30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دونوں کے درمیان مزید محبت اور محبت میں پختگی کا سبب بنے گی ۔
مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ جب حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے رضائے الٰہی کے لیے محبت کرنے والے صحابی کو یہ حکم دیا کہ جاؤ اور اپنے بھائی کو اپنی محبت کے بارے میں بتادو تووہ صحابی فی الفور گئے اور سرکاردوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم پر عمل کرتے ہوئے انہیں اپنی محبت کی اطلاع دے دی ۔ معلوم ہوا کہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان حضور نبی اکرم نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اتباع کے لیے ہردم مستعد رہا کرتے تھے ، ادھر حکم جاری ہوا اور ادھر اتباع ہوئی ۔ کاش ہم بھی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سیرتِ طیبہ پر عمل کرنے والے بن جائیں ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے احکامات پر کما حقہ عمل کرنے والے بن جائیں ، اپنی زندگی کو گناہوں میں گزارنے کی بجائے نیکیوں میں بسر کرنے والے بن جائیں ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
حضور نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس صحابی کو حکم دیا کہ جا کر اس سے اپنی محبت کے بارے میں بتادو ۔ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ حکم دینا یا تو ندب یعنی استحباب کے طور پر تھا یعنی تمہارے لیے بہتر یہ ہے کہ تم جاکر اسے اپنی محبت کے بارے میں بتادو یا یہ حکم خاص ان صحابی رسول کے حق میں واجب تھا ۔ ‘‘ ( [1] )
حضور نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے محبت کا اظہار کرنے والے صحابی کو اپنے بھائی کو بتادینے کا حکم اس لیے ارشاد فرمایا تاکہ دونوں کے درمیان مزید محبت پیدا ہوچنانچہ مسند احمد کی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے کہ ’’حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ ” جاؤ اور اسے بتادو کہ تم اس سے محبت کرتے ہو ، تم دونوں کے درمیان محبت مزید پختہ ہوجائے گی ۔ ‘‘ ( [2] )
جس کے ساتھ محبت اسی کے ساتھ حشر :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! جو شخص دنیا میں جس سے محبت کرتا ہوگا کل بروزِ قیامت اس کا حشر اسی کے ساتھ ہوگا ۔ اگر نیک لوگوں سے محبت کرتا ہوگا تو نیکوں کے ساتھ حشر ہوگا ، اگر برے لوگوں سے محبت کرتا ہوگا تو اس کا حشر برے لوگوں کے ساتھ ہوگا ۔ جس کا حشر اچھے لوگوں کے ساتھ ہوگا یقیناً کل بروزِ قیامت اسی کو فائدہ ہوگا اور وہ نجات پائے گا ۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے جب وہ صحابی اپنے اس مسلمان بھائی کو اپنی محبت کا اظہار کرکے واپس بارگاہ رسالت میں آئے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے ارشاد فرمایا : ’’تو اسی کے ساتھ ہوگا جس سے تو محبت کرتا ہے ۔ ‘‘ ( [3] )
یَااللہ عَزَّ وَجَلَّ ! ہم تجھ سے محبت کرتے ہیں ، تیرے تمام انبیائے کرام عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے محبت کرتے ہیں ، تیرے پیارے حبیب ، حبیب لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محبت کرتے ہیں ، تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے محبت کرتے ہیں ، اہل بیت عظام سے محبت کرتے ہیں ، اُمہاتُ المؤمنین سے محبت کرتے ہیں ، حسنین کریمین سے محبت کرتے ہیں ، تابعین ، تبع تابعین سے محبت کرتے ہیں ، چاروں ائمہ کرام سے محبت کرتے ہیں ، غوثِ اعظم سے محبت کرتے ہیں ، داتا گنج بخش ، خواجہ غریب نواز ، اعلی حضرت ، امیر اہلسنت اور تیرے دیگر پسندیدہ بندوں اور تمام نیک لوگوں سے محبت کرتے ہیں ۔ تو ہمارا حشر بھی ان تمام مقدس ہستیوں کے ساتھ فرما ، ہمیں ان کی شفاعت نصیب فرما ، جنت میں بھی ہمیں ان کا پڑوس نصیب فرما ۔
مدنی گلدستہ
’’محبت حق ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1) حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُمَّت کے تمام اَحوال سے واقف ہیں لیکن صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بہترین راہنمائی کے لیے اپنی چھوٹی سی چھوٹی بات اور ذاتی اُمور بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بتادیا کرتے تھے ۔
(2) سرکارِ دوعالَم ، نورِمجسمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی اُمَّت پر کمال مہربان ہیں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی ہر ہر معاملے میں راہنمائی فرمایا کرتے تھے ۔
(3) جب کوئی شخص کسی اچھی بات کا اظہار کرے تو اسے اچھا مشورہ دینا چاہیے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع