دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

نوافل فرع  ۔ حتی کہ حدیث میں فرمایا گیا کہ جو ( شخص ) فرائض ترک کئے ( ہوئے ) ہواور نوافل ادا کرے تو اس کے سارے نوافل زمین وآسمان کے درمیان معلق رہیں گے مقبول نہ ہوں گے  ۔ اسی لئے علماء نے فرمایا  : جس کے فرائض قضا ہوگئے ہوں وہ بجائے نوافل کے فرائض کی قضاکرے ۔ ‘‘ ( [1] )

نوافل کب قربِ  الٰہی کا سبب ہیں؟

حدیثِ مذکور  سے  یہ بات واضح ہوتی ہے کہ  نوافل  کے ذریعے بندہ اپنے رب کا مُقَرَّب  ومحبوب بن جاتا ہے ۔ تو یہاں مطلقاً نوافل مراد نہیں بلکہ وہ  نوافل مرادہیں  جو فرائض کی ادائیگی کے بعد اضافی طور پر ادا کئے جائیں  ۔ فرائض  کی ادائیگی کے بغیرمحض نوافل  کی وجہ سے  نہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کا قرب مل سکتا ہے نہ وِلایت  ۔

 فقیہ اعظم حضرت علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِینوافل کے ذریعے قرب حاصل کرنے کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’اس سے مراد یہ ہے کہ فرائض کی کَمَا حَقُّہُ ادائیگی کے بعد نوافل کی ادائیگی کرتا ہے ۔ یہ مطلب نہیں کہ فرائض چھوڑے اور نوافل ادا کرے پھر بھی محبوب ہو ۔  اس لئے کہ جو فرائض چھوڑے گا فاسق ہوگا وہ محبوب کیسے ہوگا؟ نوافل چونکہ بندہ اپنی طرف سے بخوشی ادا کرتا ہے اس لئے نوافل ادا کرنے والا محبت کا مستحق ہوا ۔  اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک شخص خدمت پر نوکر ہے جس کی تنخواہ لیتا ہے اورمتعلقہ خدمت کے سوا کچھ انجام نہیں دیتا وہ مشاہرے کا ضرورمستحق ہے اور وہ  ایک اچھا نوکر بھی کہلائے گا مگر دوسرا نوکرمتعلقہ خدمات کے علاوہ مزید اپنی خوشی سے دوسری خدمات بھی انجام دیتا ہے یقیناً مالک  اس دوسرے نوکر سے پہلے کی بہ نسبت زیادہ محبت کرے گا ۔ ‘‘ ( [2] )

فرائض وواجبات مع نوافل کی ادائیگی :

عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’صرف فرائض وواجبات ادا کرنے والوں اور فرائض وواجبات کے ساتھ نوافل بھی ادا کرنے والوں کی مثال اُن دو  غلاموں کی طرح ہے کہ جنہیں اُن کا  مالک   پھل لانے کا حکم دے  تو اُن میں سے ایک  پھلوں کو ٹوکری میں رکھ  کر پھولوں اور خوشبو وغیرہ  سے سجا کر بڑے سلیقے سے اپنے مالک کی خدمت میں پیش کرے ۔ جبکہ دوسرا جھولی میں پھل  لائے  اور  اپنے مالک کے سامنے  زمین پر  ڈال  دے ۔ تو  اِن  دونوں  ہی  غلاموں نے اپنے آقا کے حکم  کی تعمیل کی  لیکن اہتمام سے حکم کی تعمیل کرنے والادوسرے کے مقابلے میں  مالک  کو زیادہ محبوب ہوگا ۔  اسی طرح جو بندہ فرائض کے ساتھ نوافل بھی ادا کرتا رہے  تو اللہ عَزَّوَجَلَّ  اس  سے محبت فرماتا  ہے ۔ ‘‘ ( [3] )

محبوب الٰہی بننے کا انعام :

       عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے بندے سے محبت فرماتا ہے  تو اسے اپنے ذکر اور فرمانبرداری میں مشغول کرکے شیطان کے شر سے محفوظ فرمادیتا ہے ، اس کے سب اعضاء کو نیکیوں میں  لگا دیتا ہے ۔  قرآن پاک کی سماعت اور  ذکرِ الٰہی  کو اس کا   محبوب ترین مشغلہ بنا دیتا ہے ۔  گانے باجے  اور دیگر لغویات   کو اس کے نزدیک  بہت نا پسندیدہ کر دیتا ہے پھروہ جاہلوں سے اعراض اور فحش کلامی سے اجتناب کرتا ہے ، اپنی  نظروں کو حرام  اشیاء سے بچاتا ہے ، پس اس کا دیکھنا غور وفکر و عبرت پر مبنی ہوتا ہے ، وہ مخلوق کودیکھ کر خالق کی قدرت پر دلیل پکڑتا ہے ۔ ‘‘ اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرت سیدنا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں :  ’’میں کسی بھی چیز کو دیکھنے سے پہلے اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں ۔ ‘‘ مخلوق کو دیکھ کر خالق کی قدرت کی طرف متوجہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ مخلوق کو دیکھ کر ان کے خالق کی تسبیح و تقدیس بیان کرے اور  اس کی عظمت کا اقرار کرے ، اپنے ہاتھ ، پاؤں صرف اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حکم کے مطابق استعمال کرے ، کسی فضول کام کی طرف نہ چلے ، اپنے ہاتھوں سے کوئی بے کار کام نہ کرے ، اس کی حرکات وسکنات اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لئے ہوں ، جب  بندے کی یہ حالت ہو جائے تو اسے اس کی  تمام حرکات  وسکنا ت اور افعال پر  ثواب دیا جاتا ہے ۔ ‘‘ ( [4] )

کان ، آنکھ ،  ہاتھ اور پاؤں ہونے کے معانی :

حدیث  پاک میں فرمایا گیا ’’میں اس کا کان ہوجاتا ہوں جس  سے وہ سنتا ہے ۔ ۔ ۔  ۔ الخ  ‘‘  علمائے کرام اور شارحین نے اس کے کئی معنی بیان فرمائے ہیں ۔ شارح حدیث علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے اس کے دو معنی بیان فرمائے ہیں :  ( 1 ) پہلا معنی یہ ہے کہ میں اس کے کان  آنکھ اورہاتھ اور پاؤں کو شیطان کے شر سے محفوظ رکھتا ہوں ۔ ( 2 ) دوسرے معنی یہ ہیں کہ جب وہ  اپنے ہاتھ ، کان یا پاؤں سے  کوئی عمل کرتا ہے تو میری یاد اس کے دل  میں بسی ہوتی ہے جب وہ میری طرف متوجہ ہوتا ہے تو غیر کے لیے کوئی کام نہیں کرتا  اس کے  سب کام میری رضا کے لیے  ہوتے  ہیں ۔  ( [5] ) عمدۃ القاری میں ہے : ’’یہ حدیث اپنے مجازی معنیٰ پر محمول ہے  اور اس سے مراد یہ  ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے نیک بندے کی  اِس طرح حفاظت فرماتا ہے جیسے بندہ اپنے اعضاء کی خودحفاظت  کر تااورانہیں ہلاکت سے بچاتا ہے ۔   ‘‘  امام خطابی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں : اِس حدیث میں سمجھانے کے لیے اس طرح  مثال دی گئی ہے اور معنیٰ یہ ہیں کہ  اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے نیک بندے کو اِن چار اعضاء ( یعنی ہاتھ  زبان کان اور پاؤں ) سے ہونے والے نیک اُمور کی پہچان کرا  دیتا ہے پھر اُن نیک اَعمال کی محبت  اُس کے دل میں ڈال کر  انہیں اس  پرآسان کر دیتا ہے اوران  اعضاءکو اپنی ناراضی  والے کاموں   مثلاً بُری باتیں سننا ، ممنوع اشیاء کی طرف نظر کرنا ، حرام اشیاء کو پکڑنا ، ناجائز اُمور کی طرف چلنا وغیرہ سے محفوظ کر



[1]      نزہۃ القاری ، ۵ / ۶۶۹ ۔

[2]      نزہۃ القاری ، ۵ / ۶۶۹ ۔

[3]     الاربعین النوویۃ ، الحدیث الثامن والثلاثون ، ص۱۲۹ ۔

[4]     الاربعین النوویۃ ، الحدیث الثامن والثلاثون ، ص۱۲۹ ۔

[5]     الاربعین النوویۃ ، الحدیث الثامن والثلاثون ، ص۱۳۰ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن