30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطا کردہ اس مدنی مقصد کے تحت زندگی گزارئیے کہ ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کرنی ہے ۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ ‘‘ مدنی قافلوں میں سفر کو اپنا معمول بنالیجئے ، مدنی انعامات کو اپنی زندگی میں نافذ کیجئے ، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی برکت سے پابند سنت بننے ، گناہوں سے نفرت کرنے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا کے مطابق زندگی گزارنے اور ایمان کی حفاظت کے لیے کڑھنے کا مدنی ذہن بنے گا ۔ اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ وَجَلَّ
مدنی گلدستہ
’’مسلمین ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1) خوش بخت ہیں وہ لوگ جن سے ان کا ربّ تعالیٰ محبت فرماتا ہے ۔
(2) جس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ محبت فرماتا ہے ، اس سے جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام ، سارے فرشتے اوردنیا والے بھی محبت کرتے ہیں ، اُس کی عزت واحترام کرتے ہیں ، اُس کے ذکر کو اچھا جانتے ہیں ۔
(3) جس بندے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرشتے محبت کرتے ہیں تو وہ فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں ۔
(4) بدبخت ہیں وہ لوگ جنہیں رب عَزَّ وَجَلَّ ناپسند کرتا ہے ، یقیناًدنیا وآخرت کی تباہی وبربادی ان کا مقدر ہے ۔
(5) رب تعالیٰ کا ناپسندیدہ تمام فرشتوں اورساری دنیا والوں کابھی ناپسندیدہ ہے ۔
(6) ہمیشہ اللہ ورسول کی رضا والے کاموں کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں اپنی رضا والے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، اپنا پسندیدہ بندہ بنائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 388 مَحبوبِ اِلٰہی صحابی رسول
عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم بَعَثَ رَجُلاً عَلَى سَرِيَّةٍ فَكَانَ يَقْرَاُ لِاَصْحَابِهِ فِىْ صَلاَتِهِمْ فَيَخْتِمُ بِـ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ اَحَدٌ﴾ فَلَمَّا رَجَعُوا ذَكَرُوْا ذَلِكَ لِرَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فَقَالَ : سَلُوْهُ لِاَىِّ شَىْءٍ يَصْنَعُ ذٰلِكَ؟ فَسَاَلُوْهُ فَقَالَ : لِاَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمٰنِِ فَاَنَا اُحِبُّ اَنْ اَقْرَاَ بِهَا فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم : اَخْبِرُوْهُ اَنَّ اللَّهَ تَعَالٰی يُحِبُّهُ. ( [1] )
ترجمہ : اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک شخص کوکسی لشکر کا امیر بناکر بھیجا ۔ وہ امیر اپنے اصحاب کو نماز پڑھاتا تو اپنی قراءت کا اختتام (قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ)پر کرتا ۔ جب وہ لشکر واپس لوٹا تو اس کے ساتھیوں نے حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اِس بات کا ذکر کیا ۔ رسولِ اَکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’اس سے پوچھو ! وہ ایسا کیوں کرتاتھا؟ ‘‘ انہوں نے اس سے پوچھا تو اس نے جواب دیا : ’’اس میں رحمٰن عَزَّ وَجَلَّ کی صفت کا بیان ہے اس لیے میں اس کی تلاوت پسند کرتا ہوں ۔ ‘‘ حضور نبی پاک ، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ اسے خبر دے دو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ بھی اس سے محبت فرماتاہے ۔ ‘‘
دعوت اسلامی کے اشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۸۶۴صفحات پرمشتمل کتاب ’’فیضانِ فاروقِ اعظم ‘‘ جلداول ، ص۴۶۹ پر ہے : ’’جن جنگوں میں حضور نبی پاک ، صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خود شرکت فرمائی انہیں مُحَدِّثِیْنْ کی اِصطلاح میں’’مَغَازِیْ ‘‘ اور’’غَزَوَاتْ ‘‘ کہا جاتاہے اور جن میں آپ خود شریک نہ ہوئے بلکہ اپنے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو امیر بنا کر بھیجا انہیں’’سَرَایَا ‘‘ اور ’’بُعُوْثْ ‘‘ کہا جاتاہے ۔ اِن چاروں اِصطلاحات میں مختصر سا فرق ہے ۔ ’’مَغَازِیْ ‘‘ جمع ہے ’’مَغْزیٰ ‘‘ کی ، جس کے معنی غازیوں کے اوصاف کو بیان کرنا ہے جبکہ ’’غَزَوَاتْ ‘‘ جمع ہے ’’غَزْوَہْ ‘‘ کی ۔ اِسی طرح ’’سَرَایَا ‘‘ جمع ہے ’’سَرِیَّہْ ‘‘ کی ، اِس سے مراد وہ لشکر ہے جو کم از کم پانچ افراد پر مشتمل ہو ۔ بعض علمائے کرام فرماتے ہیں کہ کم از کم سو اَفراد پر مشتمل ہو تو ’’سَرِیَّہْ ‘‘ کہلائے گا ۔ ’’سَرِیَّہْ ‘‘ کے اَفراد کی زیادہ سے زیادہ تعداد ۴۰۰چار سوہوتی ہے اور بعض علماء کے نزدیک ۵۰۰پانچ سو جبکہ ’’بُعُوْثْ ‘‘ جمع ہے ’’بَعْثْ ‘‘ کی ، اِس سے مراد وہ فوجی مہم ہوتی ہے جو لشکر سے کچھ منتخب اَفراد کو الگ کرکے بھیجی جائے ۔ ‘‘ ( [2] )
سورۂ اخلاص پر قراءت کا اختتام :
صحابی رسول رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بارے میں بیان ہوا کہ وہ اپنی قراءت کا اختتام سورۂ اخلاص کے ساتھ کیا کرتے تھے ۔ مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع