دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

’’چل مدینہ  ‘‘  کے 7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور

 اس کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول

(1)   اسلام میں کسی بھی مسلمان مردوعورت کو کوئی بھی تکلیف پہنچانے کی اجازت نہیں ہے ۔

(2)   جب عام مسلمان کے لیے یہ حکم ہے تو نیک شخص کو تو بدرجہ اَولیٰ تکلیف دینے کی ممانعت ہے ۔

(3)   جو شخص نمازِ فجر ادا کرتاہے وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی امان میں چلا جاتا ہے اور اسے تکلیف دینا منع ہے تو پانچ وقت نماز ادا کرنے والا زیادہ مستحق ہے کہ اسے کوئی تکلیف نہ پہنچائی جائے ۔

(4)   نمازِ فجر کا خصوصیت کے ساتھ اس لیے ذکر کیا کہ اس نماز کی ادائیگی دوسری نمازوں کے مقابلے میں نفس پر زیادہ گراں ہے اور اس نماز کی ادائیگی نماز ی کے اِخلاص پر دلالت کرتی ہے ۔

(5)   اگرچہ تمام فرض نمازوں کی بہت اہمیت ہے مگر نماز ِفجر کی ایک لحاظ سے خصوصی اہمیت وفضیلت بیان کی گئی ہے ۔

(6)   ہمیشہ نمازِ باجماعت کا اہتمام کرنا چاہیے کہ جس طرح نمازِ باجماعت کے فضائل احادیثِ مبارکہ میں بیان فرمائے گئے ہیں ویسے ہی ترکِ جماعت کی وعیدیں بھی بیان کی گئی ہیں ۔

(7)   بندے کو چاہیے کہ تمام گناہوں سے اپنے آپ کو بچائے خصوصاً کسی بھی مسلمان کو تکلیف دینا کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی امان میں ہوتا ہے اور جوشخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی امان کو توڑ دیتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پکڑ فرماتا ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پکڑ بہت سخت ہے ، جس شخص کی اللہ عَزَّ وَجَلَّ پکڑ فرماتا ہے تو وہ اسے اوندھے میں جہنم میں داخل فرمادیتا ہے ۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں مسلمانوں بالخصوص نیک لوگوں کو ہرقسم کی تکلیف پہنچانے سے محفوظ فرمائے ۔                                    

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !                       صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

با ب نمبر : 49                                                                                                                                                     ظاہر کے مطابق  اَحکام جاری  کرنے کا بیان

اَحکام کو لوگوں کے ظاہر کے مطابق جاری  کرنے اورباطن کا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑدینے کا بیان

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  ہرشخص کی دوحالتیں ہوتی ہیں :  ظاہری حالت ، باطنی حالت ۔  اسی طرح اس کے اچھے برے اعمال بھی دو طرح کے ہوتے ہیں :  ظاہری اعمال ، باطنی اعمال ۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بندے کے تمام احوال سے واقف ہے جبکہ بندے فقط ظاہری احوال سے واقف ہوتے ہیں ۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنے بندوں کے مختلف معاملات میں فیصلہ کرنے کے لیے بھی اپنے بندوں کو ہی مخصوص فرمایا ہے اور چونکہ بندے فقط ظاہری احوال سے واقف ہوتے ہیں اسی لیے انہیں اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ وہ ظاہری احوال کے مطابق ہی فیصلہ کریں اور باطنی احوال کو اس ربّ عَزَّ وَجَلَّ پر چھوڑ دیں جو ظاہری وباطنی تمام اَحوال سے واقف ہے ۔  ظاہری احوال پر واقف ہونے کی وجہ سے فقط ظاہری احوال کے مطابق فیصلہ کرنے میں بے شمار حکمتیں ہیں ، جبکہ باطنی احوال سے واقف نہ ہونے پر باطنی احوال کے مطابق فیصلہ کرنے میں کثیر نقصانات ہیں ۔ ریاض الصالحین کا یہ باب بھی لوگوں کے ظاہری احوال کے مطابق فیصلہ کرنے اور باطنی احوال کو ربّ تعالی پر چھوڑ دینے کے بیان میں ہے ۔   عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے اس باب میں ایک آیت اور چھ احادیث مبارکہ بیان فرمائی ہیں ۔  پہلے آیت مبارکہ اور اس کی تفسیر ملاحظہ کیجئے ۔

اگر ظاہراً توبہ کرلیں تو ان کی راہ چھوڑ  دو

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے :

فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْؕ- ( پ۱۰ ، التوبۃ :  ۵ )

ترجمۂ  کنزالایمان  : : پھر اگر وہ توبہ کریں  اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ دیں تو ان کی راہ چھوڑ دو ۔

مذکورہ آیت مبارکہ میں اس بات کا بیان ہے جو ظاہر ی طور پر اپنے کفر سے توبہ کرلے ، نماز کی فرضیت اور زکوٰۃ کی ادائیگی کی فرضیت کا اقرار کرلے تو اب اسے کچھ نہ کہا جائے گا کیونکہ احکام میں ظاہر کا اعتبار کیا جائے گا ، جب اس نے ظاہری طور پر توبہ کرلی تو بس اب اس کی توبہ کو قبول کرلیا جائے گا ۔  چنانچہ علامہ محمد بن عبد الہادی سندی المدنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں :  ’’مذکورہ آیت مبارکہ میں کفر سے توبہ کرنے کو نماز قائم کرنے اورزکوۃ ادا کرنے کے ساتھ ملایا گیا ہے کیونکہ توبہ کی طرح یہ دونوں بھی ایمان سے ہیں اور احادیث میں توبہ کی تفسیر شہادت ( یعنی ربّ تعالیٰ کے معبود حقیقی ہونے اور رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نبی ہونے ) سے کی گئی ہے کیونکہ احکام کا مدار ظاہری توبہ پر ہی ہے ۔  ‘‘ ( [1] ) عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس آیت مبارکہ کا اطلاق حقیقتاً ہر شخص کو شامل ہے اور یہ حکم ظاہراً ہے باطناً نہیں ہے ۔  یعنی جو شخص کفر سے ظاہرا توبہ کرلے ، نماز قائم کرے اور زکوۃ ادا کرے تو اب اسے قتل اور قید نہیں کیا جائے گا ۔ ‘‘ ( [2] ) مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں :  ’’اس آیت سے چند مسئلے معلوم ہوئے :  ایک یہ کہ مُکْرَہ یعنی مجبور کا ایمان معتبر ہے جیسا کہ  فَاِنْ تَابُوْا سے معلوم ہوا ۔  یعنی اگر کفار جنگ کی حالت میں کفر سے توبہ کرلیں یہ توبہ قبول ہے ، خوشی سے ہو یا  ڈر کر ( کیونکہ ظاہراً انہوں نے کفر سے توبہ کرلی اور اسلام قبول کرلیا ، ظاہر پر ہی حکم ہوگا ، خوشی یا ڈر سے قبول کرنے کا تعلق دل سے ہے اور احوال قلب پر حکم نہیں ) ۔ دوسرے یہ کہ نماز وزکوٰۃ مسلمان ہو جانے اور کفر



[1]     حاشیہ السندی علی البخاری ، کتاب الایمان ، باب فان تابوا واقاموا الصلاۃ ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱ / ۲۰ ۔

[2]     دلیل الفالحین ، باب فی  اجراء احکام الناس علی الظاھر ، ۲ / ۲۶۹ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن