30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جانے والوں کے ساتھ جنت میں نہیں جائے گا ۔ ‘‘ ( [1] ) عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے بھی اس حدیث کے یہی 2 معنی بیان فرمائے ہیں کہ ’’یا تو وہ بغیر کسی سبب اور شبہہ کے قطع رحمی کے حرام ہونے کو جانتے ہوئے بھی قطع رحمی کو حلال سمجھے تو وہ کافر ہے ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور کبھی بھی جنت میں داخل نہیں ہوگا یا پھر اس کا معنی یہ ہے کہ وہ سابقین یعنی جنت میں پہلے جانے والوں کے ساتھ نہیں جائے گا بلکہ اللہتعالیٰ نے جتنی تاخیر اس کے لیے مقدر فرمائی ہے اس تاخیر کے بعد جنت میں جائے گا ۔ ‘‘ ( [2] ) علامہ طیبی نے شرح طیبی میں اور علامہ ملا علی قاری نے مرقات میں علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی ہی کا کلام ذکر کیا ہے ۔
مدنی گلدستہ
’’جنتی ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1) قطع رحمی کی اسلام میں شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہے ۔
(2) قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا ۔
(3) قطعی رحمی کرنے والے کا خاتمہ اگر ایمان پر بھی ہوا تو وہ جنت میں پہلے جانے والوں کے ساتھ جنت میں نہیں جائے گا ۔
(4) جب تک شریعت منع نہ کرے تب تک رشتہ داروں کے ساتھ ہمیشہ صلہ رحمی ہی کرنی چاہیے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ قطع رحمی کرنے سے محفوظ فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 340 چند حرام و ناپسندیدہ اُمُور
عَنْ اَبِیْ عِیْسٰی اَلْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَالَ : ” اِنَّ اللہَ تَعَالٰی حَرَّمَ عَلَیْکُمْ عُقُوْقَ الْاُمَّھَاتِ وَ مَنْعًا وَھَاتِ وَ وَاْدَ الْبَنَاتِ وَکَرِہَ لَکُمْ قِیْلَ وَ قَالَ وَکَثْرَۃَ السُّوَالِ وَ اِضَاعَۃَ الْمَالِ.“ ( [3] ) وَفِی الْبَابِ اَحَادِیْثٌ سَبَقَتْ فِی الْبَابِ قَبْلَہُ کَحَدِیْثِ ” وَاَقْطَعُ مَنْ قَطَعَکِ“ وَ حَدِیْثِ ” مَنْ قَطَعَنِیْ قَطَعَہُ اللہُ. ‘‘
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو عیسیٰ مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تم پر ماؤں کی نافرمانی ، حق کی عدم ادائیگی ، ناحق طلب کرنا اور بچیوں کو زندہ دفن کرنا حرام کردیا ہے اور ہر سنی سنائی بات کردینے ، کثرت سے سوال کرنے اور مال ضائع کرنے کو تمہارے لیے مکروہ قرار دیا ہے ۔ “
اس باب کی بہت سی احادیث اس سے پہلے باب میں گزر چکی ہیں جیسے یہ حدیث ” اے رحم جو تجھے قطع کرے گا میں اسے قطع کروں گا“ اور یہ حدیث ” جس نے مجھے قطع کیا اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے قطع کرے گا ۔ “
( 1 ) ’’ماں ‘‘ کی نافرمانی کی تخصیص کی وجہ :
جس طرح ماں کی نافرمانی حرام ہے اسی طرح باپ کی نافرمانی بھی حرام ہے ، لیکن حدیث پاک میں فقط ماؤں کی نافرمانی کا ذکر فرمایا گیا ۔ علامہ بدرالدین عینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِینے اس کی چند وجوہات بیان فرمائی ہیں : ( 1 ) ایک وجہ یہ ہے کہ عورت کمزور ہوتی ہے اور باپ کے مقابلے میں اس کی نافرمانی زیادہ کی جاتی ہے اس لیے ماں کی نافرمانی کا ذکر فرمایا ۔ ( 2 ) دوسری وجہ یہ ہے کہ اس بات پر تنبیہ کرنے کے لیے ماں کا ذکر کیا کہ ماں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا باپ کے ساتھ اچھے برتاؤ پر مقدم ہے ۔ ( 3 ) ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایک کا ذکرکرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ دوسرے کا معاملہ بھی اسی کی طرح ہے ۔ ( [4] )
عَلَّامَہ عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : ’’والد کی نافرمانی بھی اگرچہ بہت بڑی ہے مگر ماں کی نافرمانی کی تخصیص اس لیے فرمائی کہ ماں کی نافرمانی زیادہ بُری ہے اور یہ زیادہ واقع ہوتی ہے ۔ ‘‘ ( [5] )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! آج کل والدین کی نافرمانی خصوصًاماں کی نافرمانی عام ہوتی چلی جارہی ہے ، بیٹا گھر میں دیر سے آیااور ماں نے فقط یہ پوچھ لیا کہ بیٹا آج تمہیں گھر آنے میں دیر ہوگئی تو بیٹا اپنی ماں پر ایسے برسنے لگتا ہے جیسے ماں نے اسے کوئی گالی دے دی ہو ، اگر کوئی نصیحت کی بات کردے تو بیٹا نہ جانے کیا کیا توہین آمیز جملے ماں کی مقدس ذات پر کسنے لگتا ہے ۔ بعض بدنصیب اور بے حیا لوگ تو اپنی ماں کو گالیاں بکنے کے ساتھ ساتھ ان پر ہاتھ اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتے ، انہیں ذرہ بھر اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ یہ وہی ماں ہے
[1] عمدۃ القاری ، کتاب الادب ، باب اثم القاطع ، ۱۵ / ۱۵۳ ، تحت الحدیث : ۵۹۸۴ملخصا ۔
[2] شرح مسلم للنووی ، کتاب البر والصلۃ و الآداب ، باب صلۃ الرحم و تحریم قطعیتھا ، ۸ / ۱۱۳ ، الجزء السادس عشر ۔
[3] بخاری ، کتاب الادب ، باب عقوق الوالدین من الکبائر ، ۴ / ۹۵ ، حدیث : ۵۹۷۵ ۔
[4] عمدۃ القاری ، کتاب فی الاستقراض ۔ ۔ ۔ الخ ، باب ما ینھی عن اضاعۃ المال ، ۹ / ۱۳۱ ، تحت الحدیث : ۲۴۰۸ ۔
[5] التیسیربشرح الجامع الصغیر ، حرف الھمزۃ ، ۱ / ۲۵۱ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع