30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1) جو شخص اپنے مسلمان بھائی سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے محبت کرے تو اسے چاہیے کہ وہ جس سے محبت کرتا ہے اسے بتادے کہ اس سے ان دونوں کے درمیان مزید الفت ومحبت پیدا ہوگی ۔
(2) جس سے اس کا مسلمان بھائی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے محبت کا اظہار کرے تو اسے بھی چاہیے کہ وہ اس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے محبت کرے اور محبت کرے تو اس کا اظہار بھی کردے ۔
(3) اگر کوئی شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے محبت کا اظہار کرے تو اس کے لیے دعا کرنی چاہیے کہ یہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے ثابت ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سیرت طیبہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
با ب نمبر47 : رب تعالٰی کی بندے سے محبت کی علامات کا بیان
رب تعالیٰ کی بندے سے محبت کی علامات ، انہیں پیدا کرنے پر ابھار نے اور ان کے حصول کے لیے کوشش کرنے کا بیان
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مخلوق کی آپس میں ایک دوسرے سے محبت عام ہے ، ہر شخص کسی نہ کسی سے محبت وانس رکھتا ہے ، وہ جس سے محبت کرتا ہے ، اس کا ذکر کرتا رہتاہے ، اس کے مختلف اوصاف بیان کرتا رہتا ہے ، اس سے منسوب چیزوں سے محبت کرتا ہے ، اس کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلنے کی کوشش کرتا ہے ، ہر وہ کام کرنے کی کوشش کرتا ہے جس میں اس کے محبوب کی رضا ہو ۔ مخلوق کی آپس میں محبت اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے ہوتو یہ سچی محبت ہے اور اس پر اجرعظیم کی نوید ہے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مخلوق میں ایسے بھی بندے ہیں جو مخلوق سے نہیں بلکہ اپنے خالق عَزَّ وَجَلَّسے محبت کرتے ہیں ، ہروقت اُس کی یاد میں مگن رہتے ہیں ، ذِکراِلٰہی سے اُن کے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے ، جب تک ذکرُاللہ نہ کرلیں اُن کے دلوں کو چین نہیں آتا ، اُن کا جینا مرنا فقط اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت میں ہوتا ہے ، رب تعالیٰ جن سے محبت فرماتا ہے وہ بھی اُس سے محبت کرتے ہیں ، رب تعالیٰ جن سے محبت کرنے کا حکم دیتا ہے وہ اُن سے بھی محبت کرتے ہیں کیونکہ اُن سے محبت کرنا دراصل ربّ تعالیٰ سے ہی محبت کرنا ہے ۔ مگر ! بعض خوش نصیب لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ خود محبت فرماتا ہے ، یقیناً ایسے لوگ خوش نصیبی کی معراج کو پہنچے ہوتے ہیں ، ایسے خوش قسمت لوگوں کو نہ تو دنیا کی فکرہوتی ہے اور نہ ہی آخرت کی فکر کیونکہ دنیا وآخرت کا خالق ومالک اُن سے محبت فرماتا ہے ۔ یقیناً ہرمسلمان کی یہ خواہش ہوگی کہ وہ اپنے ربّ تعالی کا محبوب بندہ بن جائے ۔ ربّ تعالیٰ کی اپنے بندے سے محبت کی کیا علامات ہیں؟ اِن علامات کو اپنے اندر کیسے پیدا کیا جائے ؟ ان علامات کے حصول کے لیے کیا کوششیں کی جائیں؟ ریاض الصالحین کا یہ باب انہی تمام اُمور کے بارے میں ہے ۔ اس باب میں امام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے 2آیات اور3 احادیث مبارکہ بیان فرمائی ہیں ۔ پہلے آیات اور ان کی تفسیر ملاحظہ کیجئے ۔
( 1 ) اللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت حضور کی فرمانبرداری میں ہے
اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتاہے :
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱) ( پ۳ ، آل عمران : ۳۱ )
ترجمۂ کنزالایمان : اے محبوب تم فرمادو کہ لوگواگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔
شانِ نزول : ’’حضرت ابنِ عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قریش کے پاس ٹھہرے جنہوں نے خانہ کعبہ میں بت نصب کیے تھے اور انہیں سجا سجا کر ان کو سجدہ کررہے تھے ۔ حضور نے فرمایا : اے گروہِ قریش خدا کی قسم ! تم اپنے آباء حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل عَلَیْہِمَا السَّلَام کے دِین کے خلاف ہوگئے ۔ قریش نے کہا : ہم ان بتوں کو اللّٰہ کی محبت میں پوجتے ہیں تاکہ یہ ہمیں اللّٰہ سے قریب کریں ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ محبّتِ الٰہی کا دعویٰ سیّد عالم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اتباع و فرمانبرداری کے بغیر قابلِ قبول نہیں جو اس دعوے کا ثبوت دینا چاہے حضور کی غلامی کرے اور حضور نے بت پرستی سے منع فرمایا تو بت پرستی کرنے والا حضور کا نافرمان اور محبّتِ الٰہی کے دعوے میں جھوٹا ہے ۔ اِس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ کی محبّت کا دعویٰ جب ہی سچّا ہوسکتا ہے جب آدمی سیّد عالم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مُتَّبع ہو اور حضور کی اِطاعت اختیار کرے ۔ ‘‘ ( [1] )
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’اِطاعت کے معنیٰ ہیں فرمان پر عمل ۔ اِتباع کے معنی ہیں کسی کی اداؤں کی نقل کہ جو کچھ اسے کرتے دیکھا خود کرنے لگے وجہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے ۔ اِتباع ناقص بھی ہوتی ہے کامل بھی ۔ حضور عَلَیْہِ السَّلَام نے چار قسم کے کام کیے : فرائض ، واجبات ، مستحبات ، عادات ۔ ان عادات کو سنن زوائد کہتے ہیں ۔ صرف
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع