30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طور پر محبت فرماتا ہے کہ وہ اس سے بھلائی کرنے ، اسے ہدایت دینے اور اس پر انعام کرنے اور اس پر رحمت کا ارادہ فرماتا ہے ۔ “ ( [1] ) مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ظاہر یہ ہے کہ بندہ سے مراد مؤمن انسان ہے ، محبت سے مراد یا تو اس کی بھلائی کا ارادہ فرمانا ہے تو یہ محبت ربّ کی ذاتی صفت ہے یا اس بندہ پر کرم و احسان فرمانا ہے تو یہ صفت فعل ہے لہذا حدیث ظاہر ہے اس پر علم کلام کا کوئی اعتراض نہیں ۔ ‘‘ ( [2] ) عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’بندے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت کا معنی یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے بندے سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اور اسے اجروثواب عطا فرماتا ہے ۔ ‘‘ ( [3] )
جبریل امین کی بندے سے محبت کا معنٰی :
جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندے کو اپنا محبوب بنالیتا ہے تو جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام کو بلاکر اپنی محبت کا اظہار فرماتا ہے ۔ چونکہ حضرت سیدنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام تمام فرشتوں سے افضل ہیں ، نیز جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَامہی خالق و مخلوق کے درمیان سفیر ہیں اور حضرات انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ السَّلَام پر وحی لانے والے ۔ اس لیے ان سے ہی یہ فرمایا جاتا ہے ، بلانے سے مراد انہیں مطلع فرمانے کے لیے ندا فرمانا ہے ۔ ( [4] ) سیدنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام اور فرشتوں کی بندے سے محبت کا معنی بیان کرتے ہوئے عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’ملائکہ کی بندے سے محبت کا معنی یہ ہے کہ وہ ملائکہ اس بندے کے لیے استغفار کرتے ہیں ، اور اس کے لیے دنیا وآخرت کی خیر کا ارادہ کرتے ہیں ۔ ‘‘ ( [5] ) عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’حضرت سیدنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام کی بندے سے محبت کے دو احتمالات ہیں : ایک یہ کہ وہ اس بندے کے لیے استغفار کریں ، اس کی تعریف بیان کریں اور اس کے لیے دعا کریں ۔ دوسرا یہ کہ محبت کے وہی ظاہری معنیٰ مراد لیے جائیں جو دیگر مخلوق کی محبت کے لیے جاتے ہیں یعنی دل کا محبوب کی جانب مائل ہونا اور اس سے ملنے کا اشتیاق ہونا ۔ سیدنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَامکی اس بندے سے محبت کا سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ بندہ اپنے ربّ تعالیٰ کا مطیع وفرمانبردار اور محبوب ہوتا ہے ۔ ‘‘ ( [6] )
عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’محبت کی تین قسمیں ہیں : ( 1 ) محبت الٰہی ( 2 ) محبت روحانی ( 3 ) اور محبت طبیعی ۔ مذکورہ حدیث پاک میں تینوں اَقسام کا بیان ہے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اپنے بندے سے محبت ، محبت الٰہی ہے ۔ سیدنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام اور ملائکہ کی بندے سے محبت ، محبت روحانی ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندوں کی اُس محبوب بندے سے محبت محبت طبیعی ہے ۔ ‘‘ ( [7] )
زمین میں بندے کی مقبولت کی وضاحت کرتے ہوئے عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’ مراد یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندوں کے دل اُسے قبول کرلیتے ہیں ، اُس سے محبت کرتے ہیں ، اُس کی طرف مائل ہوجاتے ہیں اور اُس سے راضی ہوجاتے ہیں ۔ اِس سے یہ بھی سمجھ میں آیا کہ کسی بندے سے لوگوں کا محبت کرنا یہ اِس بات کی علامت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ بھی اُس سے محبت فرماتا ہے کیونکہ جسے مسلمان اچھا سمجھیں وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں بھی اچھا ہی ہوتا ہے ۔ ‘‘ ( [8] ) عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ مراد یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس بندے کی لوگوں کے دلوں میں محبت ، اس کے لیے بھلائی اور اس کی رضا ڈال دیتا ہے اور لوگ اس کی غیرموجودگی میں اس کے ذکر کو اچھا سمجھتے ہیں جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اپنے نیک بندوں اور بڑے بڑے ائمہ حضرات کے حق میں عادت جاری ہے کہ لوگ اُن کی غیر موجودگی میں اُن کے ذکرِ خیر کو اچھا سمجھتے ہیں ۔ ‘‘ ( [9] ) عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’مطلب یہ ہے کہ بندگانِ خدا اُس کے لیے بھلائی کاعقیدہ رکھتے ہیں اور جہاں تک ممکن ہو اس سے شر کو دور کرنے کا ارادہ کرتے ہیں ۔ ‘‘ ( [10] )
مُفَسِّرشہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’زمین سے مراد زمینی باشندے انسان ہیں یا جن و اِنس دونوں مگر وہ جن و اِنس جو اہل محبت سے ہوں ۔ جو بہ شکل اِنسان جانور ہیں وہ محبت نہ کریں تو نہ کریں ۔ چنانچہ حضراتِ انبیاء اولیاء ، حضرات صحابہ و اہل بیت کے بہت لوگ دشمن ہیں ، یہ لوگ اہل محبت اور دل والے نہیں ، لباس آدمی میں شیر بھیڑیئے ہیں ۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے دِل اُس بندے کی طرف کھنچنے لگتے ہیں وہ دِلوں کا مقناطیس بن جاتا ہے ، رب تعالیٰ فرماتاہے : ( اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا
[1] دلیل الفالحین ، باب فی علاماتِ حب اللہ تعالٰی للعبد ، ۲ / ۲۶۲ ، تحت الحدیث : ۳۸۷ ۔
[2] مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۵۸۵ ۔
[3] فتح الباری ، کتاب الادب ، باب المقۃ من اللہ تعالٰی ، ۱۱ / ۳۹۲ ، تحت الحدیث : ۶۰۴۰ ۔
[4] مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۵۸۵ ۔
[5] عمدۃ القاری ، کتاب البر والصلۃ ، باب المقۃ من اللہ تعالٰی ، ۱۵ / ۱۹۷ ، تحت الحدیث : ۶۰۴۰ ۔
[6] دلیل الفالحین ، باب فی علاماتِ حب اللہ تعالٰی للعبد ، ۲ / ۲۶۳ ، تحت الحدیث : ۳۸۷ ۔
[7] فتح الباری ، باب المقۃ من اللہ ، ۱۰ / ۴۶۲ ، تحت الحدیث : ۵۶۹۳ ۔
[8] عمدۃ القاری ، کتاب البر والصلۃ ، باب المقۃ من اللہ تعالٰی ، ۱۵ / ۱۹۷ ، تحت الحدیث : ۶۰۴۰ ۔
$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع