دنیا میں بندے کے لیے ناپسندیدگی
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا(۹۶)) ( پ۱۶ ، مریم :  ۹۶ ) ( ترجمۂ  کنزالایمان  : ’’بے شک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ، عنقریب ان کے لیے رحمن محبت کر دے گا ۔ ‘‘ ) یہ حدیث اِس آیت کی شرح ہے ۔  ( [1] )

ربّ تعالٰی کی بندے سے ناپسندیدگی کامعنی :

عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے حوالے سے بیان فرماتے ہیں کہ’’ربّ تعالیٰ کی اپنے بندے سے ناپسندیدگی کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ اسے عذاب دینے اور اس کی بدبختی کا اِرادہ فرماتا ہے ۔ ‘‘ ( [2] ) قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتے ہیں : ’’ معنی یہ ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے عذاب دینے اور دنیا وآخرت میں اس کی تباہی بربادی کا ارادہ فرماتا ہے ۔ ‘‘ ( [3] ) عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس کے لیے حددرجہ ذلت ورُسوائی کا اِرادہ فرماتا ہے ، اُس سے نظر رحمت کو پھیرنے اور اُسے اپنی رحمت سے دُور کرنے کا اِرادہ فرماتا ہے ۔ ‘‘ ( [4] )

جبریل امین کی بندے سے ناپسندیدگی :

سیدنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام یا ملائکہ کی بندے سے ناپسندیدگی کی وضاحت کرتے ہوئے عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :  ’’ناپسندیدگی کی سیدنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام یا دیگر فرشتوں کی طرف نسبت کے دو معنی ہوسکتے ہیں :  ( 1 ) حقیقی معنیٰ یعنی قلبی ناپسندیدگی اور اندرونی نفرت ( کہ جس طرح بندے ایک دوسرے سے قلبی اور اندرونی طور پرنفرت کرتے ہیں ویسے ہی فرشتے بھی اس شخص سے نفرت کرتے ہیں ۔  ) ( 2 ) مجازی معنیٰ یعنی اس بندے کے خلاف دھتکارے جانے کی بددعا کرنا اور ناپسندیدگی کی دیگر اقسام ۔ ‘‘ ( [5] )

دنیا میں بندے کے لیے ناپسندیدگی  :

علامہ عبد الرؤف مناوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :  ’’دنیا میں بندے کے لیے ناپسندیدگی رکھنے سے مراد یہ ہے کہ ساری  دنیا والے اُس سے نفرت کرتے ہیں ، اُس کی طرف نفرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں ، لوگوں کے دلوں سے اس کی ہیبت ختم ہوجاتی ہے اور لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچائے بغیر اس کی تعظیم وتکریم دِلوں سے ختم ہوجاتی ہے ۔ ‘‘ ( [6] ) حضرت سیدنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام آسمان والوں میں اعلان کرتے ہیں کہ ’’اللہ عَزَّ  وَجَلَّ فلاں شخص کو ناپسند فرماتا ہے سو تم لوگ بھی اسے ناپسند کرو ۔ ‘‘ مُفَسِّرشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یعنی اے آسمان والو فلاں بدنصیب انسان سے اللہتعالیٰ ناراض ہے اس پر غضب کرنا چاہتا ہے تم اس سے نفرت کرو اس کے لیے بددعائیں کرو ۔  ایسے شخص سے فرشتے نفرت کرتے ہیں اسے بددعائیں دیتے ہیں اور دل والے محبت والے انسانوں کے دلوں میں قدرتی طور پر اس سے نفرت ہوجاتی ہے اگر کچھ برے لوگ اس کی طرف مائل ہوں تو اس کا اعتبار نہیں ۔ ‘‘ ( [7] )

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رضا والے کام :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  مذکورہ حدیث پاک میں ہمارے لیے بے شمار عبرت کے مدنی پھول ہیں ، بہت خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رضا اور محبوبیت نصیب ہوجاتی ہے ، رب تعالیٰ ان سے راضی ہوجاتا ہے ، رب تعالیٰ ان سے محبت فرماتا ہے ، آسمان والے یعنی ملائکہ ان سے محبت کرتے ہیں ، زمین والے بھی ان سے محبت کرتے ہیں ، یقیناً ایسے لوگ دُنیا وآخرت دونوں میں کامیاب ہوگئے ، دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت کی بھی اُنہیں سُرخُروئی نصیب ہوگئی اور بہت بدنصیب ہیں وہ لوگ جن سے ان کا ربّ تعالیٰ ناراض ہوجاتا ہے ، اُن کا خالق ومالک عَزَّ  وَجَلَّ انہیں ناپسند فرماتا ہے ، اُس کے فرشتے ناپسند کرتے ہیں ، دنیا میں اس کے لیے ناپسندیدگی رکھ دی جاتی ہے ۔  یقیناً ایسے لوگوں کی دنیا بھی تباہ ہوگئی اور آخرت بھی برباد ہوگئی ، ہمیشہ ہمیشہ کی ذِلَّت ورُسوائی اُن کا مقدر بن گئی ۔  مگرآہ !  ہمیں نہیں معلوم کہ ہم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پسندیدہ بندے ہیں یا نہیں؟ ، ہم سے ہمارا ربّ عَزَّ  وَجَلَّ راضی ہے یا نہیں؟ ہم سے آسمان والے یعنی فرشتے محبت کرتے ہیں یا نہیں؟ ہم سے دنیا والے حقیقی محبت کرتے ہیں یا نہیں؟ ہمارے لیے دنیا میں پسندیدگی رکھ دی گئی ہے یا نفرت؟ یقیناً اپنی زندگی کو شریعت کے مطابق گزارنے میں ہی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا ہے ۔  کاش !  ہم بھی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا میں اپنی زندگی کوبسر کرنے والے بن جائیں ، اپنے ہر ہر کام کو سنتوں کے مطابق گزارنے والے بن جائیں ۔

اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّ  وَجَلَّ تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اِسلامی کے مہکے مہکے مدنی ماحول میں بکثرت سنتیں سیکھی اور سکھائی جاتی ہیں ، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کا عملی طریقہ سکھایا جاتاہے ۔  آپ بھی دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو جائیے ۔ امیر اہلسنتدَامَتْ



[1]     مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۵۸۶ ۔

[2]     مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الآداب ، باب الحب فی اللہ ومن اللہ ، ۸ / ۷۳۶ ، تحت الحدیث : ۵۰۰۵ ۔

[3]     اکمال المعلم ، کتاب البروالصلۃ والآداب ، باب الارواح جنود مجندہ ، ۸ / ۵۵ ، تحت الحدیث :  ۲۶۳۷ ۔

[4]     دلیل الفالحین ، باب فی علاماتِ حب اللہ تعالٰی للعبد ، ۲ / ۲۶۴ ، تحت الحدیث : ۳۸۷ ۔

[5]     دلیل الفالحین ، باب فی علاماتِ حب اللہ  تعالٰی للعبد ، ۲ / ۲۶۴ ، تحت الحدیث : ۳۸۷ ۔

[6]     التیسیربشرح الجامع الصغیر ، حرف الھمزۃ ، ۱ / ۲۴۴ ۔

[7]     مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۵۸۵ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن