، کتاب الامارۃ والاقضیۃ ، باب الاقضیۃ والشھادات ، ۷ / ۲۹۸ ، تحت الحدیث : ۳۷۶۱ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع