30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے کہ سائل سے طا لبِ علم مراد ہے اِس کا اکرام کرنا چاہیے اور جو اس کی حاجت ہو اس کو پورا کرنا اور اس کے ساتھ ترش روئی و بدخُلقی نہ کرنا چاہیے ۔ ‘‘ ( [1] )
باب سے متعلقہ اَحادیث کی وضاحت :
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اس باب سے متعلقہ بہت اَحادیث ہیں ۔ ان میں سے ایک حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی حدیث پاک ہے جو اس سے قبل باب میں گزر چکی ہے ، جس میں فرمایا گیا : ’’جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی تو اس کے خلاف میرا اعلان جنگ ہے ۔ ‘‘ اور ایک حدیث پاک حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی ہے جو یتیم کے ساتھ نرمی کرنے کے باب میں ہے ۔ اسی طرح حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ ارشاد گرامی بھی اس باب سے تعلق رکھتا ہے : ’’اے ابوبکر ! اگر تو نے ان کو ناراض کر دیا تو بلا شبہ تو نے اپنے رب کو ناراض کر دیا ۔ ‘‘ ( [2] )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 389 نمازِ فجر پڑھنے والا رب تعالٰی کی امان میں
عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ فَلَا يَطْلُبَنَّكُمْ اللَّهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ فَاِنَّهُ مَنْ يَطْلُبْهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ يُدْرِكْهُ ثُمَّ يَكُبُّهُ عَلٰی وَجْهِهِ فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ. ( [3] )
ترجمہ : حضرت سیدنا جندب بن عبداللہ رَضِيَ اللهُ تَعَالیٰ عَنْهُ سے مروی ہے کہ دو عالم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’جس شخص نے صبح کی نماز پڑھی تو وہ رب تعالیٰ کی امان میں ہے لہٰذا رب تعالیٰ تم سے اپنی امان کے بارے میں پوچھ گچھ نہ فرمائے کیونکہ جب وہ کسی سے اپنی امان کے بارے میں پوچھ گچھ فرمائے گا تو اس کی سخت پکڑ فرمائے گااور پھر اسے اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے گا ۔ ‘‘
اس حدیث پاک میں نماز فجر کی ادائیگی کرنے والے کااللہ عَزَّ وَجَلَّ کی امان میں ہونا بیان فرمایا گیا ہے ، چونکہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی امان ہے لہذا اب دیگر مسلمانوں کو اس کی حرمت کی تعظیم ، اس کے حقوق کی ادائیگی اور اُس پر رحمت وشفقت کرنا ضروری ہے ، اور اسے کسی بھی قسم کی تکلیف دینا منع ہے کیونکہ اب اسے کوئی تکلیف دینا ایسا ہے جیسا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عہد کو توڑدینا ۔ یہ باب بھی نیک لوگوں کو تکلیف دینے سے ڈرانے کے بارے میں ہے اسی لیے علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے یہ حدیث مبارکہ اِس باب میں بیان فرمائی ہے ۔
عذاب الٰہی سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں :
شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی ” اشعۃ اللمعات“ میں مذکورہ حدیث پا ک کے تحت فرماتے ہیں : ’’یعنی تم کوئی ایسا کام نہ کرو کہ جس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عہد اور اس کی طرف سے لازم کئے ہوئے کاموں میں خلل واقع ہو اور رب تعالیٰ اس پر تم سے پوچھے اور تمہاری باز پرس فرمائے اور صبح کی نماز ادا کرنے والے کسی بھی شخص کو تکلیف نہ پہنچاؤکہ اس طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ کاعہدٹوٹتا ہے اور اس کی امانت میں خیانت واقع ہوتی ہے اگر تم ایسا کرو گے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں عذاب میں مبتلا کرے گا اور اس کے عذاب سے چھٹکارہ کی کوئی صورت بھی نہیں ہے ۔ ‘‘ ( [4] )
نماز فجر ادا کرنے والا ربّ کی امان میں ہے :
مُفَسِّرشہِیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’فجر کی نماز پڑھنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی امان میں ایسا ہوتا ہے جیسے ڈیوٹی کا سپاہی حکومت کی امان میں کہ اس کی بے حرمتی حکومت کا مقابلہ ہے ۔ خیال رہے کہ کلمہ کی امان اور قسم کی ، نماز کی امان اور قسم کی ۔ لہٰذا اَحادیث میں تعارض نہیں ، یعنی ایسا نہ ہو کہ تم نمازی کوستاؤ اور قیامت میں سلطنت اِلٰہیہ کے باغی بن کر پکڑے جاؤ ۔ ‘‘ ( [5] )
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذمہ کو نہ توڑو :
’’رب تعالیٰ تم سے اپنی امان کے بارے میں پوچھ گچھ نہ فرمائے ۔ ‘‘ اس کی شرح میں ” دلیل الفالحین“ میں ہے : ” اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّدطِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ ایسی چیزوں کے ارتکاب سے بچو جو اس بات کو لازم کریں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان کے معاملے میں مطالبہ فرمائے کیونکہ اصل یہ ہے کہ تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذمہ داری کو مت توڑو ۔ مطلب یہ کہ جس نے صبح کی نماز ادا کی وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے حفظ و امان اور اس کے ذمہ کرم میں آ گیا ، پس تم معمولی چیز کے ساتھ بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس ذمہ کو مت توڑو ۔ اگر تم ایسا کروگے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہاری گرفت فرمائے گا اور تم اس گرفت سے بچ نہ سکو گے ۔ وہ ہر جانب سے تمہار احاطہ فرمائے گا اورتمہیں اُوندھے منہ جہنم میں ڈال دے گا ۔ علامہ
[1] تفسیرخزائن العرفان ، پ۳۰ ، الضحی ، تحت الآیۃ : ۱۰ ۔
[2] ریاض الصالحین ، باب التحذیر من ایذاء الصالحین والضعفۃ والمساکین ، ص۱۲۳ ۔
[3] مسلم ، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ ، باب فضل صلاۃ العشاء و الصبح ۔ ۔ ۔ الخ ، ص۳۲۹ ، حدیث : ۶۵۷ ۔
[4] اشعۃ اللمعات ، کتاب الصلوۃ ، باب در توابع ومتممات ، ۱ / ۳۲۴ ۔
[5] مرآۃ المناجیح ، ۱ / ۳۹۵ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع