دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

ابن حجر ہیتمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : یہاں حدیث پاک میں فقط اس شخص کے ساتھ برا سلوک کرنے سے منع کیا گیا ہے جو نماز فجر کی ادائیگی کرتا ہے تو جو پانچوں نمازوں کی ادائیگی کرتا ہے وہ تو بدرہ اولیٰ اس بات کا حق دار ہے کہ اس کے ساتھ برا سلوک نہ کیا جائے ۔   ‘‘  امام شعرانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے نقل فرمایا ہے کہ حجاج بن یوسف  بڑا ظالم وجابر ہونے کے باوجود جب اس کے پاس کسی شخص کو لایا جاتا تو وہ اس سے پوچھتا :  کیا تم نے صبح کی نماز پڑھی ہے ؟اگر وہ ہاں کہتا تو حجاج اسے اسی وجہ سے   کوئی تکلیف نہ پہنچاتا کہ یہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی امان میں ہے ۔ ‘‘ ( [1] )

نمازفجر کی ادائیگی کی خصوصیت :

اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :  ’’فجر کی نماز کو خصو صیت کے ساتھ اس لئے ذکر کیا کہ اس نماز کی ادائیگی دوسری نمازوں کے مقابلے میں نفس پر زیادہ گراں گزرتی ہے اور اس نماز کی ادائیگی نمازی کے اخلاص پر دلالت کرتی ہے ۔ ‘‘ ( [2] )

باجماعت نماز فجر کی فضیلت :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میں نماز فجر کا ذکر ہے ، نماز فجرکی احادیث مبارکہ میں بہت اہمیت وفضیلت بیان فرمائی گئی ہے ، چنانچہ باجماعت نماز فجر کی فضیلت پر تین فرامین مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے :  ( 1 ) ’’جس نے عشاء کی نماز باجماعت ادا کی گویا اس نے آدھی رات قیام کیا اور جس نے فجر کی نماز باجماعت ادا کی گویا اس نے پوری رات قیام کیا ۔ ‘‘ ( [3] ) ( 2 ) ’’منافقین پر سب نَمازوں سے بھاری فجر اور عشاء کی نَماز ہے ، اگر جان لیتے کہ ان دونوں نَماز وں میں کیا ہے تو ضرور حاضرہوتے اگرچہ گھسٹتے ہوئے آتے ، اور بیشک میں نے ارادہ کیا کہ میں نَماز قائم کرنے کاحکم دوں اور کسی شخص کو نَماز پڑھانے پر مقرر کروں ، پھر کچھ لوگو ں کو اپنے ساتھ چلنے کے لئے کہوں جو لکڑیا ں اٹھائے ہوئے ہوں ، پھر ان لوگوں کی طر ف جا ؤں جو نَماز میں حاضر نہیں ہوتے اور ان کے گھروں کو آگ سے جلا دوں ۔ ‘‘ ( [4] )  ( 3 ) ’’اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی اس طرح عبادت کرو گویاکہ تم اسے دیکھ رہے ہو ، اگرتم اسے دیکھ نہیں سکتے تو بے شک وہ تمہیں دیکھ رہا ہے اور اپنے آپ کو مُردوں میں شمار کرواور مظلوم کی بد دعا سے بچتے رہوکیونکہ وہ ضرور قبول ہوتی ہے اور تم میں جو فجر اور عشاء کی نما ز میں حاضر ہوسکے اگرچہ گھسٹتے ہوئے ، تو اسے چاہیے کہ وہ ضرور حاضر ہو ۔ ‘‘ ( [5] )

ربّ تعالیٰ کی پکڑ اور گرفت بہت سخت ہے :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی پکڑ اور اس کی گرفت کا ذکر ہوا ، واقعی رب تعالیٰ کی گرفت بہت سخت ہے ، وہ جس کی گرفت فرمائے گا ، اس کا انجام جہنم کے سوا کچھ نہیں ، ہمیں اس سے پناہ مانگنی چاہیے ، اس سے اس کا فضل وکرم طلب کرنا چاہیے ۔ قرآن واحادیث میں بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی شدید پکڑ کا ذکر فرمایا گیا ہے ۔  چنانچہ ارشاد ہوتاہے :

وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌؕ-اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ(۱۰۲)اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِؕ-ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌۙ-لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ(۱۰۳)وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍؕ(۱۰۴)یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖۚ-فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ(۱۰۵)فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ(۱۰۶)خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَؕ-اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ(۱۰۷)وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَؕ-عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ(۱۰۸) ( پ۱۲ ، ھود : ۱۰۲تا ۱۰۸ )

ترجمۂ  کنزالایمان  :  اور ایسی ہی پکڑہے تیرے رب کی ، جب بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے ظلم پر ، بے شک اس کی پکڑ دردناک کری ( سخت ) ہے ، بے شک اس میں نشانی ہے اس کے لئے جو آخرت کے عذاب سے ڈرے ، وہ دن ہے جس میں سب لوگ اکٹھے ہوں گے اور وہ دن حاضری کا ہے اور ہم اسے پیچھے نہیں ہٹاتے مگر ایک گنی ہوئی مدت کے لئے ، جب وہ دن آئے گا ، کوئی بے حکمِ خدا بات نہ کرے گا ، تو ان میں کوئی بد بخت ہے اور کوئی خوش نصیب ، تو وہ جو بد بخت ہیں وہ تو دوزخ میں ہیں وہ اس میں گدھے کی طرح رینکیں ( چیخیں  چلائیں ) گے  وہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان وزمین رہیں مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا بے شک تمہارا رب جب جو چاہے کرے اور وہ جوخوش نصیب ہوئے وہ جنت میں ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان وزمین رہیں مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا یہ بخشش ہے کبھی ختم نہ ہوگی ۔

سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : ’’ کیا جو کچھ میں سن رہا ہوں ، تم بھی سن رہے ہو؟ آسمان چِرچِرااُٹھا ہے اوروہ اس کا حق بھی ہے کیونکہ اُس پر ہر چار انگلیوں کی جگہ پر ایک فرشتہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے لئے سجدے میں یاقیام یا رکوع میں ہے ، جو کچھ میں جانتا ہوں ، اگر تم بھی جان لیتے تو کم ہنستے اور زیادہ روتے اور اللہ عَزَّوَجَلَّکے خوف سے پہاڑوں کی طرف نکل کھڑے ہوتے اوراس کی عظیم پکڑ اور سخت انتقام سے ڈرتے ہوئے اُس کی پناہ مانگتے ۔ ‘‘ ایک روایت میں ہے  : ’’اور تم اس بات سے بے خبر ہو کہ تمہیں نجات ملے گی یانہیں ۔ ‘‘ ( [6] )

مدنی گلدستہ

 



[1]     دلیل الفالحین ، باب فی تعظیم حرمات المسلمین ، ۲ / ۱۸ ، تحت الحدیث : ۲۳۳ ۔

[2]     شرح الطیبی ، کتاب الصلوۃ  ، باب فضیلۃ الصلوات ، ۲ / ۲۱۷ ، تحت الحدیث : ۶۲۷ ۔

[3]     مسلم ، کتا ب المساجد ومواضع الصلوۃ ، با ب فضل صلوۃالعشا ء والصبح فی جماعۃ ، ص ۳۲۹ ، حدیث :  ۶۵۶ ۔

[4]     بخاری ، کتاب الاذان ، با ب فضل العشا ء فی الجماعۃ ، ۱ / ۲۳۵ ، حدیث :  ۶۵۷ ۔

[5]     مجمع الزوائد ، کتا ب الصلوۃ ، با ب فی صلوۃ العشا ء الاخرۃ والصبح فی جماعۃ ، ۲ / ۱۶۵ ، حدیث : ۲۱۴۹ ۔

[6]     کنز العمال ، کتاب العظمۃ  من قسم الاقوال ، الجزء : ۱۰ ،  ۵ / ۱۶۶ ، حدیث : ۲۹۸۲۴ ، ۲۹۸۲۸ملخصا ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن