30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرائض اور واجبات میں اتباع ناقص ہے ۔ ان چاروں اعمال شریف کی اتباع کامل اتباع ہے ۔ جس قدر اتباع کامل ہوگی اسی قدر رب کی محبوبیت اعلیٰ ۔ ‘‘ ( [1] )
رب تعالی کی اپنے بندوں سے محبت کا معنٰی :
اِمَام فَخْرُ الدِّیْن رَازِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی فرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندے سے محبت اس طور پر ہے کہ وہ اپنے بندے کو ثواب عطا فرماتا ہے اور اس کے گناہ معاف فرماکر اسے عذاب سے دور کردیتا ہے اور ہر ذی شعور انسان کا مطلوب بھی تو یہ ہی ہے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت حاصل کرکے خود کو عذاب سے محفوظ رکھے ۔ ‘‘ ( [2] )
( 2 ) رب تعالیٰ کے پیاروں کی صفات
اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتاہے :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤۙ-اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ٘-یُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآىٕمٍؕ-ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(۵۴) ( پ۶ ، المائدہ : ۵۴ )
ترجمۂ کنزالایمان : اے ایمان والو تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے گا تو عنقریب اللہ ایسے لوگ لائے گا کہ وہ اللہ کے پیارے اور اللہ ان کا پیارا مسلمانوں پر نرم اور کافروں پر سخت اللہ کی راہ میں لڑیں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اندیشہ نہ کریں گے یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے ۔
مذکورہ آیت مبارکہ میں کچھ لوگوں کے مرتد ہونے سے قبل ان کے مرتد ہونے کی خبر دی گئی ہے ۔ حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال کے بعد کچھ لوگ زکوٰۃ دینے سے انکار کرکے مرتد ہوگئے ۔ چنانچہ حضرت سیدنا قتاده رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یہ آیت نازل فرمائی ، بیشک اس کے علم میں یہ بات موجود تھی کہ کچھ لوگ مرتدہوں گے ۔ جب رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ظاہری پردہ فرماگئے تو اہل مکہ ، اہل مدینہ اور اہل بحرین کے علاوہ عام عرب کے لوگوں کی ایک تعداد مرتد ہوگئی ۔ اور وہ کہنے لگے کہ : ’’ہم نماز ادا کریں گے لیکن زکوۃ نہیں دیں گے ، اللہکی قسم تم ( یعنی سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) ہمارا مال غصب نہیں کرسکتے ۔ ‘‘ ( نَعُوْذُ بِاللّٰہ ) حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے عرض کی گئی کہ آپ ان لوگوں سے فی الحال درگزر کریں جب یہ سمجھ جائیں گے تو زکوٰۃ لے آئیں گے لیکن آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ارشاد فرمایا : ’’بھلا جن چیزوں ( نماز اور زکوٰۃ ) کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اکھٹا کیا ہے میں ان میں تفریق نہیں کروں گا ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم ! اگر انہوں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور ا س کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی فرض کی ہوئی زکوٰۃ کی ایک رسی بھی ادانہ کی تو ہم ان سے قتال کریں گے ۔ ‘‘ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی ایک جماعت کے ذریعے مدد فرمائی ۔ انہوں نے ان مرتدین کے خلاف جہاد کیا یہاں تک کہ یہ مرتدین ومنکر ین زکوٰۃ کا اقرار کرنے والے ہوگئے ۔ ‘‘ ( [3] )
خلفائے راشدین کی امامت کا ثبوت :
اس آیت مبارکہ میں اعجاز قران اور رسول کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا معجزہ بیان ہوا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے لوگوں کے ارتداد سے پہلے ہی اُن کے مرتد ہونے کی خبر دے دی تھی یہ معاملہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے عہد میں وقوع پذیر نہ ہوا اور یہ غیب کی خبر تھی اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال اور ایک مدت کے بعد ویسا ہوا ہی ہوا جیسا آپ نے فرمایا تھا کہ عرب کے بہت سے لوگ مرتد ہوگئے ۔ حضرت سیدنا حسن وقتادہ عَلَیْہِمَا الرَّحْمَہفرماتے ہیں کہ یہ آیت مبارکہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور ان کے اصحاب کے بارے میں نازل ہوئی ۔ اس آیت میں مرتدین کے خلاف جہاد کرنے والوں کی یہ صفات بیان ہوئی ہیں : وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے ہیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کا محبوب ہوگا ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں جہاد کریں گے ، مسلمانوں پر نرم اور کافروں پر سخت ہوں گے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے نیز یہ آیت مبارکہ چاروں خلفائے راشدین یعنی حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر صدیق ، حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق ، حضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی اور حضرتِ سَیِّدُنا علی المرتضیٰ شیر خدا رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی امامت کے اثبات پر بھی دلالات کرتی ہے کیونکہ انہوں نے حضور تاجدارِ رِسالت شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ظاہری حیات میں جہاد کیا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پردہ فرمانے کے بعد مرتدین کی سرکوبی کی اور جس میں یہ صفات موجود ہوں وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا دوست ہے ۔ ‘‘ ( [4] )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 386 محبوبِ الٰہی بننے کا بہترین نسخہ
عَنْ اَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم : اِنَّ اللَّهَ قَالَ مَنْ عَادَى لِيْ وَلِيًّا فَقَدْآذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ وَمَا تَقَرَّبَ اِلَىَّ عَبْدِى بِشَىْءٍ اَحَبَّ اِلَىَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ وَمَا يَزَالُ عَبْدِىْ يَتَقَرَّبُ اِلَىَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰى أُحِبَّهُ فَاِذَا اَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِى يَسْمَعُ بِهِ وَبَصَرَهُ الَّذِى يُبْصِرُ بِهِ وَيَدَهُ الَّتِى يَبْطِشُ بِهَا وَرِجْلَهُ الَّتِى يَمْشِىْ بِهَا وَ اِنْ سَاَلَنِى لَاُعْطِيَنَّهُ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع