30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِىْ لَاُعِيْذَنَّهُ . ( [1] )
ترجمہ : حضرت ِسَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور نبی رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے : ’’جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی تو میرا اس کے خلاف اِعلانِ جنگ ہے ۔ میرا بندہ جن چیزوں کے ذریعے میرا قُرب حاصل کرتا ہے ان میں فرائض مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قُرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہوں اور میں اس کا کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اوراس کا پاؤں ہوجاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے ضرورعطا کروں گااور اگر وہ مجھ سے پناہ چاہے تو میں اسے ضرور پناہ دوں گا ۔ ‘‘ ( [2] )
ولی کی کئی تعریفات بیان کی گئی ہیں ۔ علامہ سَعْدُ الدین تَفْتَازَانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ولی وہ ہے جوممکنہ حد تک اللہ عَزَّ وَجَلَّ اوراس کی صفات کا عارف ہو ، ہمیشہ اُس کی عبادت کرتا ہواور ہرقسم کے گناہوں اور ( مباح اشیاء ) کی لذات اورشہوات میں مشغولیت سے بچتا ہو ۔ ‘‘ ( [3] )
فقیہ اعظم ہند حضرت علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ولی وہ مؤمن عَارِف بِاللہ ہے جو طاعات کو پوری پابندی کے ساتھ ادا کرتا رہے اور محرمات سے بچتا رہے وہ بھی اللہ کی رضا کے لیے نہ کہ عزت وشہرت حاصل کرنے کے لیے اور دکھاوے کے لیے ، اس لیے جو شریعت کا پابند نہیں وہ ولی نہیں ہوسکتا اگرچہ ہوا میں اڑے ۔ جوگی جے پال حالت کفر میں قادر تھے کہ اپنے حریف پر پتھر برسائیں ، آگ برسائیں ، خود ہوا میں اڑیں ، کیا اس وقت وہ ولی تھے ؟ ( ہرگز نہیں ، اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ) ارشاد ہے : (اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ) ( پ۹ ، الانفال : ۳۴ ) اللہ کے ولی وہ لوگ ہیں جو متقی ہیں ۔ ‘‘ ( [4] )
مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ولیُّ ﷲ وہ بندہ ہے جس کا ﷲتعالیٰ والی وارث ہوگیا کہ اسے ایک آن کے لیے بھی اس کے نفس کے حوالے نہیں کرتا بلکہ خود اس سے نیک کام لیتا ہے ۔ نیز حدیث پاک میں بیان ہوا کہ جو میرے ایک ولی کا دشمن ہے وہ مجھ سے جنگ کرنے کو تیار ہوجائے ، خدا کی پناہ ۔ یہ کلمہ انتہائی غضب کا ہے صرف دو گناہوں پر بندے کو ربّ تعالیٰ کی طرف سے اِعلانِ جنگ دیاگیا ہے ایک سود خوار دوسرے دشمن اولیاء ۔ ‘‘ ( [5] )
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ولی ہونے کی وجہ سے عداوت :
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیر حَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’وَلِیُ اللہسے اس لئے عداوت وعِناد ( دشمنی وبغض رکھنا ) کہ وہ وَلِیُ اللہہے یہ تو کفر ہے ۔ اسی کا یہاں ( حدیث پاک میں ) ذکر ہے اور ایک ہے کسی ولی سے اختلافِ رائے یہ نہ کفر ہے اور نہ ہی فسق ۔ ‘‘ ( [6] ) شارِحِ بخاری حضرت علامہ غلام رسول رَضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’یعنی جو کوئی ولی سے عداوت ( دُشمنی ) اس لئے کرتا ہے کہ وہ میرا ولی ہے تو میں اس سے جنگ کرتا ہوں اور اس کو ہلاک کرتا ہوں اور اس پر ایسے لوگ مسلط کرتا ہوں جو اس کو اذیت پہنچاتے رہیں ۔ اُس شخص کی یہ رُسوائی دنیا میں ہے آخرت کی خرابی اس کے علاوہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ایسی ذلت و رُسوائی سے پناہ دے ۔ ‘‘ ( [7] )
دو لوگوں سے رب تعالیٰ کا اعلان جنگ :
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیائمہ کرامرَحِمَھُمُ اللّٰہُ السَّلَام کے حوالے سے بیان فرماتے ہیں : ’’دو قسم کے گناہ گاروں سے رب عَزَّوَجَلَّنے اِعلانِ جنگ کیا ہے : ( 1 ) سُود خور ( 2 ) اَولیاء کا دشمن ۔ یہ دونوں ( یعنی سود خوری اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ولیوں سے دشمنی ) بہت بڑے گناہ ہیں کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا بندے سے جنگ کرنا بندے کے بُرے خاتمے پر دلالت کرتاہے اورجس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اِعلان جنگ کر دے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ ‘‘ ( [8] )
فرائض کی ادائیگی نوافل سے افضل ہے :
فقیہ اعظم حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی حدیث پاک کی شرح کے تحت فرماتے ہیں : ’’فرائض کی پابندی اور ادائیگی بہ نسبت نوافل کے افضل ہے اور یہ بالکل ظاہر ہے کہ فرائض ادا کرنے میں ثواب کی امید ہے اور ترک میں عذاب کا استحقاق اور نوافل کی ادائیگی میں ثواب کی امید اور ترک پر کوئی گناہ نہیں ۔ نیز فرائض ماموربِہِ ہیں ( یعنی ان کے کرنے کا حکم دیا گیاہے ) ان کا کرنے والا تابع فرمان ہے ۔ اس میں آمر ( یعنی حکم دینے والے ) کی عظمت ظاہر ہے ، اس میں عبودیت کا تذلل بھی ہے ۔ نیز فرائض اصل ہیں اور
[1] بخاری ، کتاب الرقاق ، باب التواضع ، ۴ / ۲۴۸ ، حدیث : ۶۵۰۲ ۔
[2] بخاری ، کتاب الرقاق ، باب التواضع ، ۴ / ۲۴۸ ، حدیث : ۶۵۰۲ ۔
[3] شرح العقائد ، کرامات الاولیاء حق ، ص۳۱۳ ۔
[4] نزہۃ القاری ، ۵ / ۶۶۹ ۔
[5] مرآۃ المناجیح ، ۳ / ۳۰۸ ملتقطاً ۔
[6] مرآۃ المناجیح ، ٣ / ٣٠٨ ۔
[7] تفہیم البخاری ، ۹ / ٧٩٦ ۔
[8] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الدعوات ، باب ذکر اللہ ، ۵ / ۴۱ ، تحت الحدیث : ۲۲۶۶ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع