دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یعنی ہر نماز کی آخری رکعت میں اور جماعت کی دوسری رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد’’قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ  ‘‘  پڑھا کرتے تھے ۔ قراءت ختم کرنے کے بعد کے یہ ہی معنی ہیں ، یہ مطلب نہیں کہ ہررکعت میں اور ( کوئی دوسری ) سورت پڑھ کر’’قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ  ‘‘  پڑھتے تھے کہ یہ تو مکروہ ہے ۔ ‘‘ ( [1] )

جنگ میں بھی نماز باجماعت :

مذکورہ حدیث پاک میں اِس بات کا بیان ہے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو کسی جنگی مہم کے لیے بھیجا اور وہاں صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے نماز باجماعت ادا کی ۔  اِس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ نماز باجماعت کی بہت اہمیت ہے ، صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان عام طور پر تو نماز باجماعت کا اہتمام فرمایا ہی کرتے تھے لیکن جنگوں میں بھی نماز باجماعت کو کبھی ترک نہیں فرمایا کرتے تھے ۔  کاش ہم بھی نماز پنجگانہ باجماعت پہلی صف میں تکبیر اولیٰ کے ساتھ ادا کرنے والے بن جائیں ۔ نماز باجماعت کی فضیلت پر مشتمل 2 فرامین مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے :  ( 1 ) ’’باجماعت نماز ادا کرنا تنہا نمازپڑھنے سے ستائیس درجے افضل ہے ۔ ‘‘ ( [2] ) ( 2 ) ’’جس نے کامل وضو کیا اور کسی فرض نَماز کی ادائیگی کے لئے چلا اور نَماز باجماعت ادا کی تو اس کے گنا ہ معاف کردئیے جائیں گے ۔ ‘‘ ( [3] )

سورۂ اخلاص میں صفاتِ باری تعالیٰ :

سورۂ اخلاص میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی صفات کا واضح بیان ہے اور ان صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بھی اس بات کو بیان فرمایا ۔ چنانچہ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’یہ سورت اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ان صفات پر مشتمل ہے جو اس کے لیے واجب ہیں جیسے توحید اور ان صفات پر بھی مشتمل ہے جو اس کے لیے مخلوق کی جہت سے جائز ہیں جیسے اس کی مخلوق کا اس کی طرف محتاج ہونا ، تمام امور میں اس کی ذات کا قصد کرنا ، اور ان صفات پر بھی مشتمل ہے جو باری تعالیٰ کے لیے محال ہیں جیسے وہ کسی سے پیدا نہیں ہوا اور نہ ہی اس کی کوئی اولاد ہے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ظالم و سرکشی کرنے والوں کی ان تمام باتوں سے پاک ومنزہ اور بہت بلند ہے جو اس کی ذات کے لائق نہیں ہیں ۔ علامہ دمامینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ صحابی کے اس قول کہ اس سورت میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی صفات کا بیان ہے  ۔ اس میں دواحتمال ہیں ، ایک تو یہ کہ اس سورت میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی صفات کو بیان فرمایا گیا ہے جیسا کہ جب کسی وصف کو ذکر کیا جائے تو اسے اس ذات کے ذکر سے تعبیر کردیا جاتا ہے کیونکہ وصف ذات کے ساتھ ملا ہوتا ہے اگرچہ وہ ذکر وصف نہیں ہوتا ۔  دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہوسکتا ہے انہوں نے اس سے غیر کی نفی مراد لی ہو کہ اس سورت میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ایسی صفات کا بیان ہے جو اس کے غیر میں نہیں پائی جاتیں ۔ ‘‘ ( [4] ) صَدرُ ا لا فاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں :  ’’احادیث میں اس سورت کی بہت فضیلتیں وارد ہوئی ہیں اس کو تہائی قرآن کے برابر فرمایا گیا ہے یعنی تین مرتبہ اس کو پڑھا جائے تو پورے قرآن کی تلاوت کا ثواب ملے ۔ ایک شخص نے سیّدِ عالَم صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کیا کہ مجھے اس سورت سے بہت محبّت ہے فرمایا : اس کی محبّت تجھے جنّت میں داخل کرے گی ۔ شانِ نزول  : کفّارِ عرب نے سیّدِ عالَم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اللہ ربُّ العزّت وعزّ وعلا تبارک وتعالیٰ کے متعلق طرح طرح کے سوال کئے :  کوئی کہتا تھا کہ اللہ کا نسب کیا ہے ؟ کوئی کہتا تھا کہ وہ سونے کا ہے یا  چاندی کا ہے  یا لوہے کا ہے  یا لکڑی کا ہے کس چیز کا ہے  ؟ کسی نے کہا وہ کیا کھاتا ہے ، کیا پیتا ہے ؟ ربوبیّت اس نے کس سے ورثہ میں پائی اور اس کا کون وارث ہوگا ؟ ان کے جواب میں اللہتعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی اور اپنے ذات و صفات کا بیان فرما کر معرفت کی راہ واضح کی اور جاہلانہ خیالات و اوہام کی تاریکیوں کو جن میں وہ لوگ گرفتار تھے اپنی ذات و صفات کے اَنوار کے بیان سے مُضْمَحِل ( کمزور ) کر دیا ۔ ‘‘ ( [5] )

صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا استفسار :

جنگ سے واپسی پر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے بارگاہِ رسالت میں حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اس صحابی کے بارے میں استفسار کیا ۔  اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے ۔  چنانچہ مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یا تو حکایۃً کہا گیا یا شکایۃً کیونکہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نماز میں کوئی سورت مقرر نہ کرتے تھے ، فرائض میں یہ مکروہ بھی ہے ۔  ہاں نوافل میں سورتوں کا تقرر جائز ہے ۔  مثلاً کوئی شخص ہمیشہ تہجد میں’’ قُلْ هُوَ اللَّه  ‘‘   ہی پڑھا کرے ۔  اس سے معلوم ہوا کہ شاگرد کی شکایت اُستاد سے مُرید کی شکایت پیر سے حتی کہ اپنے امام کی شکایت سلطان اسلام سے کرسکتے ہیں یہ غیبت نہیں بلکہ اصلا ح ہے ۔ ‘‘ ( [6] )

کام کرنے والے سے پوچھنے کی حکمت :

جب صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے اس شخص کے متعلق رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو خبر دی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے اس کی وجہ پوچھنے کا حکم دیا ۔  عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’اس کا سبب یہ ہے تاکہ اس کی نیت اور اس کے ارادے کے مطابق اس کی جزا کو مرتب کیا جاسکے ۔  اس میں ا س بات کی طرف



[1]     مرآۃ المناجیح ، ۳ / ۲۳۳ ۔

[2]     بخاری ، کتا ب الاذان ، باب فضل صلوۃ الجماعۃ ، ۱ / ۲۳۲ ، حدیث : ۶۴۵ ۔

[3]     الترغیب والترھیب ، کتا ب الصلوۃ ، الترغیب فی المشی الی المساجد ، ۱ / ۱۳۰ ، حدیث : ۶ ۔

[4]     دلیل الفالحین ، باب علامات حب اللہ تعالی للعبد ، ۲ / ۲۶۵ ، تحت الحدیث :  ۳۸۸ ۔

[5]     تفسیرخزائن العرفان ، پ۳۰ ، الاخلاص ، تحت الآیۃ : ۱ ۔

[6]     مرآۃ المناجیح ، ۳ / ۲۳۳ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن